Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ ”افلح“ کا مفہوم

										
																									
								

Ayat No : 1-11

: المؤمنون

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۱الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۲وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۳وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ۴وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۵إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ۶فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ۷وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ۸وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۹أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ ۱۰الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۱۱

Translation

یقینا صاحبانِ ایمان کامیاب ہوگئے. جو اپنی نمازوں میں گڑگڑانے والے ہیں. اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں. اور زکوِ ادا کرنے والے ہیں. اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں. علاوہ اپنی بیویوں اور اپنے ہاتھوں کی ملکیت کنیزوں کے کہ ان کے معاملہ میں ان پر کوئی الزام آنے والا نہیں ہے. پھر اس کے علاوہ جو کوئی اور راستہ تلاش کرے گا وہ زیادتی کرنے والا ہوگا. اور جو مومنین اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں. اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں. درحقیقت یہی وہ وارثان هجنتّ ہیں. جو فردوس کے وارث بنیں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں.

Tafseer

									فعل ماضی کا صیغہ ہے، مومنین کی حتمی کامیابی کے سلسلے میں ماضی کا استعمال تاکید کے مفہوم میں ہے، یعنی کامیابی اور فلاح اس قدر مسلمہ امر ہے، گویا پہلے ہی طے ہے، مزید برآں جملے کے آغاز ”قد“ کا استعمال تاکید مزید کے لئے ہے ”خاشعون“ ”معرضون“ ”راعون“ اور ”یحافظون“ جو ”اسم غاعل یا ”فعل مضارع“ کے صیغے ہیں، اس حقیقت کو ظاہر کررہے ہیں کہ مومنین کے یہ اعلیٰ اوصاف وقتی اور عارضی نہیں نہیں بلکہ مستقل ودائمی ہیں ۔