Tafseer e Namoona

Topic

											

									  4- کردار ساز سبق

										
																									
								

Ayat No : 87-88

: الانبياء

وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۸۷فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ ۸۸

Translation

اور یونس علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب وہ غصّہ میں آکر چلے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جاکر آواز دی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان هایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں.

Tafseer

									 4- کردار ساز سبق :
 " كذلك ننجي المؤمنین" کا پرمعني جملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گرفت اور نجات کے سلسلہ میں جو کچھ حضرت یونس پر گزری ، یہ کوئی ایک خصوصی فیصلہ نہیں تھا۔ بلکہ 

سلسلہ مراتب کو محفوظ رکھتے ہوئے سب کے لیے ایک عمومی پہلو رکھتا ہے۔
 بہت سے غم انگیز حوادث اور سخت مشکلات ، خود ہمارے گناہوں کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ یہ خوابیده روحوں کو بیدار کرنے کی ایک تازیانہ ہوتی ہیں یا نفس انسانی کی دھات کو صاف 

کرنے کے لیے ایک کٹھالی کی مانند ہوتی ہیں . ایسے موقع پر انسان ان تین نکات کی طرف توجہ کرے تو نجات ملتی ہے کہ جن کی طرف یونس نے توجہ کی تھی : 
 1-      اس حقیقت توحید کی طرف توجہ اور ہر کوئی معبود اور کوئی سہارا اور پناہ گاہ اللہ کے سوا نہیں ہے۔ 
 2-      خدا کو ہر نقص و ظلم سے پاک و منزہ سمجھنا اور اس کی ذات پاک کے بارے میں کسی طرح کی بدگمانی نہ کرنا۔
 3-       اپنے گناہ کا اعتراف کرنا۔ 
 اس بات کی گواہ وہ حدیث ہے کہ جو تفسیر درالمنشور میں پیغمبراسلامؐ سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : 
  خدا کے ناموں میں سے ایک نام کو جس کے ساتھ جو بھی خدا کو پکارےاس کی دعا قبول
   ہوگی ، اور جس وقت اس کے ذریعے خدا سے کوئی چیز طلب کرے تو خدا سے عطا کرے گا۔ 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   نورالثقلین ج 4 ص 336-
۔-------------------------------------------------------------------------------------
وہ یونس کی دعا ہے۔
 ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہؐ ! کیا وہ یونسؑ کے لیے مخصوص تھی یا مسلمان بھی اس میں شامل ہیں ؟ آپ نے فرمایا :
  یہ یونسؑ کے ساتھ بھی مربوط تھی اور تمام مومنین سے بھی مربوط ہے ، جب کہ وہ خدا کو پکارتے ہیں" 
  کیا تونے قرآن میں خدا کی گفتگو نہیں سنی: 
  "وكذلك ننجی المؤمنین" یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اس طرح سے دعاکرے
  خدا نے اس کو قبول کرنے کی ضمانت دے دی ہے۔ ؎1 
 یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف الفاظ کا پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقت کا نفس انسان میں نقش ہوجانا ہے۔ یعنی ان الفاظ سے پڑھنے کے ساتھ 

ساتھ اس کا تمام وجود اس کے مفہوم کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے۔
 اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ خدا کی سزائیں اور عذاب دوقسم کے ہوتے ہیں، ان میں سے ایک تو عذاب استیصال ہے۔ یعنی آخری عذاب کہ جو ناقابل اصلاح لوگوں کی 

تباہی اور نابودی کے لیے آتاہےکہ جس میں کوئی دعا فائدہ مند نہیں ہوتی کیونکہ طوفان بلا کے اتر بجانے کے بعد پھر وہی پر عمل شروع ہو جاتا هے۔
 دوسری قسم کی سزائیں اور عذاب تنبیہی ہوتے ہیں کہ جو تربیتی پہلو رکھتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جونہی سزا کا اثر نمایاں ہونے لگتا ہے اور جن کو تنبیہہ کے طور کی سزا دی جا 

رہی ہے وہ بیدار اور متوجہ نہ ہوجاتا ہے، تو بلا فاصلہ عذاب اور سزاٹل جاتی ہے۔
 اس سے واضح ہو جاتا ہے کی آفات و بلیات اور نا گوار حوادث کا ایسے مقصد بیدار کرنا اور تربیت دینا ہے۔
 حضرت یونست کا واقعہ راہ حق کے تمام رہبروں کومختلف حدود میں اس بات کی تنبیہہ کر رہا ہے کہ وہ کبھی پیغام رسانی کی اپنی ذمہ داری کو ختم نہ سمجھیں اور اس راستے میں 

سعی و کوشش کو کم شمار کریں کیونکہ ان کی مسئولیت اور ذمہ داری بڑی سنگین ہے۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      تفسیر درالمنشور، المیزان کی نقل کے مطابق زیر بحث آیت کے ذیل میں المیزان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں یہ روایت تفسیر درالمنشور کے حوالے سے لکھی گئی ہے ۔