1- قیام مہدی کے سلسلے میں روایات
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۰۴
اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں.
چند اہم نکات
1- قیام مہدی کے سلسلے میں روایات :
بعض روایات میں یہ آیت صراحت کے ساتھ حضرت امام مهدیؑ کے یارو انصار کے ساتھ ہوئی ہے۔ جیساکہ مجمع البیان میں امام محمد باقر علیہ السلام سے اسی آیت کے ذیل منقول
ہے:
هواصحاب المهدي في الخرالزمان :
وہ صالح بندے کہ جن کا خدا نے اس آیت میں وارثان زمین کے عنوان سے ذکر کیا ہے وہ
آخری زمانے میں مودی کے اصحاب و انصار ہیں۔
تفسیر قمی میں بھی اس آیت کے ذیل میں ہے :
ان الارض يرثها عبادي الصالحون ، قال القائم واصحابه
اس سے مراد کہ زمین کے وارث خدا کے صالح بندے ہوں گے، مهدی قائم اور ان
کے اصحاب ہیں ۔
بغیر کہے یہ بات واضح ہے کہ روایات اسی ایک عالی اور آشکار مصداق کا بیان ہیں۔ ہم نے بارہا بیان کیا ہے کہ یہ تفاسیر ہرگز آیت کے مفہوم کی عمویت کو محدود نہیں کرتیں ۔
لہذا جس زمانے میں بھی اور جس جگہ بھی خدا کے صالح بندے اٹھ کھڑے ہوں گے تو وہ کامیاب ہوں گے اور آخرکار زمین اور اس کی حکومت کے وارث ہوجائیں گے۔
مندرجہ بالا روایات تو خصوصیت سے اس آیت کی تعبیر کے بارے میں ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی شعیہ سنی کتب میں حد تواتر کو پہنچی ہوئی بہت زیادہ روایات ہیں جو پیغمبراسلام اور
آئمہ اہل بیتؑ سے منقول ہیں : اور سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخر کار اس جہان کی حکومت صالحین کے ہاتھ آجائے گی اور خاندان پیغمبرؐ سے ایک شخص قیام کرے گا کہ جو زمین
کو عدل و داد سے اس طرح سے بھر دےگا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
ان میں سے ایک مشہور حدیث ہے جو اکثر منابع اسلامی میں پیغمبراکرمؐ سے نقل ہوئی ہے :
لولم يبق من الدنيا الا يوم ، لطول الله ذلك اليوم حتی يبعث
رجلًا (صالحًا) من اهل بميتى يملأ الأرض عدلار قسطًا کما
ملئت ظلمًا وجورًا۔
"اگر دنیا کی عمر میں سے ایک ہی دن باقی رہ جائے تو بھی خدا اس دن کو اس قدر طولانی
کردے گا کہ میرے خاندان میں سے ایک مرد صالح کو مبعوث کرے گا کہ جوصفحہ زمین کو
اس طرح سے عدل و انصاف سے معمور کردے گا کہ جس طرح سے ظلم و جور سے بھری
ہوگی۔
یہ حدیث انہی الفاظ میں یا تھوڑے بہت فرق کے ساتھ بہت سی شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں نقل ہوتی ہے ۔ ؎1
ہم سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں کہ بہت سے بزرگ شیعہ سنی علماء ، متقین و متاخرین نے اپنی اپنی کتابوں میں اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ
قیام مهمدی کے سلام کی اسادیث حد تواتر کرنی ہوتی ہیں اور اسی طرح سے بھی قابل انکار نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ کتابیں لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل آپ
تفسیر نمونہ کی ساتویں جلد سورہ توبہ کی آیه 33 کے ذیل میں مطالع فرماسکتے ہیں۔