سورہ انبیاء / آیه 105 - 112
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ۱۰۵إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ ۱۰۶وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ۱۰۷قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۱۰۸فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۖ وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ ۱۰۹إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ ۱۱۰وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۱۱۱قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ۱۱۲
اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے. یقینا اس میں عبادت گزار قوم کے لئے ایک پیغام ہے. اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے. آپ کہہ دیجئے کہ ہماری طرف صرف یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہے تو کیا تم اسلام لانے والے ہو. پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تم سب کو برابر سے آگاہ کردیا ہے .اب مجھے نہیں معلوم کہ جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے. بیشک وہ خدا ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ لوگ چھپارہے ہیں. اور میں کچھ نہیں جانتا شاید یہ تاخیر عذاب بھی ایک طرح کا امتحان ہو یا ایک مدّت معین تک کا آرام ہو. پھر پیغمبر نے دعا کی کہ پروردگار ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا رب یقینا مہربان اور تمہاری باتوں کے مقابلہ میں قابل استعانت ہے.
(105) وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُـوْرِ مِنْ بَعْدِ الـذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُـهَا عِبَادِىَ الصَّالِحُوْنَ
(106) اِنَّ فِىْ هٰذَا لَبَلَاغًا لِّقَوْمٍ عَابِدِيْنَ
ترجمہ
(105) ہم نے ذکر (تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ میرے صالح بندے زمین (کی حکومت) کے وارث ہوں گے۔
(106) اس میں عبادت گزاروں کے لیے ایک روشن ابلاغ ہے۔