ایک نکتہ
وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ۷۸فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِينَ ۷۹وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِنْ بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ ۸۰
اور داؤد علیھ السّلاماور سلیمان علیھ السّلام کو یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے جب کھیت میں قوم کی بکریاں گھصَ گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے. پھر ہم نے سلیمان علیھ السّلام کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا اور ہم نے سب کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا اور داؤد علیھ السّلام کے ساتھ پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ وہ تسبیح پروردگار کریں اور طیور کو بھی لَسّخر کردیا تھا اور ہم ایسے کام کرتے رہتے ہیں. اور ہم نے انہیں زرہ بنانے کی صنعت تعلیم دے دی تاکہ وہ تم کو جنگ کے خطرات سے محفوظ رکھ سکے تو کیا تم ہمارے شکر گزار بندے بنو گے.
ایک نکتہ:
اس بارے میں مفسران میں اختلاف ہے کہ پہاڑ اور پرندوں کا داؤد کے ساتھ ہم صدا ہونا کس صورت میں تھا ۔مختلف مفسرین کی بعض آراء ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:
1- کبھی تو یہ احتمال ظاہر کیا جاتا ہے کہ حضرت داؤ کی آواز بڑی پرکشش تھی کہ جو پہاڑوں میں گونجا کرتی تھی اور پرندوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔
2- کبھی یہ کہا جا تا ہے کہ یہ تسبیح ایک ایسے شعور کی حامل تھی کہ جو وزرات عالم کے اعلان میں موجود ہے ۔ کیونکہ اس نظریے کے مطابق عالم کے تمام موجودات عقل
وشعور رکھتے ہیں۔ لهذا وجس وقت حضرت داود کی سناهاست سی سنتے تھے تو ان کے سائق مکمل ہوجائے اوران کی تسبہ کا غلندی ان کی آواز کے ساتھ مل جاتا تھا۔ ۳
3- بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہی تین نبوی ہے کہ تمام موجودات عالم زبان حال سے کرتی ہیں کیونکہ ہر موجود کا ایک نشان ایک ایسا نظام کو جو بہت ہی دقیق اور حساب
شده ہے۔ یہ وقت اور حساب شده نظام ایک ایسے خدا کے وجود پر دلالت کرتا ہے کہ جو پاک و منزہ بھی ہے اور صفات کمال کا مالک بھی ۔ عالم ہستی کے اس حیرت انگیز نظام کی بنا پر ہر گوشہ میں
تینٓبیح اور حمد جاری ہے۔ (تسبیح کا معنی نقائص سے پاک شمار کرنا ہے اور حمد اس کی صفات کمال کی تعریف کرنا ہے )؎1
اگر یہ کہا جانے کہ یہ تسبیح تکوینی نہ تو پہاڑوں اور پرندوں کے ساتھ مخصوص ہے اور حضرت داود کے ساتھ بلکہ ہمیشہ اورجگہ تمام موجودات اس تسبیح میں مصروف ہے ۔
اس کے جواب میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ٹھیک ہے ، یہ عمومی تسبیح توہے، لیکن سب اس کو سنتے تو نہیں ہیں ، یہ تو حضرت داؤد کی عظیم روح تھی کہ جو اس حالت میں عالم
ہستی کے اندر اور باطن کی ہم راز اور ان سے ہم آہنگ ہوجاتی تھی اور وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے اور سنتے تھے کر پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ همصدا ہیں اور تسبیح کررہے ہیں۔
ان تفسیروں میں سے کسی کے لیے بھی ہمارے پاس کو قطعی اور دو ٹوک دلیل نہیں ہے۔ آیت کے ظاہر سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کہ
ساتھ ہم صدا ہو جاتے تھے اور خدا کی تسبیح کرتے تھے۔ البتہ ان تینوں تفسریوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ان تینوں کو ایک ساتھ بھی لیا جاسکتا ہے۔
زیر بحث آخری آیت میں ایک اور نعمت کی طرف کہ خدا نے اس عظیم پیغمبر کوعطاکی تھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ہم نے اسے زرہ بنانے کی تعلیم دی تھی تاکہ تمہاری
جنگوں میں تمہاری حفاظت کرے، کیا تم خدا کا اس کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہور (وعلمناه صنعۃ لبوس لكمالتحصنكم من بأسكم فهل انتم شاكرون)۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎ مزید وضاحت کے لیے تفسیر نمونہ کی جلد12 سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 44 کے ذیل میں رجوع کریں ۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
"لبوس" جیسا کہ طبرسی مرحوم "مجمع البیان" میں کہتے ہیں ، ہر قسم کے دفاعی اور حملوں میں استعمال ہونے والے اسلحہ جیسے زرہ ، تلوار اور نیزہ وغرہ کوکہتے ہیں۔ ؎1
لیکن قرآن کی آیت میں جو قرائن ہیں "وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ "لبوس"، یہاں پر زرہ کے معنی میں ہے کہ جو جنگوں میں حفاظت کے کام آتی ہے۔
لیکن یہ بات کہ خدا نے حضرت داؤد کے لیے لوہے کو اس طرح سے نرم کیا تھا اور انہیں زرہ سازی کی صنعت سرور سکھائی، تور اس کی تفصیل ہم انشا الله سوره سبا کی آیه10
اور 11 کے ذیل میں بیان کریں گے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں -