عالمین کے لیے پیغمبر رحمت
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ ۱۰۵إِنَّ فِي هَٰذَا لَبَلَاغًا لِقَوْمٍ عَابِدِينَ ۱۰۶وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ۱۰۷قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۱۰۸فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ آذَنْتُكُمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۖ وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ مَا تُوعَدُونَ ۱۰۹إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ مِنَ الْقَوْلِ وَيَعْلَمُ مَا تَكْتُمُونَ ۱۱۰وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۱۱۱قَالَ رَبِّ احْكُمْ بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ۱۱۲
اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے. یقینا اس میں عبادت گزار قوم کے لئے ایک پیغام ہے. اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے. آپ کہہ دیجئے کہ ہماری طرف صرف یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا خدا ایک ہے تو کیا تم اسلام لانے والے ہو. پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ ہم نے تم سب کو برابر سے آگاہ کردیا ہے .اب مجھے نہیں معلوم کہ جس عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے وہ قریب ہے یا دور ہے. بیشک وہ خدا ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کا اظہار کیا جاتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کو یہ لوگ چھپارہے ہیں. اور میں کچھ نہیں جانتا شاید یہ تاخیر عذاب بھی ایک طرح کا امتحان ہو یا ایک مدّت معین تک کا آرام ہو. پھر پیغمبر نے دعا کی کہ پروردگار ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور ہمارا رب یقینا مہربان اور تمہاری باتوں کے مقابلہ میں قابل استعانت ہے.
تفسیر
عالمین کے لیے پیغمبر رحمت :
گزشتہ آیات صالح بندوں کو روئے زمین کی حکومت کی بشارت دے رہی تھیں ، اور اس قسم کی حکومت تمام جہانوں کے لیے باعث رحمت ہے ، اس لیے پہلی زیر بحث آیت میں وجود
پیغمبرؐ کے رحمت عامہ ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر عالمین کے لیے رحمت بناکر ( وما ارسلناك الا رحمة للعالمین)۔
دنیا کے سبھی لوگ خواہ وہ مومن ہوں یا کافر تیری رحمت کے ممنون ہیں کیونکہ تو نے ایسے دین و آئین کی ترویج اپنے ذمہ لی ہے کہ جو سب کی نجات کا سبب ہے۔ اب اگر کچھ
لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے اور کچھ نے نہیں اٹھایا ، تو یہ بات خود انہیں سے تعلق رکھتی ہے اور اس کا تیری رحمت کے عمومی ہونے پر کوئی اثر نہیں ہے ۔
یہ بالکل اسی طرح ہے کہ ایک ساز و سامان سے آراستہ ہسپتال تمام بیماریوں کے علاج کے لیے بنایا جائے جس میں ہر قسم کی دوائیاں اور ماہر طبیب اور ڈاکٹر موجود ہوں اور اس
کے دروازے سے تمام لوگوں کے لیے بالا کسی امتیاز کے کھول دیئے جائیں تو کیا یہ اس معاشرے کے تمام لوگوں کے لیے وسیلہ رحمت نہیں ہے؟ اب اگر بعض ہٹ درهم بیمار اس فیض عام کو خود
سے قبول کرنے سے انکار کر دیں تو اس مرکز شفا کے عمومی ہونے پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔
دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرمؐ کے وجود کا تمام جہانوں کے لیے رحمت ہونا تو فاعل کی فاعلیت سے مقتضی ہونے کا پہلو رکھتا ہے لیکن مسلمہ طور پر فعلیت تبھی تیجہ خیز ہے
جب قبول کرنے والے میں قبول کرنے کی قابلیت بھی ہو۔
"عالمین" کی تعبیر ایسا وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جس میں تمام ادوار کے تمام انسان شامل ہیں اسی لیے اس آیت کو پیغمبراسلامؐ کی خاتمیت کے لیے بھی اشارہ سمجھا گیا ہے کیونکہ
آپ کا وجود آئندہ کے تمام انسانوں کے لیے تمام کے اختتام تک رحمت ہے اور رہبر و پیشوا و مقتداء ہے اور ایک لحاظ سے تو یہ راحمت فرشتوں کے لیے بھی ہے۔
اس سلسلے میں ایک عمدہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ جو اس عمومیت کی تائید کرتی ہے ، حدیث یہ ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے جبرئیلؑ سے پوچھا :
هل اصابك من هذه الرحمة شيء
کیا اس رحمت کا کچھ فائدہ تمہیں بھی پہنچا:
تو جبرئیل نے جواب میں عرض کیا :
"اني كنت اخشى عاقبة الأمر، فامنت بک ، لما اثنى الله على بقوله
عند ذی العرش سكين"
میں اپنے انجام سے ڈرتا تھا لیکن ایک آیت کی وجہ سے کہ جو آپ پر قرآن میں نازل ہوئی ہے،
میں اپنی حالت سے مطمئن ہوگیا ہوں ، کیونکہ خدا نے میری اس جملہ کے ساتھ مدح کی ہے :
ذى قوة عند ذي العرش مكين (جبرئیل خدا کے ہاں کہ جو خالق عرش ہے بلند مقام و مرتبہ رہے)۔ ؎1
بہرحال موجودہ دنیا کہ جس کے در و دیوار سے فساد ، تباہی اور ظلم وستم کی بارش ہورہی ہے جنگوں کے شعلے ہر جگہ بھڑک رہے ہیں اور ظالم قوتوں کا چنگل مظلوم مستضعفین
کے گلے دبا رہا ہے ، اس دنیا میں کہ جس میں جہالت ، اخلاقی تباہی ، خیانت ظلم و استبداد طبقاتی تفاوت نے ہزاروں قسم کی مشکلات اور مصیبتیں پیدا کردی ہیں ہاں! ہاں! ایسے جہان میں پیغمبراکرم
کے "رحمۃ اللعالمین" ہونے کا مفہوم ہر دور سے زیادہ آشکار اور واضح ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا رحمت ہوگی کہ آپؐ ایک ایسا پروگرام لے کرآئے ہیں کہ جس پر عمل سے یہ تمام نامرادیاں ،
بدختیاں اور سیاہ کاریاں ختم ہوسکتی ہیں۔
ہاں! ہاں! وہ بھی اور ان کے احکام بھی ، آپؐ کا پروگرام اور آپ کا اخلاق بھی سب کے سب رحمت ہیں. ایسی رحمت کہ جو سب کے لیے ہے اور اس رحمت کی بقا و دوام کا نتیجہ تمام
کره زمین پر صاحبان ایمان صالحین کی حکومت ہوگا۔
اور چونکہ رحمت کا اہم ترین مظہر اور اس کی محکم ترین بنیاد مسئلہ توحید اور اس کے جلوے ہیں لہذا اگلی آیت میں فرمایا گیا : تم یہ کہہ دو کہ مجھ پر تو یہی وحی ہوئی ہے کہ
تمہارا معبود تو ایک ہی معبود ہے (قل انما يوحٰي الى انما الهكم اله واحد)تو کیا تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ اس بنیادی اصل یعنی توحید کے سامنے سر تسلیم خم کردو اور بتوں کو چھوڑ دو (فهل انتم
مسلمون)۔
درحقیقت اس آیت میں تین بنیادی نکات پیش کیے گئے ہیں :
پہلا نکتہ یہ ہے کہ رحمت کی حقیقی بنیاد توحید ہے اور سچ بات یہ ہے کہ ہم جتنا بھی غور و فکر کریں گے اتنا ہی یہ قوی رابطہ واضح تر اور روشن تر ہوتا جائے گا ۔ اعتقاد میں
توحید ، عمل میں توحید ، صفوں میں توحید ، قانون میں توحید ، غرضیکہ ہر چیز میں توحید .
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ لفظ "انما" کے تقاضے کے مطابق کہ جو حصر پر دلالت کرتا ہے، اسلام کے پیغمبر کی تمام دعوت " کا خلاصہ ، اصل توحید ہے . گہرا مطالعہ بھی اسی بات کی
نشاندہی کرتا ہے کہ اصول دین میں بلکہ فروع و احکام تک میں بھی آخرکار توحید ہی کی طرف لوٹتے ہیں اور اسی بنا پر ــــــ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔ توحید صرف اصول دین کی ایک اصل
ہی نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط دھاگے کی مانند ہے کہ جو تسبیح کے دانوں کو ایک دوسرے سے ملنا ہے یا زیاد صحیح الفاظ میں ایک روح ہے کہ جو دین کے بدن میں پھونکی کی گئی ہے۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ تمام معاشروں اور قوموں کی اصل مشکل مختلف شکلوں میں شرک سے آلودگی ہے۔ کیونکہ" فهل انتم مسلمون" (کیا اس اصل کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو) کا
جملہ سے بتاتا ہے کہ اصل مشکل شرک اور شرک کے مظاہر سے باہر آنا اور بتوں کو توڑنے کے لیے آستینیں چڑھانا ہے ، نہ صرف پتھر اور لکڑی کے بتوں، بلکہ ہرقسم کے بتوں، خصوصًا انسانی
طاغوتوں کو توڑنے کے لیے
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------
بعد والی آیت کہتی ہے کہ اگر ان تمام باتوں کے باوجود ہماری دعوت اور پیغام کی طرف توجہ نہ کریں اور روگردانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں تم سب کو یکساں طور پر عذاب
الہی کے خطرے سے آگاہ کرتا ہوں ( فان تولوا فقل اذ نتكم على سواء) ۔
"أذنت " مادہ "ایذان" سے خبردار کرنے کے معنی میں ہے جس کے ساتھ تہدید ہو موجود ہو اور بعض اوقات یہ لفظ اعلان جنگ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن چونکہ یہ
سورت مکہ میں نازل ہوئی تھی اور وہاں نہ تو جہاد کے لیے زمین ہموار تھی اور نہ ہی حکم جہاد نازل ہوا تھا ، لہذا یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے یہ جملہ بلکہ یہاں پر اعلان جنگ سے معنی میں ہو۔
بلکہ ظاہر ہے کہ پیغمبراکرمؐ اس بات سے چاہہہتے ہیں کہ ان سے اعلان نفرت و علیحدگی کریں.
"على سواء" کی تعبیر یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں خدا کی سزا اور عذاب کے خطرے سے تو سب کو یکساں طور پر خبردار کرتا ہوں تاکہ وہ یہ تصور نہ کرلیں کہ اہل
مکہ یا قریش اور دوسروں میں کوئی فرق ہے اور خدا کی بارگاہ میں انہیں کوئی بڑائی با برتری حاصل ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ میں اپنی آواز تم سب کے کانوں تک بغیر کسی استثناء
کے پہنچا چکا ہوں۔
پھر اسی تہدید کو اور زیادہ آشکار صورت میں بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے ، میں نہیں جانتا کہ عذاب کا وہ وعدہ کہ جو تم سے کیا گیا ہے ، قریب ہے یا دور : (وان ادري اقربي أم
بعيد ماتوعدون ).
یہ خیال کرنا کہ میں وعدہ دور ہے، شاید نزدیک ہو اور بہت ہی نزدیک ہو۔
یہ عذاب اور سزا کہ جس کی یہاں انہیں تہدید کی گئی ہے ، ممکن ہے کہ عذاب قیامت ہو یا دنیا کی سزا اور یا یہ دونوں ہی ہوں پہلی صورت میں اس کا علم خدا کے ساتھ مخصوص
ہے اور کوئی بھی شخص ٹھیک طور پر وقوع قیامت کی تاریخ سے آگاہ نہیں ہے حتٰی کہ خدا کے پیغمبر بھی۔
اور دوسری اور تیسری صورت میں ممکن ہے کہ اس کی جزئیات اور زمانے کے بارے میں اشارہ ہو ، کہ میں ان جزئیات سے آگاہ نہیں ہوں کیونکہ پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کا علم اس کے حادثات کے بارے میں ہمیشہ فعلی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ بعض اوقات ارادی پہلو رکھتا ہے لیکن جب تک ارادہ نہ کریں نہیں جانتے۔ ؎1
یہ تصور بھی اپنے ذہنوں میں نہ پھٹکنے دو کہ اگر تمہاری سزا میں کچھ تاخیر ہوجائے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ خدا تمارے اعمال اور تمہاری باتوں سے آگاہ نہیں ہے۔ نہیں !
ایسانہیں ہے وہ سب کچھ جانتا ہے" وہ تمہاری آشکار باتوں کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی کہ جنہیں تم چھپاتے ہو "(انه يعلم الجهر من القول ويعلم ماتكتمون)۔
اصولی طور پر پنہاں و آشکار ، تمہارے لیے تو مفہوم رکھتا ہے کیونکہ تمہارا علم محدود ہے ـــــ لیکن اس ذات کے لیے کہ جس کا علم بے پایاں اور لامتناہی ہے، غیب وشہود ایک
ہے اور پوشیدہ اور اعلانیہ یکساں ہے۔
علاوہ ازیں اگر یہ دیکھ رہے ہو کہ خدائی سزا فوری طور پر تمارے دامن گیر نہیں ہورہی تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ تمھارے
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مزید وضاحت کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اور ان کے معصوم جانشینوں کے بارے میں کتاب رہبران بزرگ و مسئو لیتھاۓ بزرگ تر کا مطالعہ کریں۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کام سے آگاہ نہیں مجھے کیا معلوم ؟ شاید یہ تمھاری آزمائش کے لیے ہو" (وان ادری لعله فتنة لكم) -
"اور وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اس دنیا کی لذتوں سے ایک مدت تک بہرہ مند کرے اور اس کے بعد تم سے ہر لے لے اور جزا دے (ومتاع إلى حين)
درحقیقت یہاں خدائی سزاؤں کی تاخیر کے دوفلسفے بیان ہوئے ہیں۔
پہلا فلسفہ امتحان وآزمائش ہے. خدا ہرگز عذاب میں جلد بازی نہیں کرتا تاکہ مخلوق کی کافی حد تک آزمائش کرلے اور اتمام حجت کردے۔
دوسرا فلسفہ یہ ہے کہ کچھ ایسے افراد ہیں کہ جن کی آزمائش تو مکمل ہوچکی ہے اور ان کی سزا کا فیصلہ قطعی ہو چکا ہے لیکن اس غرض سے کہ انہیں سخت سے سخت سزا
ہو، اپنی نعمت کو ان پر وسیع کر دیتا ہے تاکہ وہ پوری طرح نعمت میں غرق ہوجائیں اور ٹھیک اسی حالت میں جب کہ وہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں عذاب کے تازیانے ان پر پڑنے لگیں تاکہ
وہ اور بھی زیادہ درد ناک اور تکلیف دہ محسوس ہوں اور محرموں اور ستم دیدہ لوگوں کی تکلیفوں کا اچھی طرح احساس کریں .
آخری زیر بحث آیت کہ جو سوره انبیاء کی بھی آخری آیت ہے ، اس سورت کی پہلی آیت کی طرح بے خبر لوگوں کی غفلت کے بارے میں گفتگو کررہی ہے اور پیغمبراکرم صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کا قول نقل کیا گیا ہے:
اس سے ان لوگوں کے غرور اور غفلت کے بارے آپ کی ناراضگی اور پریشانی ظاہر اور ہورہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : پیغمبر نے ان کی تمام روگردانیوں اور اعراض کو دیکھنے کے
بعد عرض کیا : میرے پروردگار ! اب حق کے ساتھ فیصلہ کردے اوراس سرکش گروه کو اپنی عدالت کے قانون کے مطابق سزا دے" (قال رب احكم بالحق )۔ ؎1
دوسرے جملے میں روئے سخن مخالفین کی طرف کرتے ہوئے فرمایا کیا گیا ہے:
"ہم سب کا پروردگار خدائے رحمٰن ہے اور ہم اس کی مقدس بارگاہ میں ان نارو تہمتوں پر کہ جو تم اس کی طرف دیتے ہو ، اسی سے مدد مانگتے ہیں" (وربنا الرحمن المستعان على ما
تصفون)۔
درحقیقت لفظ "ربنا" انہیں اس حقیقت کی طرف توجہ دلارہا ہے کہ ہم سب کے سب مربوب مخلوق ہیں اور وہ ہم سب کا خالق و پروردگار ہے۔
لفط "الرحمٰن" کہ جو پروردگار کی رحمت عامہ کی طرف اشارہ ہے، انہیں یہ بات سمجھا رہا ہے کہ تمہارے سارے وجود کو خدا کی رحمت نے گھیر رکھا ہے۔ تو پھر ایک لمحے کے
لیے ان سب نعمتوں اور رحمتوں کے پیدا کرنے والے سے اس میں غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟
اور "المستعان على ما تصفون" کی تعبیر انہیں اس بات پر خبردار کر رہی ہے کہ یہ گمان نہ کرلینا کہ ہم تمہاری جعمیت کی کثرت کے مقابلہ میں تنہا ہیں اور یہ تصور بھی کرلیناکہ
تمہاری یہ سب تہمتیں اور جھوٹ اور ناروا نسبتیں چاہے وہ خدا کی ذات پاک کی طرف ہوں یا ہماری طرف ان کا جواب ضرور دیا جائے گا ۔ کیونکہ ہم سب کی پناہ گاہ دہی ہے اور وہ اس بات پر قادر
ہے اور اپنے مومن بندوں کا ہرقسم کے جھوٹ اور تہمتوں کے مقابلہ میں دفاع کرے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس میں شک نہیں کہ خدا کا ہر حکم مطابق ہے لہذا "بالحق" یہاں توضیحی پہلو رکھتا ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اختتام
پروردگارا ! جس طرح تونے اپنے پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے قلیل ساتھیوں کو ان کے کثیر دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا نہیں چھوڑا ، ہمیں بھی مشرق و مغرب کے ان دشمنوں کے مقابلے میں تنہا نہ رہنے دے کہ جنہوں نے ہماری تباہی کے لیے ایکا کرلیا ہے۔
خداوندا ! تونے اس پر برکت سورت میں اپنی خاص رحمت کا ذکر کیا ہے کہ جو تونے اپنے پیغمبروں پر سخت اور بحرانی واقع میں اور زندگی کے طوفانوں کے مقابلہ میں کی ۔
بارالها ! ہم بھی اسی زمانے میں ایسے علاقوں میں گرفتار ہیں اور اسی رحمت اور کشائش کے منتظر ہیں۔ آمین یارب العلمين اسی پر ــــــــ
سورۂ انبياء
اور
تفسیر نمونہ ــــــــــ جلد 12
اختتام پذیر ہوئی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ جمعة المبارک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ 3 شوال المکرم 1402 بجری
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ ناصر مکارم شیرازی