متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں سے نوحؑ کی نجات
وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ ۷۶وَنَصَرْنَاهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ ۷۷
اور نوح علیھ السّلامکو یاد کرو کہ جب انہوں نے پہلے ہی ہم کو آواز دی اور ہم نے ان کی گزارش قبول کرلی اور انہیں اور ان کے اہل کو بہت بڑے کرب سے نجات دلادی. اور ان لوگوں کے مقابلہ میں ان کی مدد کی جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے کہ یہ لوگ بہت بری قوم تھے تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا.
تفسیر
متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں سے نوحؑ کی نجات :
ابراہیم اور لوط کی داستان کے ایک گوشہ کا ذکر کرنے کے بعد ، ایک اور عظیم پیغمبر یعنی حضرت نوحؑ کی سرگزشت کے ایک حصہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
اور نوح کو یاد کرو جبکہ اس نے (ابراہیم ولوط سے پہلے اپنے پروردگار کو پکارا اور بے ایمان محروم لوگوں کے چنگل سے نجات کے لیے درخواست کی ( ونوحًا اذ نادي من قبل)۔
حضرت نوحؑ کی یہ ندا ظاہری طور پر ان کی اس تقرین اور بدعا کی طرف اشارہ ہے جو قرآن مجید کی سورہ نوح میں بیان ہوئی ہے۔ جہاں پر ہے:
رب لاتذر على الارض من الكافرين ديارًا إنك أن تذرهم يضلوا
عبادك ولا يلدواالافاجرا کفارًا
پروردگارا ! اس بے ایمان قوم کے کسی فرد کو باقی نہ رہنے دے کیونکہ اگر یہ باقی رہ گئے تو
تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی آئندہ نسل بھی کافر و فاجر ہی ہوگی ۔ (نوح 26-27)۔
اور یا اس عمل کی طرف اشارہ ہے کہ جو سوره قمر کی آیہ 10 میں ہے:
فدعاربه انی مغلوب فانتصر
اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں ان کے مقابلہ میں مغلوب ہوں تو میری مدد فرما ۔
"نادی" کی تعبیر کہ جو عام طور پر پکارنے کے لیے آتی ہے ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اس بزرگ پیغمبر کو اس قدر پریشان کیا تھا کہ وہ آخر کار چیخ اٹھا اور واقعًا اگر
حضرت نوحؑ کے حالات کا ــــــ کہ جن کا کچھ حصہ سورہ نوحؑ میں بیان ہوا ہے اور کچھ حصہ سوره ھود میں ــــــ اچھی طرح سے مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ فریاد کرنے میں حق
بجانب تھے۔ ؎1
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی دعا قبول کرلی اور اسے اور اس کے گھروالوں کو اس عظیم غم سے نجات بخشی (فاستجبتاله فنجيناه واهله من الكرب العظیم)۔
درحقیقت لفظ "فاستجبنا" تو ان کی دعا قبول ہونے کی طرف ایک اجمالی اشارہ ہے اور "فتجيه واھله من الكرب العظيم" اس کی تشریح وتفصیل شمار ہوتا ہے۔
اس بارے میں کہ یہاں پرلفظ " أهل " سے کون مراد ہے ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کیونکہ اگر اس سے مراد حضرت نوحؑ کے گھر والے ہی ہوں تو یہ صرف آپ کے بعض بیٹیوں
کے لیے ہی ہوگا کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کا ایک بیٹا ، برے لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اپنی خاندان نبوت کی اہلیت کھو بیٹھا تھا۔
ان کی بیوی بھی ان کے مسلک اور طریقہ پر نہیں تھی اور اگر "اهل" سے مراد ، ان کے خاص پیروکار اور ان کے صاحب ایمان ساتھی ہوں ، تویہ "اھل" کے مشہور معنی کے برخلاف
ہے۔
البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں پر "اهل" ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں آپ کے مومن عزیز و اقارب بھی شامل ہیں اور خاص اصحاب و انصار بھی کیونکہ ان کے نا اہل بیٹے کے
بارے میں تو یہ بیان ہوا ہے کہ :
انه لیس من اهلک
وہ تیرے خاندان میں سے نہیں ہے ، کیونکہ اس نے مکتب و مذہب تجھ سے جدا کر لیا ہے. ( هود ـــــ 42)
اس بنا پر وہ لوگ کہ جو حضرت نوح کے ساتھ مکتب اور مذہب کا رشتہ رکھتے تھے وہ حقیقت میں آپ کے خاندان سے شمار ہوتے تھے۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ لفظ "كرب" لغت میں "اندو شدید" کے معنی میں ہے اور دراصل یہ "كرب" سے لیا گیاہے کہ جو زمین الٹنے پلٹنے کے معنی میں ہے۔ اندوہ شدید
کیونکہ انسان کے دل کو تہ و بالا کر دیتا ہے اور اس کی "عظیم" کے ساتھ توصيف ، نوح کے انددہ کی شدت کی انتہا کو ظاہر کر رہی ہے۔
اس سے بڑھ کر اور کیا غم و انددہ ہوگا کہ صریح آیات قرآنی کے مطابق کہ انہوں نے ۹۵۰ سال دین حق کی دعوت دی لیکن مفسرين کے درمیان مشہور قول کے مطابق اس ساری طویل
مدت میں صرف اسی افراد آپ پر ایمان لائے؟۔ ؎2
اور باقی لوگوں کا کام ، ٹھٹھہ کرنے ، مذاق اڑانے ، اذیت دینے ، اور آزار پہنچانے کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔
اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس کی ، اس قوم کے مقابلے میں مدد کی کہ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتی تھی .
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر نمونہ جلد 9 ص 83 سے لے کر 129 (اردو ترجمہ) تک مراجعہ فرمائیں۔
؎2 مجمع البیان ، سورہ ھود کی آیہ کے ذیل میں اور نور الثقلین ج 2 ص 350۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اونصرناه من القوم الذين كذبوا بآياتنا )۔ ؎1
"کیونکہ وہ بری قوم تھی لہذا ہم نے ان سب کو غرق کردیا" (الھم كانوا قوم سوء فأغرقناهم اجمعين)۔
یہ جملہ ایک بار پھر اس حقیقت پر ایک تاکید ہے کہ خدائی عذاب اور سزائیں ہرگز انتقامی پہلو نہیں رکھتیں بلکہ بنیاد یہ ہے کہ حیات اور نعمات زندگی سے استفادہ کرنے کا حق انہی
لوگوں کو حاصل ہے کہ جو ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے ، اللہ کے راستے پر چل رہے ہوں اور اگر ان سے کسی دن انحرافی راستے میں قدم پڑبھی جائے ، تو وہ اپنی غلطی پر غور کرتے ہوئے
واپسں لوٹ آئیں لیکن وہ گروہ کہ جو فاسد ہوچکا ہے اور آئندہ بھی ان کی اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے، تو ان کا انجام سوائے موت اور نابودی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔