ہوائیں سلیمانؑ کے زیر فرمان
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ عَاصِفَةً تَجْرِي بِأَمْرِهِ إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۚ وَكُنَّا بِكُلِّ شَيْءٍ عَالِمِينَ ۸۱وَمِنَ الشَّيَاطِينِ مَنْ يَغُوصُونَ لَهُ وَيَعْمَلُونَ عَمَلًا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَكُنَّا لَهُمْ حَافِظِينَ ۸۲
اور سلیماوُ کے لئے تیز و تند ہواؤں کو لَسّخر کردیا جو ان کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھیں جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور ہم ہر شے کے جاننے والے ہیں. اور بعض جناّت کو بھی لَسّخر کردیا جو سمندر میں غوطے لگایا کرتے تھے اور اس کے علاوہ دوسرے کام بھی انجام دیا کرتے تھے اور ہم ان سب کے نگہبان تھے.
تفسیر
ہوائیں سلیمانؑ کے زیر فرمان :
ان آیات میں بعض ان نعمات کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ جو خدا نے اپنے ایک اور پیغمبر لیے سلیمان کو عطا کی تھیں - ارشاد ہوتا ہے ہم نے تیز اور طوفان خیز ہواؤں کو سلیمان کے
لیے مسخرکردیا تھا کہ جو اس کے کل سے اس سرزمین کی گردن میتی تھیں کہ جسے ہم نے مبارک قرار دیا تھا : ( ولسليمان الريح عاصفة تجري بامره الى الارض التي باركنا فيها) -
اور یہ کوئی عجیب کام نہیں ہے ، کیونکہ ہم ہر چیز سے آگاہ تھے اور ہیں (وكنا بکل شیء عالمين)-
ہم عالم هستی کے اسرار اور اس پر حاکم قوانین اور نظاموں سے بھی اگاہ تھے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں کس طرح سے زیر فرمان کیا جاسکتا ہے اور اس کام کے نتیجہ اور
انجام سے بھی واقف ہیں۔ بہرحال ہر چیز ہمارے علم و قدرت نے اسے قانع اور تابع فرمان ہے۔
"ولسليمان . . . - کا "جمله: " وسخرنا مع داؤد الجبال "کے جملہ عطف ہے ۔ یعنی ہماری قدرت ایسی ہے کہ ہم کبھی تو پہاڑیوں کو اپنے ایک بندے کے لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اس کے
ہمراہ تسبیح کریں اور کبھی ہواؤں کو اپنے کسی ایک بندے کے زیر زبان کردیتے ہیں تاکہ وہ اسے ہر جگہ پہنچائیں۔
"عاصفه" کا لفظ تیز ہوا یا طوفان کے معنی میں ہے جبکہ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائم اور آہستہ آہستہ چلنے والی ہوائیں بھی سلیمانؑ کے حکم کے تابع تھیں،
جیسا کہ سورہ "ص" کی آیہ 36 میں ہے :
فسخرنا له الريح تجري بأمره رخاء حيث أصاب
ہم نے ہوا کو اس کے تابع فرمان کر دیا تھا کہ وہ نرمی سے آہستہ آہستہ جہان وہ چاہتا تھا اسی طرف کو چلتی تھی۔
البتہ یہاں لفظ "عاصفه" ( تیز و تند ہوا" کا استعمال ممکن ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی اہمیت کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہو یعنی نہ صرف نرم و ملائم ہوائیں ان کے تابع فرمان تھیں
بلکہ سخت طوفان اور آندھیاں بھی ان کی اطاعت گزار تھیں ، کیونکہ دوسری بات زیادہ عجيب اورتعجب انگیز ہے۔
اور یہ ہوائیں صرف سر زمین مبارک (شام) کی راہ میں ہی ــــــ جو کہ سلیمان کا پایہ تخت تھا ، ـــــــ ان کے لیے مسخرنہیں تھیں ، بلکہ سوره ص کی آیہ 36 کے مطابق ، وہ جس
طرف بھی چاہتے تھے وہ اسی طرف چلتی تھیں کہنا مبارک سرزمین کے نام کی تصریح زیاده تراس بنا پر ہے ، کہ وہ حضرت سلیمانؑ کی حکومت کا دارالسلطنت اور پایہ تخت تھا۔
اب رہ گئی ہے یہ بات کہ ہوا ان کے اختیار میں کس طرح سے تھی اور کتنی سرعت اور تیزی سے چلتی تھی؟
سلیمان اور ان کے اصحاب کس چیز پر بیٹھ کر آیا جایا کرتے تھے ؟
چلتے وقت کونسا عامل انہیں گرنے یا ہوا کے دباؤ اور دوسری مشکلات سے محفوظ رکھتا تھا ؟
خلاصہ یہ ہے کہ وہ کونسی پراسرار قدرت اور طاقت تھی کہ جس نے اس زمانے میں ان کے لیے ایسے تیز رفتار سفر کو مکن بنادیا تھا۔ ؎1
یہ ایسے مسائل ہیں کہ جن کی تفصیلات ہمیں معلوم نہیں ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ ایک عنایت الٰہی اوربخشش خداوندی اور غیر معمولی بات اور معجزہ تھی کہ اس عظیم پیغمبر
کے اختیار میں دی گئی تھی اور ہم اس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں ہیں اور کتنے ہی ایسے بہت سے مسائل میں کہ جن کو ہم اجمالی طور پر تو جانتے ہیں لیکن انکی تفصیل نہیں جانتے ، ہماری معلومات
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 سوره سبا کی آیہ 12 " ولسليمان الريح غدوها شهر و رواحها شهر" سے اجمالی طور پراتنا هی معلوم ہوتا هے کہ وہ صبح کے وقت ایک ماه کی اور عصر کے وقت ایک ماہ کی مسافت طے
کیا کرتے تھے (اس زمانے کی رفتار کے لحاظ سے)۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ان باتوں کے مقابلہ میں کہ جو ہمیں معلوم نہیں ہیں ، ایک بہت بڑے سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ کی سی ہیں یا ایک عظیم پہاڑ کے مقابلہ میں غبار کے ایک ذرے کی مانند ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ایک خدا پرست اور موحد انسان کی بصیرت کے لحاظ سے کوئی چیز خدا کی قدرت کے سامنے مشکل اور غیر ممکن نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر اور ہر چیز کا عالم ہے۔
البتہ حضرت سلیمانؑ کی زندگی کے دوسرے حیرت انگیز حصوں کی مانند ان کی زندگی کے اس حصے کے بارے میں بھی بہت سے چھوٹے یا مشکوک افسانے لکھے گئے ہیں کہ جو
ہمارے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں ۔ ہم صرف اسی پر اکتفا کرتے ہیں کہ قرآن نے یہاں پر بیان کیا ہے۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ دور حاضر کے مصنفهین میں سے بعض کا نظریہ ہے کہ قرآن نے حضرت سلیمانؑ اور ان کی بساط کے ہوا کے ذریعے چلنے کے بارے میں
کوئی بات صریحی طور پر بیان نہیں کی ہے بلکہ صرف ہوا کو سلیمانؑ کے لیے مسخر کر دینے کی بات کی ہے اور ممکن ہے کہ یہ زراعت سے مربوط مسائل نباتات میں زرپاشی و تلقیح ، گندم وغیرہ
کے خرموں کو صاف کرنے اورکشتیوں کے چلانے کے لیے ہواؤں کی طاقت سے استفادہ کرنے کی طرف اشارہ ہو۔ خاص طور سے جبکہ حضرت سلیمان کی سرزمین (شام) ایک طرف سے تو وہ
زرعی زمین تھی اور دوسری طرف سے اس کا ایک اہم حصہ بیحرہ روم کے ساحل سے ملتا تھا اور جہازرانی کے لیے کام آسکتا تها۔ ؎1
لیکن یہ تفسیر ، سوره "سبا" اور سورہ "ص" کی آیات اور بعض روایات کے ساتھ ، کہ جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ، چندان مطابقت نہیں رکھتی۔
بعد والی آیت حضرت سلیمان کے لیے ایک اور خاص عنایت کو بیان کرتی ہے : ہم نے بعض شیاطین کو اس کے لیے مسخر کردیا تھا کہ جو اس کے لیے سمندر میں غوطے لگاتے تھے
(اور جوہرات اور قیمتی چیزیں باہر نکال کر لاتے تھے) اور اس کے لیے ان کے علاوہ اور خدمت بھی انجام دیتے تھے (ومن الشياطين من يغوصون له و يعملون عملًادون ذلك) -
اور ہم انہیں اس کے فرمان سے ، سرکشی سے روکے رکھتے تھے (وكنالھم حافظين)۔
اوپر والی آیت میں جو کچھ "شیاطین" کے حوالے سے بیان ہوا ہے ، سورہ سبا کی آیات میں اسے "جن" کے حوالے سے بیان کیاگیا ہے (سبا 12 ، 13 ) سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں
"تعبیریں" ایک دوسرے کے کوئی منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ "شیاطین" بھی جنوں کے ہی قبیلے سے ہوتے ہیں۔
بہرحال جیسے کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں جن مخلوقات کی ایک ایسی نوع ہے کہ جو عقل و شعور ، استعداد اور جواب وہی رکھتی ہے۔ یہ مخلوق ہم انسانوں کی نظروں سے
پوشیدہ ہے اوراسی وجہ سے :جن" کے نام سے موسوم ہے اور جیسا کہ سورہ جن کی آیات سے معلوم ہوتا ہے ، ان کے بھی انسانوں کی طرح دو گروہ ہیں:
1- صالح مومن 2- سرکش کافر اور ہمارے پاس ایسی موجودات کی نفی پر کوئی دلیل نہیں ہے اور چونکہ مخبر صادق (قرآن) نے ان خبردی ہے لہذا ہم انہیں قبول کرتے ہیں۔
سورہ "ص" اور سورہ سبا کی آیات اور اسی طرح زیر بحث آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ جنات کا یہ گروه کہ جو حضرت سلیمان
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 قصص قرآن ص 185 - اعلام قرآن ، ص 386 -
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کے لیے مسخر تھا سمجھدار ، فعال اور ہنرمند افراد پر مشتمل تھا۔
اور " يعملون عملا دون ذلك" ( اور اس کے علاوہ ان کے لیے اور کام بھی انجام دیتے تھے) جس چیز کی طرف اشاره ہے اس کی تقصیل سورہ سبا آیت 13 میں آئی ہے۔
يعملون له مايشياء من محاريب و تماثيل و جفان کاالجواب و
قدورراسيات
سورہ سبا کی یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اس کے لیے "محرابیں" بہت اعلی اور خوبصورت عبادت گاہیں اور ضروریات زندگی کی مختلف چیزیں بشمول دیگیں ، بڑی بڑی سینیاں
اور اسی قسم کی دوسری چیز میں بنایا کرتے تھے۔
حضرت سلیمان کے متعلق بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین کا ایک سرکش گروہ بھی موجود تھا ، کہ جنہیں حضرت سلیمانؑ نے قید کر رکھا تھا :
وأخرين مقرنين في الأصفاد ؎1
اور شاید : "و كنالهم وحافظين" کا جملہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ ہم نے سلیمان کے اس خدمت گار گروہ کو سرکشی سے روک رکھا تھا۔
آپ اس سلسلے میں مزید تفصیل انشاالله سورہ سبا اور سورہ ص کی تفسیر میں پڑھیں گے۔
ہم پھر یادہانی کراتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ کی زندگی اور ان کے لشکر کے بارے میں بہت سے جھوٹے یا مشکوک افسانے کھڑے ہوئے ہیں کہ جنہیں ہرگز قرآن کے متن کے ساتھ
مخلوط نہیں کرنا چاہیے تاکہ وه بہانہ سازوں کے لیے دستاویز نہ بن جائیں۔
۔---------------------------------------------------------------------
؎1 اور دوسروں کو زنجیروں میں جکڑ کے رکھا گیا تھا. (ص - 38)۔