بروں کے علاقوں سے لوط کی نجات
وَلُوطًا آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ تَعْمَلُ الْخَبَائِثَ ۗ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمَ سَوْءٍ فَاسِقِينَ ۷۴وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ ۷۵
اور لوط علیھ السّلام کو یاد کرو جنہیں ہم نے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا اور اس بستی سے نجات دلادی جو بدکاریوں میں مبتلا تھی کہ یقینا یہ لوگ بڑے بڑے اور فاسق تھے. اور ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلیا کہ وہ یقینا ہمارے نیک کردار بندوں میں سے تھے.
تفسیر
بروں کے علاقوں سے لوط کی نجات :
حضرت لوط چونکہ حضرت ابراہیم کے قریبی رشتہ داروں اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے لہذا حضرت ابراہیمؑ کے واقعے کے بعد ابلاغ رسالت کے سلسلہ
میں ان کی جدوجہد اور کوششوں کے ایک حصہ کی طرف اور ان کے لیے پروردگار کے انعامات و احسانات کی طرف میں اشارہ کیاگیا ہے : اور لوط کو یاد کرو کہ جسے ہم نے حکم اور علم دیا (
ولوطا أتيناه حكمًا و علمًا)۔؎1
لفظ " حکم" بعض مقامات پر تو فرمان نبوت و رسالت کے معنی میں آیا ہے اور کچھ دوسرے مقامات پر قضاوت اور فیصلہ کرنے کے معنی میں ، جب کہ بعض اوقات عقل و خرد کے
معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ ان معانی میں سے یہاں پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتاہے اگرچہ ان معانی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔
"علم" سے مراد ہر قسم کا علم و دانش ہے کہ جس کا انسان کی سعادت اور انجام میں گہرا اثر ہوتاہے۔
لوط بزرگ انبیاء میں سے ہیں ، جوابراہیم کے ہمعصر تھے اور انہوں نے ابراہیم کے ساتھ سرزمین بابل سے فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی ۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم سے جدا ہو
کر "سدوم" شہر میں آئے کیونکہ اس علاقے کے لوگ گناہ اور بد کاری میں مبتلا کیلئے خصوصًا جنسی انحرافات اور آلودگیوں میں غرق تھے۔ انہوں نے اس منحرف قوم کی ہدایت کے لیے بہت کوشش
کی اور اس راستے میں خون جگر کے گھونٹ پیئے ، لیکن ان دل کے اندھوں پر کچھ اثر نہ ہوا۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 لفظ "لوط" کا یہاں منسوب ہونا اس بنا پر ہے کہ وہ فعل مقدر کا مفعول ہے ، یہ فعل ممکن کہ " أتينا" ہویا "اذكر" ہو ۔
؎2 لفظ "حكم" اور "علم" کی تفسیر اور ان دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں ہم جلد 9 صفحہ 325 (اردو ترجمہ) پر بھی بحث کرچکے ہیں ۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
انجام کار ــ جیساکہ ہم جانتے ہیں ــــــ خداکے شدید عذاب نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان کی آبادیاں بالکل تہ و بالا ہوگئیں اور سوائے لوط کے گھروالوں کے ، ان کی بیوی کے
علاوہ سب کے سب نابود ہوگئے ہیں کہ اس کی پوری تو تفصیل ہم سوره هود کی آیت 77 کے بعد بیان کرچکے ہیں ۔ ؎1
لہذا زیر بحث آیت کے آخر میں اس کرم فرمائی کی طرف کہ جو اس نے لوط پر کی تھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاهے ، ہم نے اسے اس شہرسے کہ جہاں لوگ قبیح کام کرتے تھے
رہائی بخشی (ونجيناه من القریة التي كانت تعمل الخبائث)۔
کیونکہ وہ برے لوگ تھے اور وہ فرمان حق کی اطاعت سے باہر نکل گئے تھے، (انھم كانوا قوم سوء فاسقين) -
اہل شہرکی بجائے ، قبیح اور برے اعمال کی "قریہ" (شهراور آبادی) کی طرف نسبت دینا ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ گناه اور بدکاری میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے ، کہ گویا
ان کی آبادی کے درودیور سے گناہ اور قبیح و پلید اعمال برس رہے تھے
اور "خبائث" کی تعبیر جمع کی صورت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ "لوطت کھ انتہائی گندےعمل کے علاوہ اور بھی برے اور خبیث عمل کیا کرتے تھے کہ جن کی طرف ہم
جلد 9 کے ص 188 (اردو ترجمہ) میں اشارہ کرچکے ہیں۔
اور "قوم سوء" کے بعد "فاسقين کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ خدا کے قوانین کے لحاظ سے بھی فاسق لوگ تھے اور انسان معیاروں کے لحاظ بھی یہاں تک کہ
دین و ایمان سے قطع نظر وہ پست، پلید ، آلودہ اور منحرف افراد تھے۔
اس کے بعد حضرت لوط پر کیے گئے آخری انعام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے، ہم نے اسے اپنی خاص رحمت میں داخل کیا (وادخلناه في رحمتنا)۔
کیونکہ وہ صالح اور نیک بندوں میں سے تھا (انه من الصالحين)
خدا کی یہ خاص رحمت بلا وجہ کسی شخص پر نہیں ہوتی، یہ حضرت لوط کی اہلیت تھی جس نے انہیں اس قسم کی رحمت کامستحق بنادیا۔
واقعًا اس سے زیادہ مشکل اور کونسا کام ہوگا اور کونسا اصلاحی پروگرام اس سے زیادہ طاقت فرسا ہو گا کہ انسان ایک طویل مدت تک ایسے شہر میں کہ جس میں اس قدرگناہ اور
آلودگی ہو، ٹھہرا رہے اورمسلسل گمراہ اور منحرف لوگوں کو تبلیغ وہدایت کرتا رہے اور معاملہ یہاں تک پہنچ جائے کہ وہ اس کے مہمانوں تک کے ساتھ بھی مزاحمت کرنے لگیں. واقعًا یہ صبرو
استقامت خدائی پیغمبروں اور ان کی راہ پر چلنے والوں کے سوا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ہم میں سے کون ایسا شخص ہے کہ جو اس قسم کی جانکاه روحانی سختیوں کو برداشت کرسکتا ہو؟