کفار قیامت کے آستانے پر
وَحَرَامٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ۹۵حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ۹۶وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ ۹۷
اور جس بستی کو ہم نے تباہ کردیا ہے اس کے لئے بھی ناممکن ہے کہ قیامت کے دن ہمارے پاس پلٹ کر نہ آئے. یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آزاد کردیئے جائیں گے اور زمین کی ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے نکل پڑیں گے. اور اللہ کا سچا وعدہ قریب آجائے گا تو سب دیکھیں گے کہ کفار کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ وائے بر حال ماہم اس طرف سے بالکل غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم اپنے نفس پر ظلم کرنے والے تھے.
تفسیر
کفار قیامت کے آستانے پر
گزشتہ آیات میں نیکوکار مومنین کے بارے میں گفتگوتھی اور زیر بحث پہلی آیت میں ایسے افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ان کے نقطہ مقابل میں واقع ہیں وہ لوگ کہ
جو آخری سانس تک گمراہی اور برائی پر باقی رہتے ہیں۔
فرمایا گیا ہے ، ان بستیوں پرکہ جنہیں ہم نے ان کے گناہوں کے جرم میں نابود کردیا ہے ، حرام ہے کہ وہ دنیاکی طرف پلٹ کرآئیں ، وہ ہر گھر واپس نہیں آئیں گے:
(وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون)۔؎1
درحقیقت وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو عذاب الہی دیکھنے کے بعد یا ہلاکت کے بعد اور عالم برزخ میں جانے کے بعد ، غرور و غفلت کے پردوں کو اپنی نگاہوں کے سامنے
سے ہٹا ہوا پائیں گے ، تو آرزو کریں گے کہ اے کاش! وہ ان تمام خطاؤں اور گناہوں کی تلافی کرنے کے لیے ، دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جاتے ، لیکن قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ
ان کی بازگشت بالکل حرام یعنی ممنوع ہے
یہ اسی بات کے مشابہ ہے کہ جو سورہ مومنون کی آیہ 99 میں بیان ہوئی ہے :
حتى اذاجاء احد هم الموت قال رب ارجعون لعلى اعمال صالحًا
فيما تركت كلا - - -
ان کی یہ کیفیت اسی طرح باقی رہے گی ، یہاں تک کہ ان کی موت (کا وقت) آن پہنچے گا
تو وہ یہ کہیں گے : پروردگارا! ہمیں دنیا کی طرف پلٹا دے تاکہ وہ نیک اعمال کہ جو ہم
نے ترک کر دیئے ہیں انجام دیں لیکن وہ سوائے منفی جواب کے اور کچھ نہیں سنیں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں دوسرے بیانات بھی ذکر ہوئے ہیں کہ جن میں سے بعض کی طرف نیچے حاشیہ میں اشاره ہوگا۔ ؎2
بہرحال یہ بے خبرلوگ ہمیشہ غفلت اور غرور میں ہی رہیں گے اور ان کی یہ بدبختی اسی طرح باقی رہے گی یہاں تک کہ دنیا ختم ہو جاۓ گی۔
جیسا کہ قرآن فرماتاہے :
یہ بات اس وقت میں ہوتی رہے گی یہاں تک کہ یاجوج و ماجوج پر راہ کھول دی جائے گی اور وہ ساری زمین میں پھیل جائیں اور وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ گزر
جانیں: (حتى اذا فتحت يأجوج ومأجوج وهم من كل حدب ينسلون)
یاجوج و ماجوج کون لوگ تھے ، کہاں رہتے تھے اور آخر کار وہ کیا کریں گے اور ان کا کیا انجام ہوگا؟
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس تفسیرکے مطابق "حرام" خبر ہے مبتدائے محذوف کی اور "انھم لايرجعون" کا جملہ اس پر دلیل ہے اور تقدیر میں اس طرح تھا : حرام علی اھل ترية اهلكناها أن يرجعوا إلى
الدنيا ولا يرجعون
جن اہل قریر کو ہم نے ہلاک کیا ہے ان پر حرام ہے کہ وہ پلٹ آئیں ، وہ نہیں پلٹیں گے۔
؎2 بعض نے "حرام" کو یہاں "واجب" کے معنی میں لیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ لغت عرب میں بعض اوقات یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوتا ہے اور وه لفظ "لا" کو زائدہ
سمجھتے ہیں۔ ان کے حساب سے آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا :
آخرت میں ان کی بازگشت واجب اور ضروری ہے۔
بعض یہ کہتے ہیں کہ "حرام" حرام ہی کے معنی میں ہے ، لیکن"لا" زائده ہے ، یعنی ان کی بازگشت اس جہان کی طرف عوام ہے۔
بعض مفسرین نے آیت کو خدا اور طوبہ کی طرف بازگشت نہ ہونے کے معنی میں لیا ہے (تفسیر جمع البیان اور زبانی زیر بحث آیہ کے ذیل میں)
بعض یہ کہتے ہیں کہ آیت نفی درنفی کے قبیل سے ہے اور یہ اس بات کو بیان کرتی ہے کہ یہ حرام ہے کہ وہ قیامت میں پلٹ کر نہ آئیں یعنی وہ پلٹ کر آئیں گے۔
(تفسیرنہج الصادقین زیر بحث آیہ کے ذیل میں) لیکن جو ہم نے متن میں بیان کیا ہے اور سب سے زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اس بارے میں ہم نے سوره کہف کی آیہ 94 کے ذیل میں اور اس کے بعد بحث کی ہے اور اسی طرح اس سدو کے بارے میں بھی کہ جو " ذوالقرنین" نے ان کے
حملوں کو روکنے کے لیے پہاڑوں کے ایس تنگ درہ میں بنائی تھی ، تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔
کیا ان دونوں گروہوں کے کھل جانے سے مراد ، اسی سد کا ٹوٹ جانا ، اور ان کا اس راستے سے دنیا کے دوسرے علاقوں میں نفوذ کرنے سے مراد کرہ زمین میں ہر
جانب اور ہر طرف سے نفوذ ہے ؟ زیر نظر آیت نے صریح طور پر اس بارے میں کوئی بات نہیں کہی ہے۔ صرف زمین میں پھیل جانے کو عالم کے اختتام کی ایک نشانی اور قیامت کے
آنے کی ایک تمہید کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے، اس وقت خدا کا وعدہ حق نزدیک آپہنچے گا : ( واقترب الوعد الحق)۔
اور ایک گھبراہٹ اس طرح کفار کے سارے وجود پر کیا جائے گی کہ ان کی آنکھیں حرکت نہیں کرپائیں گی ، اور وہ یہ منظر حیرانی کے ساتھ دیکھیں گے : ( فإذا هی
شاخصة ابصار الذين كفروا)۔
اس وقت ان کی آنکھوں کے سامنے سے غفلت اور غرور کے پردے ہٹ جائیں گے اور انہیں پکاریں گے ، وائے ہو ہم پر ہم تو اس منظر سے غفلت میں ہی تھے :(يا ويلنا
قد كنافي غفلة من هذا)۔
اور چونکہ اپنے اس عذر سے اپنے گناہ نہیں چھپاسکیں گے اور خود کو بری بھی قرار نہ دے سکیں گے ، لہذا صراحت کے ساتھ کہیں گے : نہیں بلکہ ہم ہی ظالم تھے
: (بل كنا ظالمين)۔
اصولی طور پر خدا کے ان تمام پیغمبروں اور آسمانی کتابوں اور ان تمام ہلا دینے والے حوادث اور اسی طرح ایسے عبرت آموز سبقوں کے باوجود ـــــ کہ جو زمانہ ان
کے سامنے پیش کرتا ہے ــــــ یہ بات کیسے ممکن ہوسکتی ہے کہ وہ پھر بھی غفلت میں رہیں ، لہذا جو کچھ ان سے سرزد ہوا ہے۔ تقصیر ہے اور خود اپنے اوپر بھی اور دوسروں کے
اوپر بھی ظلم ہے۔
چند الفاظ کے لغوی معنی:
"حدب" (بروزن "ادب") ایسی بلندیوں سے معنی میں ہے کہ جو پستیوں کے درمیان ہوتی ہیں کبھی انسان کی پشتکے ابھار کو بھی "حدب" کہتے ہیں۔
"ينسلون" "نسول" کے مادہ سے (بروزن "فضول") تیزی سے نکلنے کے معنی میں ہے۔
یہ جو یاجوج و ماجوج کے بارے میں ہے کہ وہ ہر بلندی سے تیزی کے ساتھ گزریں گے اور نکلیں گے ، یہ ان کے کره زمین میں بہت زیادہ نفوذ کرنے کی طرف اشارہ
ہے ۔
"شاخصة" "شخوص" (بروزن "خلوص") دراصل گھر سے باہر نکلنے کے معنی میں ہے۔ یا ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نکل جانے کے معنی میں ہے اور
چونکہ تعجب اور حیرانی کے وقت انسان کی آنکھ گویا یہ چاہتی ہے کہ وہ باہر نکل آئے ، لہذا اس حالت کو بھی "شخوص" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ جو قیامت میں گنہگاروں کو لاحق
ہوگی۔ وہ ایسے حیران ہوں گے کہ گویا ان کی آنکھیں یہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے حلقہ سے باہر نکل آئیں۔