جب آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۰۴
اس دن ہم تمام آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح خطوں کا طومار لپیٹا جاتا ہے اور جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدائ کی ہے اسی طرح انہیں واپس بھی لے آئیں گے یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے جس پر ہم بہرحال عمل کرنے والے ہیں.
تفسیر
جب آسمانوں کو لپیٹ دیا جائے گا:
گزشتہ بحث کی آخری آیت میں تھا کہ سچے مومنین عظیم وحشت سے غمگین نہیں ہونگے۔ یہاں پر اس بڑی وحشت کے دن کا ایک اور رخ پیش کیا جارہا ہے اور درحقیقت اس وحشت
کی عظمت کی علت کی تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ معاملہ اس دن حقیقت کی صورت اختیار کرلے گا کہ جب ہم آسمانوں کو اس طرح سے لپیٹ دیں گے کہ جس طرح خطوں کولپیٹا جاتا
(يوم نطوي السماء كطى السجل للكتب)۔ ؎1
گذشتہ زمانے میں خطوط لکھنے کے لیے اور اسی طرح کتابیں لکھنے کے لیے ، طومار (لپیٹے ہوئے کاغذ) کی طرح کے اوراق استعمال ہوتے تھے . ان طور ماروں کو لکھنے ہوتے
تھے۔ ان طوماروں کو لکھنے سے پہلے لپیٹ دیتے تھے اور لکھنے والا بتدریج آہستہ آہستہ اسے ایک طرف سے کھینچتا رہتا تها اور جو مطالب اسے لکھنا ہوتے تھے اس کے اوپر لکھا کرتا تھا اور
لکھائی ختم ہونے کے بعد پھر انہیں لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا جاتا تھا۔ لہذا ان کے خطوط اور کتابیں بھی طومار کو "سبحل" کا نام دیا جاتا تھا کہ جس کو لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
اس آیت میں، دنیا کے اختتام پر ، عالم ہستی کے لپیٹ دیئے جانے کی ، ایک لطیف تشبیہ ہے۔ اس وقت اوراق سے یہ طومار کھلے ہوئے ہیں اور اس کے تمام نقوش اور خطوط پڑھے
جارہے ہیں اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر قائم اور برقرار ہے لیکن جب قیامت کا حکم ہوجائے گا تو یہ عظیم طومار اپنے تمام خطوط ونقوش کے ساتھ لپیٹ دیئے جائیں گے۔
البتہ دنیا کے لپٹیے جانے کا معنی اس کا مٹنا اور نابود ہونا نہیں ہے ، جیسا کہ بعض نے خیال کر رکھا ہے۔ بلکہ اس کا درہم برہم ہوکر مل جانا اور اکٹھا ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں
اس جہان کی شکل وصورت تو بھگڑ جائے گی ، لیکن اس کا ماده نابود اور ختم ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آیات معاد کی مختلف تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہوتی ہے مثلًا انسان کا بوسیده
ہڈیوں اور قبروں سے اٹھنا ــــــــــــ
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ:" جس طرح ہم نے اسے ابتدا میں پیدا کیا ہے ( اسی طرح) دوبارہ پلٹائیں گے" یہ کام هماری عظیم قدرت کے سامنے کوئی مشکل نہیں ہے (اكما بدأنا
اول خلق نعيده) - درحقیقت یہ تعبیر اس تعبیر کے مشابہ ہے کہ جو سوره اعراف کی آیه 29 میں ہے:
كما بدأكم تعودون
جس طرح سے اس نے تمہیں ابتداء میں پیدا کیا اسی طرح لوٹائے گا ۔
اسی طرح:
وهوالذي يبدؤاالخلق ثم يعبده وهو أهون عليه
اور وہی ذات تو ہے جس نے خلقت کی ابتداء کی ، پھر اس کو لوٹائے گا اور یہ اس
کے لیے زیادہ آسان ہے (روم ــــــــ 27)۔ ؎2
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "سجل" (بروزن "سطل") بڑے اور پانی سے بھرے ہوئے ڈول کے معنی میں ہے، اور "سجل" (سین اور جیم کی زیر اور لام کی شد کے ساتھ) ان پتھروں کے ٹکڑوں کے معنی میں ہے کہ جن
کے اوپر لکھا جاتا تھا ، اس کے بعد ان تمام اوراق کو کہ جن پر مطالب لکھتے ہیں کہا گیا ہے (مفردات راغب و قاموس) اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ "کطى السجل للكتب" کے جملہ کی ترکیب
میں کئی احتمال دیئے گئے ہیں ، لیکن سب سے زیادہ مناسب یہی ہے کہ "طی" جو کہ مصدر ہے "سجل" کی طرف جو کہ اس کا مفعول ہے ، مضاف ہے ، اور " للكتب" میں جو لام ہے وہ اضافت کی
ہے یا بیان علت کے لیے ۔ (غور کیجیئے گا) .
البتہ جیسا کہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے کہ خدا کی لامتناہی قدرت کے بارے ہیں "مشکل اور آسان" کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ سب کچھ ایک جیسا ہے، اس بناء پر جو تعبیر مذکورہ
بالا آیت میں آئی ہے ، حقیقت میں انسانوں کی نظر کی لحاظ سے ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ جو بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ اس بازگشت سے مراد فنا و نابودی کی طرف بازگشت یا آغاز آفرنیش کی طرح آپس میں لپیٹ دینا ہے، بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔
اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : یہ وہ وعدہ ہے کہ جو ہم نے کیا ہے اور یقینًا ہم اسے انجام دیں گے۔ (وعدًا علينا اناكنا فاعلين)۔ ؎1
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کی پہلی صورت میں باز گشت سے مراد یہ ہے کہ انسان درباره ننگے پاؤں اورعریاں ــــ جیسا کہ ابتدائے خلقت میں تھے ـــــ پلٹ کرآئیں
گے لیکن بلاشک اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے ، بلکہ بہتر مخلوق کے پہلی صورت میں لوٹنے کی ایک شکل ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "وعدًا" "وعدنا" کا مفعول ہے جوکہ مقدرہے
یہ جملہ حقیقت میں چند قسم کی تاکید میں لیے ہوئے ہے ، مثلًا "وعدًا" "علينا" (ہم پر) پھر "انا" کے ساتھ تاکید اور دوسرے "كنا " میں فعل ماضی کا استعمال اور اسی طرح " فاعلين" کا لفظ ۔