شان نزول
ذَٰلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوقِبَ بِهِ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللَّهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ۶۰ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ ۶۱ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ ۶۲
یہ سب اپنے مقام پر ہے لیکن اس کے بعد جو دشمن کو اتنی ہی سزادے جتنا کہ اسے ستایا گیا ہے اور پھربھی اس پر ظلم کیا جائے تو خدا اس کی مدد ضرور کرے گا کہ وہ یقینا بہت معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے. یہ سب اس لئے ہے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ بہت زیادہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے. یہ اس لئے ہے کہ خدا ہی یقینا برحق ہے اور اس کے علاوہ جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں اور اللہ بہت زیادہ بلندی والا اور بزرگی اور عظمت والا ہے.
شان نزول
بعض روایات کے مطابق محرم کا دن ختم ہورہا تھا اور صرف ایک دوراتیں باقی تھیں مشرکین نے باہم صلاح مشورہ کیا۔ کہ محمدؐ کے اصحاب اور ساتھی اس مہینے میں جنگ نہیں
کرتے۔ کیونکہ وہ اسے حرام سمجھتے ہیں ۔ لہذا آؤ ان بر حملہ کرکے انھیں ختم کردیں ۔ چنانچہ انھوں نے حملہ کردیا۔ مسلمانوں نے پہلے اپیل کی کہ اس مقدس مہینے میں جنگ نہ کی جائے ۔مگر جب
کفارکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو مسلمانوں نے ڈٹ کر دفاع کیا اور اللہ نے ان کو فتح دی ۔ اس کے بعد زیر بحث پہلی آیت نازل ہوئی۔ ؎1
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، اور درمنشور زیربحث آیت کی تفسیر کے ذیل میں۔