Tafseer e Namoona

Topic

											

									  زمین کی حکومت صالحین کے لیے ہوگی

										
																									
								

Ayat No : 104

: الانبياء

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۰۴

Translation

اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں.

Tafseer

									  تفسیر
           زمین کی حکومت صالحین کے لیے ہوگی :
 گزشتہ آیات میں صالح مومنین کے لیے اخروی جزاء کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں نهایت عمدگی اور فصاحت سے ان کی ایک دوانی دنیاوی جزا کی 

طرف اشارہ کیاگیاہے اور وہ ہے زمین کی حکومت ـــ ارشاد ہوتا ہے:
 ہم نے "زبور" میں "ذکر" کے بعد سے لکھ دیا ہے کہ آخر کار میرے صالح بندے زمین کی حکومت کے وارث ہوجائیں گے: (ولقد كتبنا فی الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادي 

الصالحون)۔
 "ارض" سارے کره زمین کو کہا جاتا ہے اور سارا جہان اس میں شامل ہے مگر یہ کہ کوئی خاص قرین موجود ہو۔ اگرچہ بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد قیامت میں 

ساری زمین کا وارث ہونا ہے لیکن لفظ "ارض" کا ظاہری معنی جب کہ یہ مطلق طور پر بولا جائے ، اس جہان کی زمین ہی ہوتا ہے ۔
 لفظ "ارث" جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں ، اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو بغیر معاملہ اور خرید وفروخت کے کسی کی طرف منتقل ہو اور کبھی قرآن مجید میں "ارث" 

ایک صالح قوم کے غیرصالح قوم پر تسلط اور کامیابی اور ان کے تمام سرمائے و وسائل کو اپنے قبضہ اور اختیار میں لینے کے لیے بولاگیا هے۔ جیسا کہ سوره اعراف کی آیہ 127 میں بنی اسرائیل 

کی فرعونیوں پر کامیابی کے بارے میں بیان ہوا ہے :
  واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الأرض ومغاربها
  ہم نے زمین کے مشرق و مغرب کو، اس مستضعف قوم کی میراث میں دے دیا . 
 اگرچہ "زبور" اصل میں ہر قسم کی کتاب اور تحریر کے معنی میں ہے ۔ قرآن مجید میں تین مواقع میں سے دو موقعوں پر یہ لفظ حضرت داؤد کی زبور کی طرف اشارہ ہے لیکن بعید 

نہیں کہ تیسرے موقع پر یعنی زیر بحث آیت میں بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہو۔
 " زبور داؤدؑ" یا "عہد قدیم" کی کتابوں کی تعبیر میں "مزامیر داؤدؑ " اللہ کے نبی حضرت داؤد کی نصیحتوں دعاؤں اور مناجات کا مجموعہ ہے۔ بعض مفسرین نے نے یہ احتمال بھی ذکر 

کیا ہے کہ "زبور" سے مراد یہاں گزشتہ انبیاء کی تمام کتب ہیں۔ ؎1
 لیکن مذکورہ دلیل کے پیش نظر ــــــ یہی معلوم ہوتا ہے کہ "زبور" سے مراد " مزامیر داؤد" ہی ہے۔ خاص طور جبکہ موجودہ مزامیر میں ایسی عبارتیں ملتی ہیں کہ جو زیر بحث آیت 

سے بالکل مطابقت رکھتی ہیں ۔ انشااللہ ان کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے۔
 "ذکر" دراصل یاد آوری یا اس چیز کے معنی میں ہے جو تذکر و یاد آوری کا باعث بنے۔ قرآن کی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔  کبھی حضرت موسٰیؑ آسمانی کتاب یعنی 

تورات پر بھی اس کا اطلاق ہواہے مثلًا سوره انبیا کی آیہ 48:
  ولقد آتينا موسٰى وهارون الفرقان وضياء وذكرا للمتقين 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       یہ احتمال تفسیر مجمع البیان اور تفسیر فخر رازی نے چند گزشتہ مفسرین سے نقل کیا ہے.
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 اور کبھی یہ لفظ قرآن کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مثلًا سورہ تکویر کی آیہ 27:
  ان هو الا ذكر للعالمين 
 لهذا بعض نے یہ کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں ذکر سے مراد قرآن ہے اور زبور سے مراد تمام گزشتہ کتب ہیں اور "من بعد" کا لفظ ، تقریبًا فارسی کے لفظ " علاوہ بریں" کے ہم معنی 

ہے۔ ؎1 اس طرح سے آیت کا معنی یہ ہوگا :
  ہم نے قرآن کے علاوہ ، تمام گزشتہ انبیاء کی کتابوں میں بھی لکھ دیا تھا کہ آخر کار تمام روۓ زمین
  خدا کے صالح بندوں کے اختیار میں قرار پاجائے گی۔ 
 لیکن آیت میں جو تعبیرات استعمال ہوئی ہیں ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے ظاہر ہے کہ زبور سے مراد حضرت داؤد کی کتاب ہی ہے اور "ذکر" تورات کے معنی میں ہے۔
 اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زیور تورات کے بعد تھی تو "من بعد" کی تعبیر بھی حقیقی ہی ہوگی اور اس طرح آیت کا معنی یوں ہوگا :
  ہم نے تورات کے بعد ، زبور میں یہ لکھ دیا تھا کہ اس زمین کی میراث ہمارے صالح
  بندوں تک پہنچے گی۔
 یہاں پر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آسمانی کتابوں میں سے صرف انہی دو کتابوں کا نام کیوں لیا گیا ہے؟
 ممکن ہے یہ اس وجہ سے ہو کہ حضرت داؤد ان بزرگ ترین پیغمبروں میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے حق اور عدالت کی حکومت قائم کی اور بنی اسرائیل بھی وہ مستضعف قوم 

تھے کہ جنہوں نے متکبرین کے خلاف قیام کیا اور ان کے اقتدار کو ختم کرکے ان کی حکومت اور سرزمین کے وارث ہوگئے۔
 ایک اور سوال کے جو یہاں باقی رہ جاتا ہے ، یہ ہے کہ خدا کے صالح بندے (عبادك الصالحون) کون ہیں؟
 بندوں کی خدا کی طرف اضافت پر توجہ کرتے ہوئے ، ان کے ایمان اور توحید کا مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور لفظ "صالحین" کی طرف توجہ کرنے سے جو کہ ایک وسیع معنی رکھتا 

ہے ، تمام اہلتیں اور لیاقتیں ذہن میں آجاتی ہیں۔ عمل و تقوٰی کے لحاظ سے اہلیت ، علم و آگاہی کے لحاظ سے اہلیت ، قدرت و قوت کے لحاظ سے اہلیت اور تدبیر و نظم وضبط اور اجتماعی شعور کے 

لحاظ سے اہلیت. 
 جس وقت صاحب ایمان بندے اس قسم کی اہلیتیں پالیں ، تو خدا بھی کمک اور مدد کرتا ہے تاکہ وہ مستکبرین کو شکست دے سکیں ، ان کے آلودہ ہاتھوں کو زمین کی حکومت سے ہٹا 

سکیں اور ان کی میراثوں کے وارث بن جائیں۔
 اس بنا پر صرف "مستضعف" ہونا دشمنوں پر کامیابی اور روئے زمین کی حکومت کے لیے کافی نہیں ہو گا بلکہ ایک طرف ایمان ضروری ہے اور دوسری طرف اہلیتوں کا حصول 

مستضعفین جہان جب تک ان دو اصولوں کو زندہ نہیں کریں گے، روئے زمین کی حکومت کا نہیں پہنچ سکتے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    اصطلاحی علمی تعبیر کے مطابق "بعد" کی لفظ یہاں "بعد" رتبی ہے کہ "بعد" زمانی ـــــ اردو میں "من بعد" کا متبادل “علاوہ ازیں" یا "اس کے علاوہ" ہے۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 اس لیے بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے: اس بات میں ان لوگوں کے لیے کہ جو خدا کی اخلاص کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، ایک واضح اور روشن ابلاغ ہے (ان 

فی هذا لبلاغا لقوم عابدين) -
 بعض مفسرین لفظ "هذا" کو ان تمام وعدوں اور وعیدوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو اس سورہ میں ہیں یا سارے قرآن میں ہیں۔
 لیکن آیہ کا ظاہر یہ ہے کہ "هذا" اسی وعدہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو گزشتہ آیت میں خدا نے اپنے صالح بندوں سے روئے زمین کی حکومت کے بارے میں کیا ہے۔