2- مزامیر داؤدؑ میں صالحین کی حکومت کی بشارت
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۰۴
اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں.
2- مزامیر داؤدؑ میں صالحین کی حکومت کی بشارت :
قابل توجہ بات یہ ہے کہ کتاب مزامیر داؤد میں کہ جو اس وقت کتب عہد قدیم کا حصہ ہے بالکل وہی تعبیر کہ جو مندرجہ بالا آیات میں بیان ہوئی ہے یا اس سے ملتی جلتی کئی مقام پر
دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تمام تحریفات کے باوجود کہ جو ان کتابوں میں کی گئی ہیں ، یہ حصہ اس طرح کی دستبرد سے محفوظ رہ گیا ہے، مثلًا:
1- مزمور 37 جملہ 9 میں ہے
" . . . کیونکہ شریر منقطع ہوجائیں گے لیکن خدا پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہوں گے اور عنقریب شریرنیست و نابود ہوجائیں گے۔ تو اس کی جگہ کے بارے میں جتنا بھی
پوچھے گا کچھ معلوم نہ ہوگا۔
2- اور اسی ہرمور میں دوسری جگہ (جملہ - 11) میں ہے:
: لیکن انکسار و تواضع سے زمین کے وارث ہوکر بڑی سلامتی پائیں گے۔
3- اور اسی مزمور 37 کے جملہ 27 میں یہ موضوع ایک اور تعبیر کے ساتھ بھی دکھائی دیتا ہے :
کیونکہ متبرکان خدا زمین کے وارث ہوجائیں گے لیکن اس کے ملعونین منقطع ہوجا ئیں گے .. .. .. ..
4- اسی مزمور کے جملہ 29 میں ہے:
صدیقین زمین کے وارث ہوجائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
5- اور اسی مزمور کے جملہ 18 میں ہے :
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مزید معلومات کے لیے کتاب "منتخب الاثر" اور "نورالایصار" کی طرف رجوع کریں۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
خدا صالحین کے دلوں کو جانتا ہے اور ان کی میراث ابدی ہوگی۔ ؎1
یہاں پر ہم خوب دیکھ رہے ہیں کہ وہی صالحین کا لفظ کہ جو قرآن میں آیا ہے مزامیر داؤدؑ میں بھی نظرآ رہا ہے اس کے علاوہ دوسری تعبیریں " صد یقین" "متوکلين" "متبرکین" اور
"متواضعین" کہ جو اس تعبیر کے ساتھ ملتے جلتے ہیں ، وہ بھی دوسرے جملوں میں مذکور ہیں۔
یہ تعبیر صالحین کی عمومی حکومت کی دلیل ہیں اور قیام مہدی کی احادیث کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہیں۔