1- ایک ابہام کی وضاحت
وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِلْعَالَمِينَ ۹۱
اور اس خاتون کو یاد کرو جس نے اپنی شرم کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور اسے اور اس کے فرزند کو تمام عالمین کے لئے اپنی نشانی قرار دے دیا.
چند اہم نکات
1- ایک ابہام کی وضاحت :
فرج اصل میں لغت کے لحاظ سے فاصلہ اور شگاف کے معنی میں ہے ۔ اور کنائے کے طور پر عورت کی اندام نہائی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور چونکہ فارسی میں
اس کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ لہذا بعض اوقات یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ لفظ کہ جو عورت کے اس عضو خاص کے لیے بولا ہے ، قرآن میں کیسے آیا ہے ؟ لیکن اس
کے کنایہ ہونے کی طرف توجہ اس سوال کو حل کر دیتی ہے۔
زیادہ واضح اور روشن تعبیر میں اگر ہم کنائی معنی کو ٹھیک طور سے تعبیر کرنا چاہیں تو " احصنت فرجھا" کے جملہ کا متبادل فارسی میں یہ ہے کہ "اپنے دامن کو پاک
رکھا" تو کیا فارسی میں تعبیر بری ہے ؟
بلکہ بعض کے نظریہ کے مطابق عربى لغت میں ایسے الفاظ کہ جو عضو خاص کے لیے صراحتًا ہوں ، یا جنسی اختلاط میں صراحت رکھتے ہوں ، اصلًا موجود ہی
نہیں ہیں ۔ جو کچھ بھی ہے وہ کنائے کا ہی پہلو رکھتا ہے۔ مثلا قرآن کی مختلف آیات میں اختلاط کے بارے میں ،"لمس کرنا" "داخل ہونا" "ڈھانپنا" (غشیان) ۔؎2 "یا بیوی کے پاس جانا"
؎3 کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ کہ جوسب کنایہ کا پہلو رکھتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات فارسی زبان میں ترجمہ کرنے والے ان کے کنائی معنی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس کنائی
معانی کے متبادل کی بجائے فارسی
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر نمونہ جلد 13 سورۂ مریم کی ابتدائی آیات کی تفسیر دیکھئے.
؎2 سوره اعراف ۔ 189 -
؎3 بقرہ - 322-
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کے صریح الفاظ لکھ دیتے ہیں اور یہ بات سوال کا موجب بن جاتی ہے
بہرحال اس قسم کے الفاظ کی تفسیر میں کہ جو قرآن میں آئے ہیں ، حتمی طور پر ان کے اصلی اور بنیادی معنی کی طرف توجہ کرنا چاہیے تاکہ اس کے کنایہ ہونے کا
پہلو واضح ہو جائے اور ہرقسم کا ابہام ختم ہوجائے۔
اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ زیر بحث آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حضرت مریمؑ نے اپنی عفت کی حفاظت کی ، لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کے معنی
میں یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ انہوں نے کسی مرد سے (چاہے حلال ہو یا حرام) ہر قسم کے میل جول سے خود کو بچائے رکھا۔ ؎1
جیسا کہ سور مریم کی آیہ 20 میں ہے کہ:
ولم یمسنی بشرولم ان بغیًا
نہ تو کبھی کسی بشر نے مجھے چھوا ہے اور نہ ہی میں کوئی بدکار عورت ہوں۔ ؎2
درحقیقت یہ حضرت عیسٰی کی معجزانہ پیدائش اور ان کے معجزہ ہونے کے ذکر کی تمہید ہے۔