۳۔ ہڈیوں پر گوشت کا غلاف
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ۱۲ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ۱۳ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ۱۴ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ۱۵ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ۱۶
اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے. پھر اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بناکر رکھا ہے. پھر نطفہ کوعلقہ بنایا ہے اور پھر علقہ سے مضغہ پیدا کیا ہے اور پھر مضغہ سے ہڈیاں پیدا کی ہیں اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ہے پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے. پھر اس کے بعد تم سب مرجانے والے ہو. پھر اس کے بعد تم روز هقیامت دوبارہ اٹھائے جاؤ گے.
زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں تفسیر ”فی ظلال القر آن“ کا موٴلف ایک مراحل سے گزر جاتا ہے تو اس کے تمام سیل ہڈیوں کے خلیوں میں تبدیل ہوتے ہیں اور اس کے بعد تدریجاً سائنسی معجزہ ہے جو ایسے مسئلہ کی نقاب کشائی کررہا ہے جو اس زمانے میں کسی کو معلوم ہی نہیں تھا، کیونکہ قرآن مجید یہ نہیں کہتا کہ ہم نے ”مضغہ“ کو ہڈی اور گوشت میں بدلا، بلکہ یہ کہتا ہے کہ ”مضغہ“ کو ہڈی بنایا، پھر اس پر گوشت کا غلاف چڑھایا، گویا واضح کررہا ہے کہ ”مضغہ“ پہلے ہڈی میں تبدیل ہوتا ہے اور اس کے بعد اس پر گوشت کی تہ چڑھتی ہے ۔