Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- آتيناه أهله و مثلهم معهم" کی تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 83-84

: الانبياء

وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۸۳فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ ۸۴

Translation

اور ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے.

Tafseer

									 2- آتيناه أهله و مثلهم معهم" کی تفسیر: 
 مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ خدا نے ان کے بیٹیوں کو پھر سے زندگی عطا کر دی تھی اور ان کے علاوہ اور بیٹے بھی انہیں دیئے تھے (بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ 

خدا نے ان بیٹوں کو بھی کہ جو اس واقعے میں مرے تھے ، انھیں مرحمت فرمایا اور ان بیٹیوں کو بھی زندہ کر دیا جو اس واقعے سے پہلے مرچکے تھے۔ ؎2
 بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ خدا نے حضرت ایوبؑ کونئے بیٹے اور پوتے عنایت کیے کہ جہنوں نے مرجانے والوں کی خالی جگہ کو پُر کر دیا۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    تفسیر المیزان  ، بحوالہ تفسیر فی۔
  ؎2   نورالثقلین ، ج 3 ص 448۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 بعض غیر روایات میں بیان کیاگیا ہے کہ حضرت ایوبؑ کے بدن میں شدید بیماری کے زیر اثر اس طرح بدبو پیدا ہوگئی تھی کہ لوگ ان کے قریب نہیں آسکتے تھے لیکن اہل بیتؑ کی 

طرف سے بیان کی گئی روایات میں اس بات کی نفی کی گئی ہے اور دلیل عقلی بھی اسی مطلب پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر پیغمر میں کوئی نفرت انگیز حالت یا سفت ہوگی ، تو یہ بات اس کی رسالت 

کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتی ۔ پیغمبر کو تو ایسا ہونا چاہیے کہ تمام لوگ اس سے میل ملاپ رکھ سکیں اور کلمات حق کو اس سے سن سکیں۔ پیغمبر میں ہمیشہ قوت جذب و کشش ہوتی ہے۔
 حضرت ایوب کی داستان کی تفصیل انشااللہ سورہ ص کی آیہ 41 تا 44 میں بیان ہوگی۔