جہاد کا پہلا حکم
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ۳۹الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ۴۰الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ ۴۱
جن لوگوں سے مسلسل جنگ کی جارہی ہے انہیں ان کی مظلومیت کی بنائ پر جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے اور یقینا اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھنے والا ہے. یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے بلا کسی حق کے نکال دیئے گئے ہیں علاوہ اس کے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور اگر خدا بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ نہ روکتا ہوتا تو تمام گرجے اور یہودیوں کے عبادت خانے اور مجوسیوں کے عبادت خانے اور مسجدیں سب منہدم کردی جاتیں اور اللہ اپنے مددگاروں کی یقینا مدد کرے گا کہ وہ یقینا صاحبِ قوت بھی ہے اور صاحبِ عزّت بھی ہے. یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کیً اور زکوِٰ ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے.
تفسیر
جہاد کا پہلا حکم
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب مسلمان مکّہ میں تھے تو اکثر مشرکین مکّہ کے ظلم وستم کا نشانہ بنتے تھے، بڑی تکالیف اور اذیتیں اٹھاتے تھے اور جب کبھی مارپیٹ کے بعد رنجیدہ خاطر ہوکر بارگاہ رسول میں آتے اور مظالم کے خلاف شکایت کرتے اور جہاد کی اجازت مانگتے) تو رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے، صبر کرو اور ابھی مجھے جہاد کا حکم نہیں دیا گیایہاں تک کہ مسلمانوں نے مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی تو مذکورہ بالا آیت نمبر۳۹ جو جہاد کی اجازت لئے ہوئے ہے نازل ہوئی ۔
چنانچہ جہاد کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت ہے ۔(۱)
اگرچہ اس کے حکم جہاد کے لئے پہلی ہونے کے بارے میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے، بعض اسے پہلی آیت گردانتے ہیں اور بعض سورہٴ بقرہ کی آیت <وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ(بقرہ/۱۹۰) کو پہلی آیت قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض مفسرین سورہٴ توبہ کی آیت <إِنَّ اللهَ اشْتَریٰ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَھُمْ وَاٴَمْوَالَھُمْ(توبہ/۱۱۱) کو اس سلسلے کی پہلی آیت سمجھتے ہیں ۔(2)
لیکن ”اذن جہاد “ کے موضوع کی مناسبت سے یہ آیت کا لب ولہجہ زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ لفظ ”اذن“ کا قرینہ صراحت کے ساتھ اجازت دے رہا ہے، جبکہ یہ قرینہ مذکورہ بالا باقی دو آیتوں میں نہیں ہے، بالفاظ دیگر اس آیت کی تعبیر اس خاص موضوع کے بارے میں ہے ۔
بہرحال اگر گذشتہ آخری آیت جس مومن کے دفاع اور حمایت کا وعدہ دیا گیا ہے، کو ذہن میں رکھا جائے تو زیرِ بحث آیت کا اس سے تعلق خاصّہ واضح معلوم ہوتا ہے، زیرِ نظر پہلی آیت میں میں فرمایا جارہا ہے: الله ان لوگوں کو جن پر جنگ ٹھونسی گئی، جہاد کی اجازت دی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے(اٴُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِاٴَنَّھُمْ ظُلِمُوا) ۔
اس کے بعد قادر وطاقتور خدا کی طرف سے کامیابی کے وعدے کے ساتھ اذن جہاد کی تکمیل کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے: الله ان کی مدد ونصرت پر قادر ہے (وَإِنَّ اللهَ عَلیٰ نَصْرِھِمْ لَقَدِیرٌ) ۔
ہوسکتا ہے اس جملے سے جو خدائی طاقت وقوت کے ساتھ نصرتِ الٰہی کی ضمانت دے رہا ہے، اس طرح اشارہ ہو کہ خدائی مدد اس وقت میسّر ہوگی مقدر بھر دفاع کے لئے تیار ہوجاوٴگے تاکہ یہ گمان نہ ہوجائے کہ گھر بیٹھے الله مدد کرے گا، بہ الفاظ دیگر عالمِ اسباب میں سے جو بھی میسّر ہے اسے کام میں لایا جائے اور تمھاری قوت ختم ہوجائے تو مایوس ہونے کے بجائے الله قادر کی نصرت کے منتظر رہو یہی، وہ کلیہ تھا جسے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے تمام غزوات وسرایا میں عملی طور پر اپنایا اور کامیاب رہے ۔
اس کے بعد ان مظلوموں کی حالتِ زار کی مزید وضاحت کی گئی ہے جن کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے اور جہاد سے متعلق اسلامی نقطہٴ نظر کو واضح کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے: وہی لوگ جو ناحق اپنے گھر بار چھوڑکر نکل جانے پر محبور کردیئے گئے ہیں (الَّذِینَ اٴُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ) ۔
ان کا قصور سوائے اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا پروردگار صرف الله ہے (إِلاَّ اٴَنْ یَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ) ۔
کھلی سی بات ہے کہ خداتعالیٰ کی توحید ویگانگت کا اقرار گناہ نہیں بلکہ مایہٴ ناز ہے، یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کی بنیاد پر مشرکین کو یہ حق مِل جائے کہ وہ انھیں ان کے گھروں اور علاقوں سے نکال باہر کریں اور مکّے سے مدینے کی طرف ہجرت پر مجبور کردیں ۔
آیت نے اس مفہوم کے بیان میں تعبیر استعمال کی ہے وہ ایسے مواقع پر مدّمقابل کوو محکوم ومغلوب کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ بعض اوقات ہم خدمت ونعمت پر ناشکری کرنے والے شخص کے لئے یوں کہتے ہیں (ہمارا گناہ صرف یہ تھا کہ ہم نے تیری خدمت کی) مخاطب کے بے خبری کے اظہار کے لئے یہ لطیف کنایہ ہے، جس نے خدمت کے بدلے ایسا رویہ اختیار کیا جو کسی جرم کے جواب میں روا رکھا جاتا ہے ۔(3)
اس کے بعد حکم جہاد کے فلسفے اور مصلحت کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح ارشاد ہوتا ہے: اگر الله مومنین کا دفاع نہ کرے اور جہاد کی اجازت نہ دے کر بعض کو بعض کے ذریعے مغلوب نہ کرے تو دیر، گرجے یہود ونصاریٰ کے عبادت خانے اور مساجد کہ جن میں کثرت سے الله کا ذکر ہوتا ہے، ویران ہوجائیں (وَلَوْلَادَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیھَا اسْمُ اللهِ کَثِیرًا) ۔
بیشک اگر صاحبان ایمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں، ظالموں، جابروں اور بے ایمان دنیا پرستوں کی تابہ کن کارستانیوں کے مقابلے میں خاموش تماشائی بنے رہیں اور انھیں کھل کر کھیلنے کی کھلی چھٹی دیتے رہیں، تو یقیناً وہ معابد اور عبادتگاہوں کا نام ونشان تک نہ چھوڑریں کیونکہ معابد وعبادتگاہیں، بیداری کی درسگاہیں ہیں، محرابِ عبادت میدان جنگ ہے اور مسجد سرکشوں کے خلاف مورچہ ہے، دراصل ہر قسم کی خدا پرستی کی دعوت ان کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، کیونکہ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی طرح خود ان کی پرستش کی جائے، چنانچہ اگر انھیں موقع ملے تو پرستی کے تمام مراکز کا مسمار کردیں جہادکا حکم دینے اور جنگ جہاد کی اجازت دینے کا یہ ایک مقصد بیان کیا گیا ہے ۔
”صوامع“ ”بیع“ صلوات اور مساجد میں فرق سے متعلق مفسرین میں اختلاف ہے، لیکن جو بات زیادہ صحیح نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ ”صوامع“ ”صومعہ“ کی جمع ہے، یہ اس جگہ کو کہتے ہیں جو عام طور پر شہروں کے باہر لوگوں کے شور وغل سے دور تارک الدنیا زاہدوں اور عبادت گذاروں کے لئے بنائی جاتی ہے، فارس میں اسے ”دیر“ کہتے ہیں، یاد رہے کہ ”صومعہ“ اس عمارت کو کہتے ہیںجس کا اُوپر کا حصّہ ایک دوسرے سے ملحق ہوتا ہے، ظاہراً اس سے چوکور گلدستوں کی طرف سے اشارہ ہے جو راہب لوگ اپنے دیروں کو سجانے کے لئے بناتے ہیں ۔
”بیع“ بیعة“ کی جمع ہے، اس سے مراد عیسائیوں کی عبادتگاہ یعنی گرجا ہے ”صلوات“ صلوٰة“ کی جمع ہے، یہ لفظ یہودیوں کی عبادتگاہوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، ”مساجد“ ”مسجد“ کی جمع ہے، جو مسلمانوں کی عبادتگاہ ہے اور دوسری تارکین دُنیا کی، نیز ”بیع“ کو عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کی عبادتگاہوں کے لئے لفظ مشترک سمجھاجاتا ہے ۔
حتمی طور پر یہ بھی ذکر ہوجائے کہ جملہ ”یُذْکَرُ فِیھَا اسْمُ اللهِ کَثِیرًا“ (کثرت سے ذکرِ خدا کیا جاتا ہے) مساجد کی تعریف میں آیا ہے، کیونکہ جملہ مذاہب کے تقابلی جائزے کے مطابق مسلمان ہر روز پانچ مرتبہ سال بھر عبادت کرتے رہتے ہیں اور یوں مسلمانوں کے عبادتی مراکز سب سے زیادہ بارونق رہتے ہیں، جبکہ بہت سے دوسرے مذاہب کے عبادتی مراکز ہفتے میں ایک بار یا سال بھر میں چند مخصوص ایّام میں استعمال میں آتے ہیں ۔
آخر میں ایک بار پھر خدائی مدد کے وعدے کا اعادہ کیا جارہا ہے: یقیناً الله ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں اس کے دین اور عبادتگاہوں کا دفاع کرتے ہیں (وَلَیَنصُرَنَّ اللهُ مَنْ یَنصُرُہُ) ۔
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ خدا کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے کیونکہ وہ قادر اور ناقابل شکست ہے (إِنَّ اللهَ لَقَوِیٌّ عَزِیزٌ) ۔
یہ اس لئے فرمایا کہ توحید کے متوالے اور پاسدار کہیں یہ تصور نہ کربیٹھیں کہ وہ رزم حق وباطل اور طاقتور دشمنوں کے نرغے میں اکیلے اور بے سہارا ہیں، اسی وعدے کے پرتو میں اکثر مسلمان مجاہدوں نے باوجوود اس کے کہ تعداد اور آلاتِ حرب وضرب کے لحاظ کفار کے مقابلہ میں کہیں کم تھے، زبردست اور شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کامیابیوں کی وجہ سے غیبی نصرت الٰہی کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے، زیرِ بحث آخری آیت جو الله کے یاوران وناصرین کی تفصیل بیان کررہی ہے گذشتہ آیت میں مدد کا وعدہ کیا گیا تھا ۔
ان کی یوں تعریف کی گئی ہے: وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب زمین پر ہے ان کو صاحب اقتدار بناتے ہیں، وہ نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں (الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاھُمْ فِی الْاٴَرْضِ اٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوْا الزَّکَاةَ وَاٴَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَوْا عَنْ الْمُنْکَرِ) ۔
وہ کامیابی کے بعد سرکشوں، متکبروں اور ظالموں کی طرح کبھی داد عیش نہیں دیتے، نہ لہو ولعب میں زندگی ضائع کرتے ہیں اور نہ نشہٴ اقتدار سے بدمست ہوتے ہیں، بلکہ وہ کامیابیوں، کامرانیوں اور اس توفیقِ خاص کو اپنی اور معاشرے کی اصلاح وتعمیر وترقی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں وہ حکومت حاصل ہونے کے بعد خدا کے خلاف ایک اور طاغوتی طاقت بن کر نہیںابھرتے بلکہ خداوندعزّجل اور اس کی مخلوق کے ساتھ ان کے روابط اور گہرے ہوجاتے ہیں، کیونکہ وہ نماز قائم کرتے ہیں، جو الله سے گہرے روابط کی علامت ہے، زکوٰة دیتے ہیں، جو حقوق بشر وخدمت خلق کی نشانی ہے، بھلائی کی ترغیب دے کر اور بُرائی کی حوصلہ شکنی کرکے صاف ستھرا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں، یہی چار صفات ان کے تعارف کے لئے کافی ہیں، انہیں کے زیرِ سایہ باقی عبادات اعمال صالح اور اچھے معاشرے کی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں اور فلاحی کام پروان چڑھتے ہیں ۔(4)
یاد رہے ”مکنّا“ ”تمکین“ کے مادہ سے ہے، جس کا مطلب وسائل وذرائع کی فراہمی ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ آلات ہوں یا کافی علم وآگاہی یا جسمانی توانائی ”معروف“ اچھے اور پسندیدہ امور کے معنی میں ہے اور ”منکر“ قبیح وناپسندیدہ اور باطل کے معنی میں کیونکہ اوّل الذکر ہر عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لئے جانا پہچانا ہے اور موخر الذکر اجنبی بیگانہ بالفاظ دیگر اوّل الذکر فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہے، جبکہ موخر الذکر خلاف فطرت، آیت کے آخر میں ارشاد ہورہا ہے: تمام کاموں کا انجام واختتام الله کے ہاتھ میں ہے (وَلِلّٰہِ عَاقِبَةُ الْاٴُمُورِ) ۔
جس طرح ہر کام، ہرکامیابی اور تسلط کی ابتداء ومنتہا الله کی طرف سے ہے، اسی طرح اس کا اختتام وانجام ونتیجہ کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے، کیونکہ ”اِنّا لِلّٰہِ واِنّا اٴلیہِ رَاجِعُون“۔
چند اہم نکات
۱۔ حکم جہاد کا فلسفہ
اگر گزشتہ صفحوں میں ہم نے اس مسئلہ پر خاصی بحث کی ہے(5) لیکن اس لحاظ سے کہ زیرِ بحث آیت میں ان پہلی آیات میں سے ہے جن میں مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی ہے اور ان آیتوں کا مضمون اوور مفہوم اس حکم کے فلسفے کے دو اہم اجزاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
2۔ ظالم وجابر کے خلاف مظلوم کا جہاد
بلاشبک وشبہ یہ مظلوم کا پیدائشی، فطری اور عقلی حق ہے کہ ظلم کے سنگ گراں کے نیچے پسنے کی بجائے ظالم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو، چیخ وپکار کرے، ہتھیار اُٹھائے، اس کو اس کے اصلی مقام تک پہنچائے اور اپنے حقوق کی جانب اُٹھنے والے اس کے ہاتھوں کو قطع کرے ۔
3۔ طاغوتی طاقتوں کے خلاف جہاد:
طاغوتی طاقتیں دلوں سے نامِ خدا کو نکالنے اور خدا کے ذکر وعبادت کے مراکز کو ویران اور برباد کردینا چاہتی ہیں، کیونکہ یہی عبادتگاہیں شعور وبیداری کے مراکز ہیں، لازم ہے کہ ان طاقتوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوجائے تاکہ وہ نامِ خدا کو محو نہ کرسکیں اور لوگوں کی سوچ پر پہرے بٹھاکر ان کو اپنا زرخرید غلام نہ بنالیں ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجّہ ہے کہ معابد ومساجد کو برباد کرنے کا صرف یہی طریقہ نہیں ہے کہ ان کی عمارات کو مسمار کردیا جائے بلکہ بالواسطہ ذرائع بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں اور منفی سرگرمیوں اور غلط پراپیگنڈے کے ذریعے سے عوام کو مساجد ومعابد سے بدظن کیا جاسکتاہے تاکہ وہ خود ہی مساجد ومعابد کا رُخ نہ کریں اور بارونق مساجد ویرانوں میں بدل جائیں ۔
بعض لوگ یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ اسلام نے دلیل ومنطق کی بجائے مسلح جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا طریقہ کیوںاختیار کیا ہے؟ اس کا جواب ہم گذشتہ سطور میں دے چکے ہیں، کیا وہ ظالم درندے جو صرف ”لاالٰہ الّا الله“ کہنے کے جرم میں لوگوں کو بے گھر اور دربدر کردیتے ہیں، ان کے سیاہ وسفید کے مالک بن جاتے ہیں ان پر طرح کا ظلم روا رکھنے کے لئے کسی قانون کی پاسداری نہیں کرتے، کیا ایسے بے منطق وحشیوں کا مقابلہ طاقت کی زبان کے مذاکرات سے مسائل کا حل کیوں نہیں کرتے؟ جواباً عرض ہے، وہی اسرائیل جو غاصب وجارح ہے، جس نے تمام بین الاقوامی قوانین، عالمی اداروں کی تمام قراددیں اور تنبیہیں اور ہر قوم مذہب اور ملّت کے مسلّمہ انسانی حقوق کو پامال کردیا ہے، ایا وہ مذاکرات میں دلیل ومنطق کی زبان سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے! وہ اسرائیل جس نے ہزاروں بچّوں اور بوڑھوں، عورتوں، مردوں اور ہسپتالوں پر بمباری کرے، ان کو آگ بھٹی میں جھونک دیا، کیا اس پر مذاکرات کا کچھ اثر ہوسکتا ہے؟ اسی طرح کے اور لوگ جو عوام الناس کی بیداری اور شعور کے مراکز مساجد اور دیگر عبادتگاہوں، جن کو وہ اپنے غیرقانونی مفاد کے حُصول میں سدرہ سمجھتے ہیں، کو جیسے تیسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا اس قابل میں کہ ان کے ساتھ مصالحانہ رویہ اختیار کیا جائے؟
بہرحال نظریاتی مسائل سے قطع نظر اگر آج دُنیا کے مختلف معاشروں کی حقیقی کیفیت پر غور کریں اور ان پر ماضی قریب وبعید میں گزرنے والے واقعات پر نظر رکھیں تو یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ بعض حالات میں طاقت اور آلات حرب وضرب کا سہارا لینا گریز ہوجاتا ہے، اس لئے نہیں کہ دیل ومنطق میں کسی کا جھُول ہے، بلکہ ظالموں اور جابروں کو دلیل اور صحیح منطق کی طرف مائل کرنے کے لئے یقیناً جہاں کام دلیل وبرہان سے بنتا ہو وہاں منطق مقدم ہے ۔
4۔ الله نے کن لوگوں سے مدد کا وعدہ فرمایا ہے:
یہ نظریہ غلط ہے کہ مذکورہ بالا آیت یا دوسری آیتوں میں الله وہ قوانین اور ضابطہٴ آفرینش وفطرت کے خلاف ہے، یہ وعدہ صرف ان لوگوں سے کیا گیا ہے، جو مقدور بھر قوت وطاقت اور تمام وسائل کے ساتھ میدان میں آئیں اور آیت میں بھی یہی فرمایا گیا ہے:
”وَلَوْلَادَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ“
خدا جابر و ظالم طاقتوں کو (سوائے استثانائی اور معجزاتی حالات کے غیبی طاقتوں مثلاً صاعقہ اور ”زلزلہ“ سے ختم نہیں کرتا بلکہ؛ خالص اور سچّے مومنین کے ذریعے دور کرتا ہے ۔
ان سچّے مومنین کی مدد اور حمایت کی جاتی ہے، یہ اس لئے ہے کہ کہیں الله کے وعدے نہ صرف یہ مسلمانوں کی سستی، کاہلی اور عدمِ احساس ذمہ داری کا موجب بن جائیں، بلکہ حرکت، فعالیت اور حصولِ مقصد کے لئے تشویق وترغیب کا سبب بھی بنیں، البتہ اس صورت میں حتمی کامیابی کی ضمانت کی دی گئی ہے، یہ بھی یاد رہے کہ مومنین کا یہ طبقہ کامیابی سے پہلے ہی الله سے متمسک نہیں ہوتا، بلکہ کامیابی کے بعد بھی اس آیت ”الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاھُمْ فِی الْاٴَرْضِ اٴَقَامُوا الصَّلَاةَ“ کا مصداق بنتے ہوئے الله سے اپنا رابطہ مستحکم کرلیتا ہے اور دشمن پر کامیابی کو حق، انصاف اور شرافت کی ترویج کا ذریعہ بناتا ہے ۔
بعض روایات میں عمومی طور پر حضرات آلِ محمد امام مہدی(علیه السلام) کے انصار کو مندرجہ بالا آیت کا مصداق قرار دیا گیا ہے، مثلاً امام باقر علیہ السلام نے اسی آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا:
یہ آیت اوّل سے آخر آلِ محمد اور حضرت مہدی علیہ السلام کے انصار وجاں نثار کے بارے میں ناز ل ہوئی ہے ۔
”یملکھم الله مشارق الارض ومغاربھا، ویظھر الذین، ویمیت الله بہ وباصحابہ البدع والباطل کما اٴمات الشقاة الحق، حتّیٰ لایریٰ اٴین الظلم، ویاٴمرون بالمعروف وینھون عَنِ المنکر“
”الله زمین کے مشرق ومغرب کو ان کی حکمرانی میں دے دے گا، اپنے دین کو غالب قرار دے گا، امام مہدی اور آپ کے اصحاب کے ذریعے بدعت اور باطل کو اسی طرح ملیا میٹ کردے گا، جس طرح غاصبوں نے حق کو کیا تھا اور دُور دُور تک کہیں ظلم کا نام ونشان تک نہ ملے گا (کیونکہ) وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کریں گے ۔(6)
اس سلسلے میں اور احادیث بھی روایت کی گئی ہیں، لیکن یاد رہے کہ ایسی روایات ہمیشہ آیت کے اعلیٰ اور نمایاں مصادیق کا ذکر کرتی ہیں، آیت کے عام مفہوم پر ہرگز اثر انداز نہیں ہوتیں، اس بناء پر اس آیت کا وسیع تر مفہوم تمام صاحبانِ ایمان مجاہدوں اور مومنین کو دامن میں لئے ہوئے ہے ۔
5۔ ”محسنین“ ”مخبتین“ اور الله کے انصار
مندرجہ آیات اور ان سے پہلے کی آیات کہتی ہیں کہ ”محسنین“ کو خوشخبری سنا دو اور بعد ازاں ان کا تعارف صاحبانِ ایمان اور کفران نعمت نہ کرنے والوں حیثیت سے کرواتی ہیں اور کبھی ”مخبتین“ (عجز وانکساری کرنے والے) کے طور پر اُن کا ذکر کیا ہے اور انھیں ذکر خدا کے موقع پر خوفِ خدا سے لرزاں اور مصائب وشدائد کے مواقع پر صبر وتحمل کے پیکر بننے والے، نماز قائم کرنے والے اور اپنے خدا داد وسائل ونعمات میں بندگانِ خدا شریک کرنے والے، کہہ کر پیش کیا گیا ہے، آخر میں ”الله کے انصار“ کا یوں تعارف کرایا جاتا ہے کہ وہ غالب آنے کے بعد گھمنڈ، غرور اور تکبر کی بجائے تواضع وعاجزی کی روش اختیار کرتے ہوئے نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں ۔اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے ہیں، اگر ان آیتوں کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مندرجہ بالا خصوصیات کے حامل سچّے اور خالص مومن وہ ہیں جو ایک طرف نظریات، اعتقادات اور احساس کی ذمہ داری کے اعتبار سے بہت مضبوط اور دوسری طرف میدان عمل میں خالق ومخلوق دونوں کے تمام حقوق پُوری طرح ادا کرتے ہیں، بدعنوانیوں اور برائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور ہر قسم کی مشکلات ومصائب کا مقابلہ پامردی اور استقامت سے کرتے ہیں ۔
۱۔ تفسیر مجمع البیان اور تفسیر کبیر ا زفخر الدین رازی ، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
2۔ المیزان، ج۱۴، ص۴۱۹
3۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں استثناء، استثناء متصل ہے، البتہ کنائی معنی میں اور ادعائی موضوع کی نسبت سے (قابل غور ہے) ۔
4۔ امربالمعروف ونہی عن المنکر کی اہمیت اور ان سے متعلق بقیہ مسائل اور اس سلسلے اٹھنے والے جملہ سوالات کے جوابات تفصیل کے ساتھ سورہٴ آل عمران آیہ۱۰۴ کے ذیل میں جلد۳، میں بیان کئے جاچکے ہیں ۔
5۔ سورہٴ بقرہ، آیت۱۹۳ کی تفسیر کے ذیل میں ج۲، میں مفصل بحث کی گئی ہے ۔
6۔ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۰۶، بحوالہٴ تفسیر علی بن ابراہیم۔