Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3- یونسؑ نے کونسا ترک اولٰی کیا تھا

										
																									
								

Ayat No : 87-88

: الانبياء

وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ ۸۷فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ ۚ وَكَذَٰلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنِينَ ۸۸

Translation

اور یونس علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب وہ غصّہ میں آکر چلے اور یہ خیال کیا کہ ہم ان پر روزی تنگ نہ کریں گے اور پھر تاریکیوں میں جاکر آواز دی کہ پروردگار تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دلادی کہ ہم اسی طرح صاحبان هایمان کو نجات دلاتے رہتے ہیں.

Tafseer

									 3- یونسؑ نے کونسا ترک اولٰی کیا تھا ؟ 
 بلا شک وشبہ "مغاضبًا" کی تعبیر یونسؑ کے بے ایمان قوم سے ناراض ہونے طرف اشارہ ہے اوراس قسم کا غصہ اور ناراضی ایسے حالات میں ،کہ ایک غمگسار و دلسوز پیغمبر سالہا 

سال تک  گمراہ قوم کو ہدایت کرنے کی مشقت اٹھاتا رہے لیکن وہ اس کی ہمدردانہ اور خیر خواہانہ دعوت کا ہرگز مثبت جواب نہ دیں ـــــ کاملا طبعی اور فطری بات ہے۔
 دوسری طرف چونکہ حضرت یونسؑ جانتے تھے کہ عنقریب عذاب الٰہی انہیں آلے گا ۔ اس لیے اس شہر کو چھوڑ دینا کوئی گناہ نہیں تھا لیکن یونسؑ جیسے عظیم پیغمبر کے لیے بہتر 

یہ تھا کہ پھر بھی آخری لمحے تک ــــ وہ لمحہ کہ جس کے بعد عذاب الٰہى نازل ہوجائے گا ـــــــــ انہیں نہ چھوڑتے اسی بنا پر حضرت یونسؑ کا نسبتًا عاجلانہ فیصلہ ترک اولٰی شمار ہوا اور خدا کی 

طرف سے اس پر مواخذہ کیا گیا۔
 یہ وہی چیز ہے کہ جس کی طرف ہم نے داستان آدمؑ میں بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ مطلق گناہ نہیں ہے، بلکہ نسبتی گناہ ہے یا دوسرے لفظوں میں "حسنات الابرار سيئات المقربين" کے 

مصداق ہے۔
 مزید وضاحت کے لیے تسيرنمونہ کی چھٹی جلد ص 114 (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع کریں۔