۲۔ دائمی اور کم مدتی شریکِ حیات
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ۱الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ۲وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ۳وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ ۴وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۵إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ۶فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ۷وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ ۸وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۹أُولَٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ ۱۰الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۱۱
یقینا صاحبانِ ایمان کامیاب ہوگئے. جو اپنی نمازوں میں گڑگڑانے والے ہیں. اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں. اور زکوِ ادا کرنے والے ہیں. اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں. علاوہ اپنی بیویوں اور اپنے ہاتھوں کی ملکیت کنیزوں کے کہ ان کے معاملہ میں ان پر کوئی الزام آنے والا نہیں ہے. پھر اس کے علاوہ جو کوئی اور راستہ تلاش کرے گا وہ زیادتی کرنے والا ہوگا. اور جو مومنین اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کا لحاظ رکھنے والے ہیں. اور جو اپنی نمازوں کی پابندی کرنے والے ہیں. درحقیقت یہی وہ وارثان هجنتّ ہیں. جو فردوس کے وارث بنیں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں.
مذکورہ بالا آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں پر دو طرح سے حلال ہیں:
۱۔بیوی کی صورت میں
۲۔کنیز اور لونڈی کی صورت میں (خاص شرائط کے ساتھ)
اس لئے یہ آیت فقہی کتاب میں ”باب نکاح“میں کئی مباحث کے لئے مستند قرار پائی ہے ۔
بعض اہل سنّت مفسرین نے کوشش کی ہے کہ اس آیت کو نکاح موقت کی نفی اور اسے زنا ہی کے ذیل میں ثابت کرنے کے لئے سند کے طور پر پیش کریں ۔
یہ حقیقت ہے کہ نکاح موقت متعہ مسلّمہ طور پر پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے زمانے میں رائج تھا، بعض کہتے ہیں کہ آغاز اسلام میں بہت سے صحابہۻ نے اس پر عمل کیا تھا، اور کوئی مسلمان اس کی صحت سے انکار نہیں کرتا، زیادہ سے زیادہ اس میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں رائج تھا، مگر بعد میں منسوخ کردیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے اسے حرام قرار دیا ۔
اس مسلّمہ حقیقت کے پیش نظر مذکورہ اہلِ سنّت کے نظرئیے کا یہ مفہوم سمجھا جائے گا (العیاذ بالله) پیغمبر اکرم صلی الله عیہ وآلہ وسلّم نے زنا کو جائز جانا (چاہے تھوڑی سی مدّت کے لئے یہی سہی)مگر یہ ناممکنات میں سے ہے کہ بہرحال اس بحث سے قطعِ نظر غور کیجئے کہ حقیقت یہ ہے کہ ”متعہ“ بھی نکاح کا ایک طریقہ ہے اور اس کی اکثر شرائط وہی ہیں جو دائمی شادی کی ہیں اس لئے یہ بھی (الّا علیٰ ازواجھم) کے جملے میں شامل ہے، یہی وجہ ہے کہ ”کچھ مدتی شادی“ کا صیغہٴ نکاح پڑھتے ہوئے وہی الفاظ اور صیغے ”انکحتُ“ ”زوجّتُ“ کی قید کے ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں اور یہی اس کی حلّت اور جواز کی بہترین دلیل ہے ۔
اسی تفسیر کی جلد۳ میں سورہٴ نساء آیت ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نکاح موقت اسلام میں اس کا شرعی اس کا منسوخ نہ ہونا اور اس کا اجتماعی فلسفہ وغیرہ جیسے مسائل پر سیر کامل بحث کرچکے ہیں ۔