حضرت ایوبؑ کی مشکلات سے نجات
وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ۸۳فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِنْ ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ ۸۴
اور ایوب علیھ السّلام کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے بیماری نے چھولیا ہے اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے. تو ہم نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کی بیماری کو دور کردیا اور انہیں ان کے اہل وعیال دے دیئے اور ویسے ہی اور بھی دے دیئے کہ یہ ہماری طرف سے خاص مہربانی تھی اور یہ عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے.
تفسیر
حضرت ایوبؑ کی مشکلات سے نجات :
یہ آیات خدا کے ایک اور عظیم پیغمبر اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں ہیں اور وه "ایوبؑ" ہیں ۔ آپؑ وہ دسویں پیغمبرؑ ہیں كو جن کی زندگی کے ایک گوشہ کی طرف سوره
انبیا میں اشارہ ہوا ہے۔
حضرت ایوبؑ کی داستان دردناک بھی ہے اور باوقاربھی ، ان کا صبر و ضبط خصوصًا ناگوار حادثات میں عجیب و غریب تھا ، اس طرح سے کہ "صبر ایوب" ایک ضرب المثل بن گیا۔
لیکن زیر بحث آیات میں ، خاص طور سے مشکلات سے ان کی نجات اور کامیابی کا ذکر ہے اور کھوئی ہوئی نعمتیں دوبارہ حاصل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ، تاکہ یہ ہر زمانے میں
، تمام مومنین کے لیے کہ جو مشکلات میں گھر جاتے ہیں ایک بن جاۓ خصوصًا یہ کہ کے مومین کے لیے ایک سبق تھا کہ جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے تنگ گھیرے میں تھے۔
فرمایا گیا هے : ایوبؑ کو یاد کرو کہ جس وقت اس نے اپنے پروردگار کو پکارا اور عرض کیا کہ دکھ ، درد اور بیماری نے میری طرف رخ کرلیا ہے اور تو ارحم الراحمین ہے ( وایوب
اذ نادٰى ريه اني الضر وانت ارحم الراحمين)
"ضر" (برورزن "حر") ہر قسم کی بیماری اور پریشانی کو کہتے ہیں کہ جو انسان کی روح اور جسم کو عارض ہو اور اسی طرح سے یہ لفظ کسی عضو کا نقص ، مال کا تلفت ہو جانا
، عزیزوں کی موت ، حیثیت و مقام کی پامالی اور اسی طرح کی دوسری باتوں کے لیے بولا جاتا ہے۔
جیسا کہ ہم بعد میں بتائیں گے کہ ایوبؑ ان میں سے بہت سی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا ہوئے تھے ۔
ایوبؑ نے بھی دوسرے تمام انبیاء کی طرح ان طاقت فرسا مشکلات سے دور ہونے کے لیے دعا کرتے وقت بارگاہ الٰہی میں انتہائی ادب کو ملحوظ رکھا ۔ یہاں تک کہ زبان سے کوئی
ایسی بات نہیں نکالی کہ جس سے شکایت کی بو آتی ہو ۔ صرف اتنا کہا : میں کچھ مشکلات میں گرفتار ہوگیا ہوں اور تو ارحم الراحمین ہے ، یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ میری مشکل کو دور کر
دے کیونکہ جانتے ہیں کہ وه بزرگ و برتر ہے اور بزرگی کے تقاضوں کو جانتا ہے۔
اگلی آیت کہتی ہے : ایوب کی اس دعا کے بعد ہم نے اس کی دعا کو قبول کرلیا اور اس کے رنج ، دکھ اور پریشانی کو برطرف کر دی : ( فاستجبنا له فكشفنا ما به من ضر)۔
اور اس کے خاندان والے اسے پلٹا دیئے اور ان کے ساتھ ان ہی جیسے مزید بھی عطا کیے (وآتيناه أهله ومثلهم مهم)۔
تاکہ یہ ہماری طرف سے ان کے لیے رحمت خاص ہو اور یہ خدا کی عبادت کرنے والوں کے لیے بھی ایک سبق ہو (رحمة من عندنا وذكرى للعابدین)۔
تاکہ مسلمان یہ جان لیں کہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں اور مصیبتیں چاہے جس قدر ہوں، دشمن بھی چاہے جتنے بھی پھیلے ہوئے ہوں ، اور وہ (دشمن) چاہے جتنی بھی طاقت و
قدرت رکھتے ہوں ، پھر بھی پروردگار کے تھوڑے سے لطف وکرم سے یہ سب کچھ برطرف ہونے والی چیزیں ہیں ، نہ صرف نقصانات کی تلافی ہو جاتی ہے ، بلکہ بعض اوقات خدا بااستقامت صبر
کرنے والوں کی جزا کے عنوان سے ، جو کچھ ان کے ہاتھ سے گیا ہوا ہوتا ہے ، اتنا ہی اور مزید اسی پراضافہ کر دیتا ہے اور یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک درس ہے ۔ خصوصًا ان مسلمانوں کے لیے
جو ان آیات کے نزول کے وقت دشمن کے سخت دباؤ اور بہت زیادہ مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔