Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک نکته

										
																									
								

Ayat No : 76-77

: الانبياء

وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ۷۶وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ ۷۷

Translation

اور نوح علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب انہوں نے پہلے ہی ہم کو آواز دی اور ہم نے ان کی گزارش قبول کرلی اور انہیں اور ان کے اہل کو بہت بڑے کرب سے نجات دلادی. اور ان لوگوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے کہ یہ لوگ بہت بری قوم تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا.

Tafseer

									 ایک نکته
 اس نکتے کا بیان بھی ضروری ہے کہ ابراہیمؑ اور لوطؑ کی سرگزشت میں بھی ان کی جابر دشمنوں اور مصائب سے نجات کا ذکر ہے۔ اور اسی طرح "ایوب " اور "یونس" کے قصہ میں 

بھی نوحؑ کی طرح بھی ان کی جابر دشمنوں اور مصیبتوں کے چنگل سے نجات کا ذکر آئے گا۔ 
 گویا پروگرام یہ ہے کہ خدا اس سورة انبیاء میں پیغمبروں کی بے دریغ حمایت ، اور ان کی مشکلات کے چنگل سے نجات کو بیان کرے تاکہ رسول اسلامؐ کے لیے تسلی اور مومنین کے 

لیے امید کا سبب ہو۔ خصوصًا اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکی ہے اورمسلمان اس وقت شدید پریشانی اور رنج و تکلیف میں تھے ، اس مسئلہ کی اہمیت اور بھی زیادہ واضح اور 

روشن ہوجاتی ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    عام طور پر "نصر" "علٰى" کے ذریعہ دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے ، مثلًا كہا جاتا ہے " اللهم انصرنا عليهم "لیکن یہاں "من " استعمال ہوا ہے ، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس سے 

مراد ایسی مدد کرنا ہے کہ جو نجات کے ساتھ وابستہ ہو کیونکہ نجات کا ماده "من " کے ساتھ متعدی ہوجاتا ہے.