Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3- صالحین کی حکومت ایک قانون آفرینش ہے

										
																									
								

Ayat No : 104

: الانبياء

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۰۴

Translation

اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں.

Tafseer

									 3- صالحین کی حکومت ایک قانون آفرینش ہے : 
 اگرچہ یہ بات ان لوگوں کے لیے کہ جنہوں نے زیادہ تر ظالموں ، جابروں اور سرکشوں کی حکومتوں کو ہی دیکھا ہے ، اس حقیقت کو آسانی کے ساتھ قبول کرنا مشکل ہے کہ یہ سب 

حکومتیں قوانین جہان خلقت کے بر خلاف ہیں اور جو ان قوانین سے ہم آہنگ ہے وہ صرف صاحب ایمان صالحین کی حکومت ہے۔
 لیکن منطق اور فلسفی تجزیوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے . لہذا " ان الارض يرثها عبادي الصالحون" کا جملہ اس سے پہلے کہ ایک خدائی وعدہ ہو ایک قانون تکوینی 

بھی شمار ہوتا ہے۔
 اس کی وضاحت ہے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے جہان ہستی مختلف نظاموں کامجموعہ ہے۔ اس پورے عالم میں منظم اور عموی قوانین کا وجود اس نظام کی یگانگت اور بہم پیوستگی 

دلیل ہے۔
 عالم آفریش کی وسعت میں نظم ، قانون اور حساب کا مسئلہ، اس عالم کے اساسی ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ مثلًا اگر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کئی سوطاقتور کمپیوٹر مل کر خلائی سفر 

کے لیے وقیق حساب کر رہے ہیں اور ان کے حسابات بالکل درست بیٹھتے ہیں اور چاند گاڑی اسی پہلے سے مقرر شده جگہ پر چاند میں جا اترتی ہے حالانکہ چاند اور زمین کا کرہ دونوں بڑی تیزی 

کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں تو ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہیئے کہ اس بات کا اس طرح ہونا ، نظام شمسی اور اس کے ستاروں اور چاند کے دقیق نظام کے ماتحت ہونے کا مرہون منت ہے 

کیونکہ اگر وہ ایک سیکنڈ کے سویں حصے کے برابر بھی اپنی منظم رفتار سے ممحرف ہوجائے ، توکچھ معلوم نہیں کہ خلائی مسافر کسی مقام پر جا پڑتے۔
 اب ہم اس بڑے جہاں سے چھوٹے عالم اور اس سے چھوٹے اور بہت ہی چھوٹے عالم میں آتے ہیں ۔ یہاں پر خاص طور سے زندہ موجودات میں ایک نمایاں نظم موجود ہے اور اس میں 

حرج و مرج کی کوئی گنجائش نہیں ہے مثلًا انسان کے دماغ کے ایک خلیے کی تنظیم کی خرابی اس بات کے لیے کافی ہے کہ اس کی زندگی کے تمام نظام کو بگاڑ دے۔  
 اخباروں میں ایک دفعہ یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک نوجوان طالبعلم کو ٹریفک کا حادثہ پیش آیا تھا۔ اس میں وہ شدید دماغی وہ دھچکے کا شکار ہوا تھا اور تقریبًا اپنی تمام گزشتہ باتوں 

کو بھول گیا۔ جبکہ وہ دوسری طرف ، ہر طرف صحیح و سالم تھا - اخبارات نے لکھا کہ وہ اپنے بھائی اور بہن کو بھی نہیں پہچانتا اور جب اس کی ماں اسے اپنی آغوش میں لے کر پیار کرتی ہے تو 

وہ گھبراتا ہے کہ یہ اجنبی عورت میرے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ اسے اس کمرے میں لے جایا گیا کہ جہاں وہ پل کر بڑا ہوا ہے، وہاں وہ اپنے دستی کاموں اور اپنی کھینچی 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    ان جملوں کو عمومًا کتب عہد عتیق کے فارسی ترجمہ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو 1878 ء میں کلیسا کی معروف شخصیات کی زیر نگرانی شائع ہوا۔ برطانیہ میں ان شخصیات نے دوسرے 

ممالک کو بھیجنے کے لیے کتب مقدسہ کے ترجمے تھے .
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہوئی تصویروں کو دیکھتا ہے ، لیکن کہتا ہے کہ میں اس قسم کے کمرے اور تصویروں کو ایک مرتبہ دیکھ رہا ہوں ، شاید وہ یہ سوچتا ہے کہ وه کسی دوسرے کرہ سے اس کرہ میں اتر آیا ہے کیونکہ 

تمام چیزیں اس کے لیے نئی ہیں۔ 
 شاید اس کے دماغ کے کروڑوں سیلوں میں سے چند ارتباطی سیل کہ جو گزشتہ کو حال سے ملاتے ہیں بیکار ہوگئے تھے لیکن اس بندی کرکے خراب ہونے نے کیا وحشتناک اثردکھایا۔
 تو کیا انسانی معاشره "لانظام"  حرج و مرج ، ظلم وستم ، اور ناہنجاری کو انتخاب کرکے ، اپنے آپ کو جہان آفرنیش کے اس عظیم سمندر سے الگ کرسکتا ہے؟ کہ جس میں سب کے 

سب منظم پروگرام کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
 کیا جہان کی وضع عمومی کا مشاہدہ ہمیں یہ سوچنے پرمجبور نہیں کرتا کہ بشریت بھی خوامخواہ عالم ہستی کے نظام کے سامنے سرتسلیم خم کرے اور منظم اور عادلانہ نظام کو 

قبول کرے ، اپنی اصلی راہ کی طرف پلٹ آئے اور اس نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے ؟!
 ہم ہر انسان کے بدن کی گوناں گوں اور پیچیده مشین کی ساخت پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔ دل و دماغ سے لے کر آنکھ کان زبان یہاں تک کہ بال کی ایک جڑ کو دیکھتے ہیں ، یہ سب کے 

سب قوانین نظم اور ایک حساب کے تابع ہیں ، تو اس حالت میں انسانی معاشرہ ضوابط و قوانین اور صحیح عادلانہ نظام کی پیروی کے بغیر کس طرح برقرار رہ سکتا ہے؟
 ہم بقائے بشریت کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے سعی و کوشش کرتے ہیں۔ البتہ ابھی تک ہمارے معاشرے کی سطح آگاہی اس حد تک نہیں پہنچی ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ موجودہ راہ 

دورش کو جاری رکھنے کا انجام ہماری فنا اور نابودی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ ادراک اور شعور فکری ہمیں حاصل ہوجائے گا۔
 ہم اپنے مفادات کے خواہاں تو ہیں لیکن ابھی تک ہم یہ نہیں جانتے کہ موجودہ حالت کو برقرار رکھنا ، ہمارے مفادات کو برباد کر رہا ہے۔ البتہ آہستہ آہستہ جب ہم بیدار ہوں گے اور 

اسلحہ سازی پر غور کریں گے تو ہم دیکھیں گے کہ عالمی معاشروں کی آدھی فعال ترین فکری اور جسمانی قوتیں اور عالمی سرمائے کا آدھا حصہ اس راستے میں رائیگاں جارہا ہے۔ نہ صرف رائیگاں 

جا رہا ہے بلکہ دوسرے آدھے کو نابود کرنے کے کام میں لایا جارہا ہے۔
 سطح آگاہی بلند ہوگی تو ہم واضح طور پر جان لیں گے کہ ہمیں عالم ہستی کے عمومی نظام کی طرف پلٹنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہم آواز ہونا چاہیئے۔
 اور جس طرح سے کہ ہم واقعی طور پر اس کل کی ایک جز ہیں ، عملی طور پر بھی ہمیں ایسا ہی ہونا چاہیئے تاکہ ہم تمام مسائل میں اپنے مقاصد تک پہنچ سکیں؟
 نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ جہان انسانیت میں نظام آفرینش ہی آئندہ زمانے میں ایک صحیح اجتماعی نظام کو قبول کرنے کے لیے ایک روشن دلیل بنے گا اور وہی چیز ہے کہ جو زیر بحث 

آیت اور "عالم کے مصلح عظیم" (مهدی ارواحنا فداه) کے قیام سے مربوط احادیث سے معلوم ہوتی ہے۔ ؎1
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ یہ بحث سال 1402 ھ  کے ماہ شعبان کی پندرہویں رات - جو ولادت باسعادت حضرت مہدی امام زمانہ (ارواحنالهالقد ابا) کی رات ہے ، کولکھی گئی ہے ہم کو 

اس بحث کو ایسےوقت میں لکھ رہے ہیں کہ ہمارے مسلمان بھائی خوشیاں منا رہے ہیں۔ ایک توحضرت مہدیؑ کے میلاد مسعود کی اور دوسری ان نمایاں کامیابیوں کی کہ جو لشکر اسلام کو محاز جنگ پر 

نصیب ہوئی ہیں اور ہم خوار ان کا ان سعادتوں کے ملاپ پر شکر ادا کرتے ہیں۔