1- حضرت ایوبؑ کی مختصر داستان
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۸۳فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ ۸۴
اور ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے.
چند نکات :
1- حضرت ایوبؑ کی مختصر داستان :
ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام سے منقول ہے:
کس شخص نے آپ سے پوچھا ، کہ جو مصیبت ایوبؑ کو دامنگیر ہوئی تھی وہ کس لیے تھی؟
امام صادق علیه السلام نے اس کے جواب میں جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے:
ایوبؑ جو مصیبت کی اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کوئی کفران نعمت کیا تھا۔ بلکہ اس کے
برعکس شکر نعمت کی وجہ سے تھی ، کیونکہ ابلیس نے ان پر حسد کیا اور بارگاہ خدا میں عرض کی کہ
اگر وہ تیری نعمتوں کا اتنا شکر ادا کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ تونے اسے بڑی خوشحال زندگی
دی ہے اگر تو اس سے دنیا کی مادی نعمات کو چھین لے تو پھروہ ہرگز تیرا شکر ادا نہیں کرے گا
تو مجھے اس کی دنیا پرمسلط کردے تو پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے۔
خدا نے اس مقصد سے ، کہ یہ قصہ راہ حق کے تمام راہبوں کے لیے ایک سند بن جائے ،
شیطان کو اس بات کی اجازت دے دی وہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا اور ایوب کے مال و
اولاد کو یکے بعد دیگرے ختم کرتا چلاگیا ، لیکن ان دردناک حادثات نے نہ صرف یہ کہ شکر ایوبؑ
میں کوئی کمی نہ کی ، بلکہ ان کا شکر اور بھی بڑھتا گیا ۔ شیطان نے خدا سے درخواست کی کہ اسے انکی
زراعت اور بھیڑوں پرمسلط کر دے ۔ یہ اجازت بھی اسے دے دی گئی اور اس نے ساری
زراعت کو آگ لگا دی اور ساری بھیڑوں کو بلاک کر دیا ۔ پھر بھی ایوب کی طرف سے حمد پوروردگار
اور شکر میں اضافہ ہی ہوتا چلاگیا۔
آخر شیطان نے خدا سے یہ درخواست کی کہ وہ ایوب کے بدن پر مسلط ہوجائے اور ان کیلئے
شدید بیماری کا سبب بنے اور ایسا بھی ہوگیا۔ اس طرح سے کہ وہ شدت بیماری اور زخموں
کی وجہ سے چلنے پھرنے اور حرکت کرنے سے ابھی مجبور ہوگئے۔
البتہ ان کی عقل و شعور میں کسی قسم کا کوئی خلل پیدا نہ ہوا۔
خلاصہ یہ کہ تمام نعمتیں یکے بعد دیگے ایوبؑ سے لی جارہی تھیں لیکن ان کا شکر بڑھتا ہی
جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ راہب انہیں دیکھنے کے لیے آئے اور انہوں نے پوچھا :
ہمیں بتا تو سہی ! کہ تونے کونسا بڑا گناہ کیا ہے کہ ایسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا ہے؟
( اور اس طرح سے ہر کہ دمہ کی شماتت کا آغاز ہوگیا اور یہ امر ایوب پر گراں گزرا) ایوب
نے جواب دیا : مجھے اپنے پروردگار کی عزت کی قسم ہے کہ میں نے کسی غذا کا کوئی ایک لقمہ
بھی اس وقت تک نہیں کھایا ، جب کہ کوئی یتم و ضعیت میرے دسترخوان پرنہ بیٹھا ہو
اور خدا کی کوئی اطاعت سامنے نہیں آئی ، مگر یہ کہ میں نے اس میں سے سخت ترین کو اختیار کیا۔
یہ وہ موقع تھا جب ایوبؑ تمام امتحانات سے صبر و شکر کے ساتھ عہدہ برا ہو چکے تھے ،
تو زبان مناجات اور دعا کے لیے کھولی اور خدا سے اپنی مشکلات کا حل انتہائی مودبانہ طریقے
سے چاہا۔ لہجہ ہر قسم کی شکایت سے خالی تھا ، وہی دعا جو مذکوره بالاآیات میں ابھی گزری ہے۔
"رب اني مسي الضر وانت ارحم الراحمين"
اس موقع پر خدا کی رحمت کے دروازے کھل گئے ، مشکلات بڑی تیزی کے ساتھ برطرف ہوگئیں
اور نعمات الٰہی نے ان سے بھی کہیں زیادہ کہ جو پہلے ان کے پاس تھیں ان کی طرف رخ کرلیا۔ ؎1
ہاں ! ہاں! جو مردان حق ہوتے ہیں ، نعمتوں کے دگرگوں ہونے سے ان کے افکار اور طرز عمل نہیں بدلتے۔ وہ راحت و آرام میں ہوں یا مصیبت میں آذاد ہوں یا قید میں صحیح سلامت
ہوں یا بیمار ، طاقت و قدرت کی حالت میں ہوں یا ضیعف و کمزوری میں خلاصہ یہ ہے کہ وہ ہرحال میں پروردگار کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور زندگی کے تغیرات اور انقلابات ان میں کوئی تبدیلی
پیدا نہیں کرتے۔ ان کی روح ایک عظیم سمندر کی مانند ہے کہ جس کے آرام و سکون کو کسی قسم کے طوفان درہم برہم نہیں کرسکتے۔
اسی طرح وہ ہرگز تلخ حوادث کی کثرت سے مایوس نہیں ہوتے ، وہ ڈٹ جاتے ہیں اور استقامت دکھاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ خدا کی رحمت کے دروانے کھل جائیں وہ جانتے ہیں کہ
سخت حوادث خدائی آزمائشں ہیں کہ جن کے ذریعے وہ کبھی کبھی اپنے خاص بندوں کو آزماتا ہے تاکہ انہیں اور زیادہ جلا بخشے۔