Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ رحم مادر میں انسان کی ارتقاء کا آخری مرحلہ

										
																									
								

Ayat No : 12-16

: المؤمنون

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ۱۲ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ۱۳ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ ۚ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ۱۴ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ۱۵ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ ۱۶

Translation

اور ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے. پھر اسے ایک محفوظ جگہ پر نطفہ بناکر رکھا ہے. پھر نطفہ کوعلقہ بنایا ہے اور پھر علقہ سے مضغہ پیدا کیا ہے اور پھر مضغہ سے ہڈیاں پیدا کی ہیں اور پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ہے پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے. پھر اس کے بعد تم سب مرجانے والے ہو. پھر اس کے بعد تم روز هقیامت دوبارہ اٹھائے جاؤ گے.

Tafseer

									توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ زیرِ بحث آیت میں رحم میں انسان کی خلقت کے پانچ مراحل کا ذکر ”خلق“کے ساتھ کیا گیا ہے، مگر آخری مرحلے کو ”انشاء“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، ماہرین لغت کے بقول ”کسی چیز کو ایجاد کرنے کے ساتھ ساتھ اُسے پالنے کو“ کو انشاء کہتے ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آخری منزل تمام مراحل (نطفہ، علقہ، مضغہ ہدی اور گوشت کے غلاف) سے مکملطور پر مختلف ہے، یہ ایک اہم مرحلہ ہے کہ جس کے بارے میں قرآن مجید اجمالی طور پر صرف یہ کہہ رہا کہ پھر ہم نے ایک ایک نئی خلقت دی اور اس کے بعد فوراً پکار اُٹھتا ہے ”فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ“
یہ کیسی منزل ہے کہ جو اس قدر اہمیت کی حامل ہے، یہ وہی مرحلہ ہے جب بے جان ”جنین“ زندگی سے ہم کنار ہوتا ہے، اس میں حرکت اور احساس پیدا ہوتا ہے، جنبش کرتا ہے، اسلامی روایات میں اس مرحلے کو ”نفخ روح“ (روح پھونکے جانے کا مرحلہ) کہتے ہیں، یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک جست کے جماداتی اور نباتاتی زندگی سے حیواناتی اور اس سے بھی کہیں آگے انسانی زندگی میں قدم رکھتا ہے اور اس کا فاصلہ پہلے مراحل سے اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ”ثُمَّ خَلَقْنَا“ کے الفاظ اس کا مفہوم ادا کرنے سے کوتاہ دامنی کی شکایت کرنے لگتے ہیں لہٰذا ”ثُمَّ اٴَنشَاٴْنَا“ فرماکر اس منزل کی رفعت کو واضح کیا گیا ہے ۔
یہ وہ منزل ہے جہاں انسان ایک مخصوص ساخت اور پرداخت کا حامل ہوکر عالم میں مختار حیثیت حاصل کرلیتا ہے جس بناء پر یہ الله کی خلافت کا اہل بنتا ہے اور جو امانت آسمان اور پہاڑ نہ اٹھاسکے تھے اس کا قرعہ اس کے نام نکلتا ہے ۔
واقعی یہ وہ مقام ہے جہاں ”عالم کبیر“ اپنی تمام تر وسعتوں اور رفعتوں کے ساتھ اس ”عالم صغیر“ میں سمودیا جاتا ہے اور حقیقی معنی میں (فَتَبَارَکَ اللهُ اٴَحْسَنُ الْخَالِقِینَ) کا شاہکار قرار پاتا ہے ۔