اسماعیلؑ ادریسؑ اور ذا الکفلؑ
وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِنَ الصَّابِرِينَ ۸۵وَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ ۸۶
اور اسماعیل علیھ السّلام و ادریس علیھ السّلام و ذوالکفل علیھ السّلام کو یاد کرو کہ یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے. اور سب کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کرلیا تھا اور یقینا یہ سب ہمارے نیک کردار بندوں میں سے تھے.
تفسیر
اسماعیلؑ ادریسؑ اور ذا الکفلؑ :
ایوب کی سبق آموز سرگزشت اور طوفان حوادث کے مقابلہ میں ان کے صبرو ضبط کو بیان کرنے کے بعد ، زیر بحث آیات میں خدا کے تین دوسرے پیغمبروں کے مقام صبروشکیبائی
کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : اسمعيل ادریسؑ اور ذاالکفلؑ کو یاد کرو ، وہ سب کے سب صابرین میں سے تھے . ( واسماعيل وادریس و ذا الكفل كل من الصابرين) -
ان میں سے ہرایک نے دشمنوں کے مقابلہ میں یا زندگی کی طاقت فرسا مشکلات کے سامنے صبرواستقامت دکھائی ہے اور انہوں نے ان حوادث کے سامنے ہرگز گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ ان
میں سے ہرایک استقامت اور پامردی کا ایک نمونہ تھا۔
اس کے بعد اس صبر و استقامت پر ان کے لیے خدا کے عظیم انعام کا ذکر ہے : ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا کیونکہ وہ صالحین میں سے تھے ۔ ( وادخلنا هم فی رحمتنا انهم
من الصالحين )-
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت عطا کی بلکہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کیا گویا وہ اپنے پورے جسم وجان کے ساتھ رحمت الٰہی
میں غوطہ زن ہوئے ، جیسے کہ وہ پہلے مشکلات کے دریا میں غرق تھے۔