Tafseer e Namoona

Topic

											

									   بت پرستوں کی سرزمین سے ابراہیمؑ کی ہجرت

										
																									
								

Ayat No : 71-73

: الانبياء

وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ ۷۱وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِينَ ۷۲وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ ۖ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ ۷۳

Translation

اور ابراہیم علیھ السّلام اور لوط علیھ السّلام کو نجات دلاکر اس سرزمین کی طرف لے آئے جس میں عالمین کے لئے برکت کا سامان موجود تھا. اور پھر ابراہیم علیھ السّلامکو اسحاق علیھ السّلاماور ان کے بعد یعقوب علیھ السّلامعطا کئے اور سب کو صالح اور نیک کردار قرار دیا. اور ہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف کارخیر کرنے نماز قائم کرنے اور زکوِٰادا کرنے کی وحی کی اور یہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے.

Tafseer

									

  تفسیر
            بت پرستوں کی سرزمین سے ابراہیمؑ کی ہجرت :
 ابراھیمؑ کے آگ میں ڈالے جانے کے واقعہ اور اس خطرناک مرحلہ سے ان کی معجزانہ نجات نے نمرود کے ارکان حکومت کو لرزه براندام کردیا ۔ نمرود تو بالکل حواس باختہ ہوگیا کیونکہ 

اب وہ ابراہیم کو ایک فتنہ کھڑا کرنے والا اور نفاق ٹالنے والا جوان نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ ابراھیمؑ اب ایک خدائی رہبر اور ہیرو کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ ابراھیمؑ اس کے تمام تر 

طاقت و وسائل کے باوجود اس کے خلاف جنگ کی ہمت رکھتا ہے. اس نے سوچا کہ اگر ابراھیم ان حالات میں اس شہر اور اس ملک میں رہا تو اپنی باتوں ، قوی منطق اور بے نظیر شجاعت کے ساتھ مسلم 

طور پر اس جابر ، خودسر ، خودغرض حکومت کے لیے ایک خطرے کا مرکز بن سکتا ہے. لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو ہر حالت میں اسی سرزمین سے چلے جانا چاہیے۔
 دوسری طرف ایسی حقیقت میں اپنی رسالت کا کام اس سرزمین میں انجام دے چکے تھے ۔ وہ حکومت کی بنیادوں پر یکے بعد دیگرے چکنا چور کرنے والی ضربیں لگا چکے تھے۔ اس 

سرزمین میں ایمان و آگاہی کا بیج بوچکے تھے۔ اب صرف ایک مدت کی ضرورت تھی کہ جس سے یہ بیج آہستہ آہستہ بارآور ہو اور بت پرستی کی بساط الٹ جائے۔
 اب ان کے لیے بھی مفید یہی تاکہ یہاں سے کسی دوسری سرزمین کی طرف چلے جائیں اوراپنی رسالت کے کام کو وہاں بھی عملی شکل دیں لہذا انہوں نے یہ ارادہ کرلیا کہ لوط ( جو 

آپ کے بھتیجے تھے) اور اپنی بیوی سارہ اور احتمالًا مومنین کے ایک چھوٹے سے گروہ کو ساتھ لے کہ اس سر زمین سے شام کی طرف ہجرت کرجائیں۔
 جیسا کہ قران زیر بحث آیات میں کہتا ہے : ہم نے ابراہیم اور لوط کو اسی سرزمین کی طرف نجات دی کہ جسے ہم نے سارے جہان والوں کے لیے برکتوں والا بنایا تھا: ( ونجيناه ولوطا 

إلى الارض التي باركنا فيها للعالمين )۔ 
 اگرچہ قران میں اس سرزمین کا نام صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت (سبحان الذي اسری بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الاقصى الذي 

باركنا حوله)۔ پر توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہی شام کی سرزمیں ہے ، جو ظاہری اعتبار سے بھی پربرکت ، زرخیز اور سر سبز و شاداب ہے اور معنوی لحاظ سے بھی ، کیونکہ وہ 

انبیا کی پرورش لا مرکز تھی۔ ابراھیمؑ نے یہ ہجرت خود اپنے آپ کی تھی یا نمرود کی حکومت نے انہیں جلاوطن کیا کہ یہ دونوں ہی صورتیں واقع ہوئی اس بارے میں تفاسیر و روایات میں مختلف باتیں 

بیان کی گئی ہیں ان کا مجموعی مفہوم یہی ہے کہ یہ ایک طرف تو نمرود اور اس کے ارکان حکومت ابراھیم کو اپنے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔ لہذا انہوں نے انہیں اس سرزمین سے نکلنے پر 

مجبور کر دیا اور دوسری طرف ابراھیمؑ کی اس سرزمین میں اپنی رسالت کے کام تقریبا مکمل کر چکے تھے اور اب کسی دوسرےعلاقے میں جانے کے خواہاں تھے کہ دعوت توحید کو وہاں بھی پھیلائیں۔ 

خصوصًا بابل میں رہنے سے ممکن تھا کہ آپؑ کی جان چلی جاتی اور آپ کی عالمی دعوت نامکمل رہ جاتی۔
 یہ بات قابل توجہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں یہ بیان ہوا کہ جس وقت نمرود نے یہ ارادہ کیا کہ ابراھیمؑ کو اس سرزمین جلاوطن کر دے تو اس نے یہ حکم دیا کہ 

ابراہیم کی بھیڑیں اور ان کا سارا مال ضبط کرلیا جائے اور وہ اکیلا ہی یہاں سے باہرجائے۔ 
 حضرت ابراھیمؑ نے کہا یہ میری عمر بھر کی کمائی ہے۔ اگر تم میرا مال لینا چاہتے میر تو میری اس عمر کو جو میں نے اس سرزمین میں گزاری ہے وہ  مجھے واپس دے دو۔لہذاطے یہ 

پایا کہ حکومت کے قاضیوں میں سے ایک اس بارے میں فیصلہ دے ، قاضی نے حکم دیا کہ ابراھیم کا مال لے لیا جائے اور جو عمرانھوں نے اس سرزمین میں خرچ کی ہے وہ انہیں واپس کردی جائے۔
 جس وقت نمرود اس واقعے سے آگاہ ہوا تو اس نے بہادرقاضی کے حقیقی مفہوم کو سمجھ لیا اور حکم دیا کہ ابراھیمؑ کا مال اور اس کی بھیڑیں اسے واپس کر دی جائیں تاکہ وہ انہیں ساتھ 

لے جائے اور کہا : مجھے ڈر ہے کہ اگر وہ یہاں رہ گیا تو وہ تمہارے دین و آئین کو خراب کردےگا اور تمهارے خداؤں کو نقصان پہنچانے گا : ( انه ان بقى في بلاد كم افسد دينكم واضزبالهتكم)۔ ؎1  

بعد والی آیت میں ابراھیمؑ پر خدا کی ایک نہایت اہم نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے صالح اولاد اور ایک پھلنے پھولنے والی اچھی نسل فرمایا گیا ہے: ہم نے اسحاق (سابیٹا) عطا کیا اور (اس کے 

بعد اسحاق کا بیٹا) یعقوب بھی عطا کیا: (ووهبناله اسحٰق ويعقوب نافلة)۔ ؎2
 اور تم نے ان سب کو صالح ، شائستہ اور مفید قرار دیا: (وكلًا جعلنا صالحين) -
 سالہا سال گزرگئے کہ ابراہیمؑ اس فرزند صالح کے انتظار اور خواہش میں ہی زندگی بسر کرتے رہے اور سورہ صافات کی آیہ 100ان کی اس اندرونی خواہش کو بیان کررہی ہے۔
  رب هبالي من الصالحين
  پروردگارا ! مجھے ایک صالح فرزند مرحمت فرما۔ 
 آخرکار خدا نے ان کی دعا قبول کرلی۔ پہلے اسمٰعیلؑ اور پھراسحاقؑ انہیں مرحمت فرمایا کہ جن میں سے ہرایک ، ایک بزرگ پیغمبر اور صاحب منزلت تھے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     المیزان زیر بحث آیات کے ذیل میں ، بحوالہ روضۃ الکافی 
  ؎2     یہاں اسماعیل کا ذکر کرنا جب کہ وہ ابراھیمؑ کے پہلے بیٹے تھے ، شاید اس وجہ سے ہو کہ اسحاق سارہ جیسی بانجھی خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے وہ بھی اس سن میں جب معمولًا 

وضع حمل ممکن نہ تھا۔ لہذا یہ ایک عجیب غیرمعمولی مسئلہ معلوم ہوتا تھا جبکہ اسماعیلؑ کا اپنی والدہ حاجرہ سے پیدا ہونا ایسا عجیب نہ تھا۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 "نافله" کی تعبیر کہ جو ظاہری طور پر صرف یعقوب کی توصیف ہے، شاید اس بنا پر ہو کہ ابراھیمؑ نے تو صرف ایک صالح فرزند کے لیے دعا کی تھی ، خدانے ایک صالح پوتے کا بھی اس 

پر اضافہ کر دیا کیونکہ "نافله" دراصل نعمت کے یا اضافی کام کے معنی میں ہے۔
 آخری زیر بحث آیت ان عظیم پیغمبروں کے مقام امامت و رہبری اور ان کی کچھ صفات اور اہم پروگراموں کی طرف اجتماعی طور پر اشارہ کر رہی ہے۔
 اس آیت میں مجموعی طور پر ان کی چھ صفات شمار کی گئی ہیں۔ ان میں صالح ہونے کی صفت کا اضافہ کرلیا جائے تو سات ہوجاتی ہیں کیونکہ گزشتہ آیت میں یہ صفت بیان ہوئی ہے 

ــــ یہ احتمال بھی ہے کہ ان چھ صفات کا جوتی کا مجموعہ اس آیت میں ذکر ہوا ہے۔ ان کے صالح ہونے کی تشریح ہو کہ جا کا ذکر اس سے پہلی آیت میں آچکا ہے۔
 پہلے فرمایا گیا ہے: ہم نے انہیں امام اور لوگوں کا رہبر قرار دیا (وجعلناهم  ائمة)۔ یعنی مقام نبوت و رسالت کے بعد ہم نے انہیں مقام امامت بھی عطا کیا جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کر چکے 

ہیں کہ امامت انسانی ارتقاء اور سیر تکامل کا آخری مرحلہ ہے کہ جو لوگوں کی مادی و معنوی ، ظاہری و باطنی ، جسمانی و روحانی رہبری کے معنی میں ہے۔
 نبوت و رسالت کا امامت کے ساتھ یہ فرق ہے کہ انبیاء و رسل مقام نبوت و رسالت میں صرف فرمان حق  کو حاصل کرتے اور اس کی خبردیتے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتے ہیں ایسا 

ابلاغ کہ جس میں بشارت ونزارت موجود ہو۔
 لیکن مرحله امامت میں وہ ان خدائی پروگراموں کا اجراء کرتے ہیں ، چاہے وہ حکومت عادلہ کی تشکیل کے ذریعے ہو یا اس کے بغیر اس لحاظ سے وہ تربیت کرنے والے احکام اور 

پروگرام جاری کرنے والے انسانوں کی تربیت کرنے والے اور پاک و پاکیزہ و انسانی ماحول کو وجود میں لانے والے ہوتے ہیں۔
 درحقیقت مقام امامت تمام خدائی پروگراموں کو عملی صورت دینے کا مقام ہے۔ 
 دوسرے لفظوں میں مقصود و مطلوب تک پہنچنا اور تشریعی و تکوینی ھدایت کرنا ہے۔ 
 امام اس لحاظ سے ٹھیک آفتاب کی مانند ہے کہ جو اپنی شعاعوں کے ذریعے زنده موجودات کی پرورش کرتا ہے۔ ؎1
 بعد کے مرحلے میں اس مقام کی فعلیت اور اس کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے : وہ ہمارے حکم کی مطابق ہدایت کرتے ہیں. (یهدون بامرتا)۔ 
 ہدایت صرف راہنمائی اور راستہ دکھانے کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ یہ بات تو نبوت و رسالت میں بھی موجود ہوتی ہے بلکہ دستگیری کرنے اور منزل مقصود تک پہنچانے کے معنی 

میں ہے۔ (البتہ انہی لوگوں کے لیے کہ جو آمادگی اور اہلیت رکھتے ہیں)
 تیسری ،چوتھی اور پانچویں نعمت اور ان کی خصوصیت یہ تھی کہ : ہم نے انہیں اچھے کام انجام دینے اور (اسی طرح)، نماز قائم کرنے اورزکوة ادا کرنے کی وحی کی ( وأوحينا اليهم 

فعل الخيرات و اقام الصلوة وإيتاء الزكوة )-
 یہ وحی "تشریعی وحی" بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی ہم نے مختلف قسم کے کارہائے خیر اور ادائے نماز اور ادائیگی زکوة کو ان کے دینی پروگراموں میں داخل کر دیا اوروحی تکوینی بھی 

ہوسکتی ہے یعنی ہم نے ان امور کو انجام دینے کے لیے انہیں توفیق و توانائی اور معنوی جزبہ عطا فرمایا۔
 البته ان امور میں سے کوئی چیز جبری اور اضطراری پہلو نہیں رکھتی ۔ بلکہ یہ صرف اہلیتیں ہیں کہ جو خود ان کے اپنے ارادہ اور خواہش 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1        اس سلسلہ میں مزید تشریح جلد اول سورہ بقرہ کی آیہ 124 کے ذیل میں مطالعہ کریں ۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کے بغیر ہرگز کسی نتیجہ تک نہیں پہنچتیں۔
 "فعل خیرات" کے بعد قیام صلوة اور ادائے زکوة"  کا ذکر ، ان دونوں امور کی اہمیت کی وجہ سے ہے کہ جو پہلے توعام حیثیت سے " وأوحينا اليهم فعل الخيرات" کے جملے میں ، اوراس 

کے بعد بطورخاص بیان ہوا ہے۔
 آخری حصے میں ان کے مقام "عبودیت" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے (وكانوا لنا عابدین)۔ ؎1
 ضمنی طورپر "كانوا" کی تعبیر کہ جو اس پروگرام میں پہلے سے مسلسل عمل کرتے رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ وہ مقام نبوت و رسالت تک پہنچنے سے 

پہلے بھی صالح ، موحد اور اہل لوگ تھے اور ان امور عمل کرتے رہنے کی بناء پرہی ، خدا نے انہیں نئے انعامات سے نوازا ہے۔
 اس نکتے کی یاد  دہانی بھی ضروری ہے کہ "يهدون بامرنا" کا جملہ درحقیقت باطل کے رہبروں اور پیشواؤں کے مقابلہ میں ، حقیقی آئمہ اور پیشواؤں کی شناخت کا ایک ذرایعہ ہے۔ 

کیونکہ باطل کے پیشوائوں کے کام کی بنیاد تو شیطانی ہوا و ہوس پر ہے۔
  ایک حدیث میں امام صادق علیه السلام منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا : قرآن میں 
  دوقسم کے اماموں کا ذکر ہے ، ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ ، وجعلنا هم أئمة 
  يهدون بامرنا" 
  یعنی خدا کے حکم سے ، نہ لوگوں کے حکم سے ، وہ خدا کے حکم کو اپنے تم پر مقدم سمجھتے ہیں اوراس
  کے حکم کو اپنے حکم سے برتر قرار دیتے ہیں۔ 
  لیکن دوسری جگہ فرمایا گیاہے: 
  وجعلناهم آئمة يدعون إلى النار
  ہم نے انہیں ایسا امام و پیشوا قرار دے دیا ہے کہ جو دوزخ کی طرف دعوت دیتے ہیں ، 
  اپنے حکم کو خدا کے حکم سے مقدم شمار کرتے ہیں اور اپنے حکم کو اس کے حکم سے پہلے قرار 
  دیتے ہیں اور اپنی ہوا و ہوس کے مطابق اور کتاب اللہ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔ ؎1
  اور یہ ہے معیار اور کسوٹی امام حق اور امام باطل میں تمیز کی ۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      لفظ "لنا" کو " عابدین"پر مقدم رکھنا حصرکی دلیل ہے اور ان بزرگوں سے خالص مقام توحید کی طرف اشارہ ہے. یعنی وہ صرف خدا کی عبادت کرتے تھے۔
  ؎2     دوسری آیت ہے کہ سورۂ قصص کی آیہ 31 ہے فرعون اور اس کے لشکر کی طرف اشارہ کرتی ہے ، یہ حدیث تفسیر صافی میں کتاب کافی سے نقل ہوئی ہے۔