Tafseer e Namoona

Topic

											

									  داؤدؑ اور سلیمانؑ کا فیصلہ

										
																									
								

Ayat No : 78-80

: الانبياء

وَدَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ إِذْ يَحْكُمَانِ فِي الْحَرْثِ إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ وَكُنَّا لِحُكْمِهِمْ شَاهِدِينَ ۷۸فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ ۚ وَكُلًّا آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ ۚ وَكُنَّا فَاعِلِينَ ۷۹وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِنْ بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنْتُمْ شَاكِرُونَ ۸۰

Translation

اور داؤد علیھ السّلاماور سلیمان علیھ السّلام کو یاد کرو جب وہ دونوں ایک کھیتی کے بارے میں فیصلہ کررہے تھے جب کھیت میں قوم کی بکریاں گھصَ گئی تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کو دیکھ رہے تھے. پھر ہم نے سلیمان علیھ السّلام کو صحیح فیصلہ سمجھا دیا اور ہم نے سب کو قوت فیصلہ اور علم عطا کیا تھا اور داؤد علیھ السّلام کے ساتھ پہاڑوں کو لَسّخر کردیا تھا کہ وہ تسبیح پروردگار کریں اور طیور کو بھی لَسّخر کردیا تھا اور ہم ایسے کام کرتے رہتے ہیں. اور ہم نے انہیں زرہ بنانے کی صنعت تعلیم دے دی تاکہ وہ تم کو جنگ کے خطرات سے محفوظ رکھ سکے تو کیا تم ہمارے شکر گزار بندے بنو گے.

Tafseer

									  تفسیر
         داؤدؑ اور سلیمانؑ کا فیصلہ :
 حضرت موسٰیؑ ، حضرت ہارونؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت لوطؑ ، اور حضرت نوحؑ سے متعلق واقعات کے بیان کے بعد زیر بحث آیات ، داؤدؑ و سلیمانؑ کی زندگی کے ایک حصہ کی 

طرف اشارہ کررہی ہیں ۔ ابتداء میں ایک فیصلے کا ذکر ہے کہ جو حضرت داؤد اور سلیمان نے کیا تھا ــــــــ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: 
 اور داؤد و سلیمان کو یاد کرو کہ جس وقت وہ ایک کھیت کے بارے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ جس کو ایک قوم کی بھیڑیں رات کے وقت چرگئی تھیں (و داؤد و سليمان اذ يحكمان في 

الحرثان أذ نفشت فيه غنم القوم) - ؎1
 اور ہم ان کے فیصلے کے شاہد تھے ( وكنا لحكمهم وشاهدين)۔
 اگرچہ قرآن نے اس فیصلے کا واقعہ کا ملا سربستہ طور پر بیان کیا ہے اور ایک اجمالی اشارہ پر ہی اکتفا کیا ہے ، اور صرف اس کے اخلاقی اور تربیتی نتیجہ پر کہ جس کی طرف ہم 

بعد میں اشارہ کریں گے قناعت کی ہے، لیکن اسلامی روایات اور مفسرین کے بیانات میں اس سلسلے میں بہت سی بحثیں نظر آتی ہیں۔
 کچھ مفسرین نے یہ بیان کیا ہے کہ وہ واقعہ اس طرح تھا : کہ بھیڑوں کا ایک ریوڑ رات کے وقت انگوروں کے ایک باغ میں داخل ہوگیا اور انگوروں کی بیلوں اور انگوروں کے گچھوں 

کو کھا گیا اور میں خراب اور ضائع کردیا۔ باغ کا مالک حضرت داؤد کے پاس شکایت لے کر پہنچا۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "فنشت" "نفش" ( بروزن "کفش") کے مادہ سے رات کو پراگنده ہونے کے معنی میں ہے، اور چونکہ بھیڑوں کا رات کو پراگندہ ہونا ، اور وہ بھی ایک کھیت میں ، طبعی طور پر اس میں چرنے 

سے ملا ہوا ہوگا ، لہذا بعض نے اسے رات کو چرنا کہاہے ، اور "نفشی" (برزون قفس) ان بھیڑوں کے معنی میں ہے کہ جو رات کو پراگندہ اور منتشر ہوجائیں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 حضرت داؤد نے حکم دیا کہ اس اتنے بڑے نقصان کے بدلے میں تمام بھیڑیں باغ کے مالک کو دے دی جائیں سلیمانؑ جو اس وقت بچے تھے باپ سے کہتے ہیں کہ : اے خدا کے عظیم 

پیغمبر آپ اس حکم کو بدل دیں اور منصفانہ فیصلہ کریں ! باپ نے کہا کہ وہ کیسے آپ جواب میں کہتے ہیں کہ : بھیڑیں تو باغ کے مالک کے سپرد کی جائیں تاکہ وہ ان کے دودھ اور اون سے فائدہ 

اٹھائے اور باغ کو بھیڑوں کے مالک کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس کی اصلاح اور درستی کی کوشش کرے۔ جس وقت باغ پہلی حالت میں لوٹ آئے تو وہ اس کے مالک کے سپرد کر دیا جائے 

اوربھیڑوں میں بھی اپنے اس کے پاس لوٹ جائیں گی (اور خدائے بعد والی آیت کے مطابق سلیمان کے فیصلہ کی تائید کی )۔
 یہ مضمون ایک روایت میں امام باقر اور امام صادقؑ" سے نقل ہواہے۔ ؎1
 ممکن ہے یہ تصور ہو کہ یہ تفسیر لفظ "حرث" کے ساتھ جو کہ زراعت کے معنی میں ہے مناسبت نہیں رکھتی لیکن ظاہرًا "حرث" ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں زراعت میں 

شامل ہے اور باغ بھی - جیسا کہ باغ والوں کی داستان (اصحاب الجنة) سوره قلم آیہ 17 تا 22 سے معلوم ہوتا ہے۔
 لیکن یہاں چند اہم سوال باقی رہ جاتے ہیں۔ 
 1-    ان دونوں فیصلوں کی بنیاد اور معیار کیا تها ؟
 2-    حضرت داؤد اور سلیمان کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف کیوں تھے ! کیا وہ اجہتاد کی بنیاد پرفیصلہ کیا کرتے تھے ؟ 
 3-    کیا یہ مسئلہ ، ایک مشورے کی صورت میں تھا یا دونوں نے ایک دوسرے سے الگ ، قطعی اور مستقل حیثیت سے فصلہ ديا تها:
 پہلے سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ معیار اور بنیاد خسارے اور نقصان کی تلافی کرنا تھا ۔ حضرت داؤدؑ نے غور کیا اور دیکها کہ انگوروں کے باغ میں جو نقصان ہوا ہے ، 

وہ بھیڑوں کی قیمت کے برابر ہے۔ لہذا انہوں نے حکم دے دیا کہ اس نقصان کی تلافی کرنے کے لیے بھیڑیں میں باغ کے مالک کو دے دی جائیں کیونکہ قصور بھیڑوں کے مالک کا تھ۔ا۔ 
  اس بات کی طرف توجہ رہے کہ بعض اسلامی روایات میں سے بیان ہوا ہے کہ رات کے وقت 
  بھیڑوں والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ڑیوڑ کو دوسروں کے کھیتوں میں داخل ہونے سے روکے
  اور دن کے وقت حفاظت کی زمہ داری کھیتوں کے مالک کی ہے۔؎2
 اور حضرت سلیمانؑ کے حکم کا ضابطہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ باغ کے مالک کا نقصان بھیڑوں کے ایک سال کے منافع کے برابرہے۔
 اس بنا پرفیصلہ تو دونوں نے حق و انصاف کے مطابق کیا ہے ، لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ کا فیصلہ زیادہ گہرائی پرمبنی تھا ، کیونکہ اس کے مطابق خساره یکمشت 

پورا نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسی طرح خساره تدریجی طور پر پورا ہوتا اور یہ فیصلہ بھیڑوں والے سے بھی گراں نہ تھا ۔
 علاوہ ازیں نقصان اور تلافی کے درمیان امٓیک تناسب تھا ، کیونکہ انگور کی جڑیں ختم نہیں ہوئی تھیں ، صرف ان کا وقتی منافع ختم ہوا تھا:
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1       مجمع البیان ، زیربحث آیت کے ذیل میں - 
  ؎2      مجمع البیان زیربحث آیت کے ذیل میں - اس طرح بیان ہواہے کہ " روی عن النبي آنہ قضٰی بحفظ المواشي على اربا بهاليلا وقضی بحفظ الحرث علی اربابها نهارا "یہی مضمون تفسیرصافی میں 

بھی کتاب کافی کاف سے منقول ہے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لہذا زیادہ منصفانہ فیصلہ یہ تھا کہ اصل بھیڑیں باغ کے مالک کو نہ دی جائیں ۔ بلکہ اسے ان کا منافع دیا جائے۔
 ودسرے سوال کے جواب میں  ہم کہتے ہیں کہ بے شک انبیا کافیصلہ خدائی وحی کی بنیاد پر ہوتا ہے ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں جب بھی کسی فیصلے کا موقع ہو، تو ہر خاص فیصلہ 

کے وقت خاص وحی نازل ہوتی ہے بلکہ وہ ان عمومی ضابطوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے وحی سے حاصل کیے ہوتے ہیں۔ 
 ان اس بنا پر اصطلاعی  معنی میں اجتہاد نظری یعنی اجتہاد ظنی کی ــــــــ  ان کے بارےمیں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
  لیکن اس بات میں کوئی امر باقی نہیں ہے کہ ایک ضابطہ گلی کوعملی شکل دینے میں دو راستے موجود ہوں اور دو پیغمبر میں سے ہر ایک ان میں سے کسی ایک راستے کو اختیار 

کرلے ہے جبکہ حقیقت میں وہ دونوں کے دونوں صحیح ہوں اور اتفاق کی بات یہکہ ہماری اس بحث میں بھی مطلب اسی طرح کا ہے۔ جیسا کہ اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے لیکن جیسا کہ قرآن 

اشارہ کرتا ہے، وہ راہ جو سلیمان نے اختیار کی (وہ اجرائی لحاظ سے) زیادہ مناسب تھی اور" و كلًااتیناحكما و علما" (ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو حکم و علم دیا تھا) کا جملہ جو اگلی آیت میں 

آئے گا دونوں فیصلوں کی درستی پر گواہ ہے۔
 تیرے سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ بعید نہیں ہے کہ یہ بات مشاورت کے اطورپر ہی ہو ، ایسی مشاورت کہ جو احتمالًا سليمانؑ کی آزمائش اور امر قضاوت میں ان کی لیاقت 

کو آزمانے کے ایسی صورت بنائی ہوئی ہو "حکمھما (ان  دونوں ک حکم)کی تعبیر بھی ان کے آخری حکم کے ایک ہونے پر گواہ ہے۔ اگرچہ ابتداء میں دومختلف تجویزیں  ہی تھیں ۔(غور کیجیئے گا)۔ 
 ایک روایت میں امام باقر علیہ اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا :
  لم یحكما إنما كانا يتناظران 
  انہوان نے آخری فیصلہ نہیں دیا تھا وہ تو اس میں اپنی اپنی آراء پیش کر رہے تھے اور مشورہ کر
  کر رہے تھے۔ ؎1
 ایک اور روایت ہے کہ جو اصول کافی میں امام صادق علیہ اسلام سے نقل ہوئی ہے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ماجرا داؤد کے وصی و جانشین سے تقرر کے لیے آزمائش کے طور پر 

تھا۔ ؎2
 بہرحال بعد والی آیت میں سلیمان کے فیصلے کی اس صورت میں تائید کی گئی ہے ، ہم نے یہ فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھا دیا تھا ، اور ہماری تائید سے اس نے اس جھگڑے کے حل کی 

بہترین راہ معلوم کرلی (ففهمناها سلیمان)۔
 لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کر حضرت داد کا فیصلہ غلط تھا۔ کیونکہ قرآن ساتھ ہی کہتا ہے ہم نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو آگاہی اور فیصلے کی اہلیت اور علم عطا کیا تھا (وكلًاتینا 

حكمًا وعلمًا)۔
 اس کے بعد ایک اور اعزاز کہ جو خدا نے حضرت داؤد کو دیا تھا ، اس کی طرف اشارہ کرتے فرمایا گیا ہے۔ ہم نے پہاڑورں  کو داؤد کے لیے مسخر کردیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ 

تسبیح کرتے تھے اور اسی طرح پرندوں کو بھی (و سخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطير)۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     " من لایحضره الفقيه - 
  ؎2     مزید وضاحت کے لیے تقسیر صافی میں زیر بحث آیہ کے ذیل رجوع کریں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 یہ سب باتیں ہماری قدرت کے سامنے کوئی اہم چیز نہیں ہیں ہم یہ کام انجام دینے پرقادر تھے (ويكنا فاعلين)-