Tafseer e Namoona

Topic

											

									  3-  ابراہیم اورنمرود کے مابین معرکہ

										
																									
								

Ayat No : 68-70

: الانبياء

قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ ۶۸قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۶۹وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ ۷۰

Translation

ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو. تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیھ السّلامکے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا. اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا.

Tafseer

									 3-  ابراہیم اورنمرود کے مابین معرکہ : 
 تاریخوں میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو جب آگ میں ڈالا گیا ، نمرود کو یقین ہوگیا تھا کہ ابراھیمؑ مٹھی بھر خاک میں تبدیل ہو گئے ہیں لیکن جب اس نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ 

وہ تو زندہ ہیں ، تو اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں سےکہنے لگا مجھے تو ابراہیمؑ زندہ دکھائی دے رہاہے۔ شاید مجھے اشتباہ ہورہا ہے ۔ وہ ایک بلند مقام پر چڑھ گیا اور خوب غور سے دیکھا تو اسے 

معلوم ہوا کہ معاملہ تو اسی طرح سے ہے ۔ نمرود نے پکار کر کہا : اے ابراھیمؑ  واقعًا تیرا خدا عظیم ہے اور اس قدر قدرت رکھتا ہے کہ اس نے تیرے اور آگ کے درمیان ایک رکاوٹ پیدا کر دی ! . . .. 

اب جبکہ یہ بات ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اس کی اس قدرت اور عظمت کی وجہ سے اس کے لیے قربان کروں۔ (اور اس نے چار ہزار قربانیاں اس مقصد کے لیے تیار کیں) لیکن ابراھیم نے اس سے کہا 

: تجھ سے کسی قسم کی قربانی اور کارخیر قبول نہیں کیا جائے گا مگر یہ کہ تو پہلے ایمان لے آئے۔
 نمرود نے جواب میں کہا ، اس صورت میں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی اور میں یہ بات گوارا نہیں کرسکتا۔
 بہرحال میں حادثات اس بات کا سبب بن گئے کہ کچھ آگاہ اور بیدار دل لوگ ابراھیمؑ کے خدا پرایمان لے آئے یا ان کے ایمان میں اضافہ ہوگیا اور شاید یہی واقعہ اس بات کا سبب بنا کہ 

نمرود ابراھیمؑ کے مقابلہ میں کسی سخت رو عمل کا اظہار نہ کرے اور صرف ان کو سرزمین بابل سے جلا وطن کرنے پر قناعت کرے ۔ ؎2
۔---------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    سفینۃ البحار ج 1  ص  37  (مادہ امن)۔
  ؎2   کامل ابن اثیر ، جلد اول ص 99۔