2- بہادر نوجوان
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ ۶۸قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۶۹وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ ۷۰
ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو. تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیھ السّلامکے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا. اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا.
2- بہادر نوجوان :
بعض تفسیروں میں آیا ہے کہ حضرت ابراھیم کو جب آگ میں ڈالاگیا تو ان کی عمر سولہ سال سے زیادہ نہیں تھی، ؎1 اور بعض نے اس وقت ان کا سن 26 سال کا ذکر کیاہے۔
؎2
بہرحال وہ جوانی کی عمر میں تھے اور باوجود اس کے کہ ظاہری طور پر ان کا کوئی یارومددگار نہیں تھا، اپنے زمانے کے اس عظین طاغوت کے ساتھ پنجہ آزمائی کی کہ جو
دوسرے طاغوتوں کا سرپرست تھا ۔ آپ تن تنها جہالت ، خرافات اور شرک کے خلاف جنگ کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور ماحول کے تمام خیالی مقدسات کا مذاق اڑایا اور لوگوں کے غصے اور
انتقام سے ذرا بھی نہ گھبرائے کیونکہ ان کا دلی عشق خدا سے معمور تھا اور ان کا اس پاک ذات پر ہی توکل اور بھروسہ تھا۔
ہاں ! ایمان ایسی ایک چیز ہے کہ یہ جہاں پیدا ہوجاتا ہے وہاں جرات و شجاعت پیدا کردیتا ہے اور جس میں یہ موجود ہو، اسے شکست نہیں ہوسکتی۔
آج کی طوفانی دنیا میں مسلمانوں کو عظیم شیطانی قوتوں کے مقابلہ کے لیے جس اہم ترین چیز کی ضرورت ہے وہ یہی ایمان کا عظیم سرمایہ ہے۔
ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے منقول ہے :
أن المؤمن اشد من زبر الحدید ، آن زبر الحديد اذا دخل النار
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، زیربحث آیہ کے ذیل میں -
؎2 تفسیر قرطبی ، جلد 6 ص 43-44۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تغيروان المؤمن لوقتل ثم نشرثم قتل لم يتغيرقلبه
مومن فولاد کے ٹکڑوں سے بھی زیادہ محکم ہوتا ہے کیونکہ فولاد کو جب آگ میں ڈالا جاتا ہے تواس
میں تغیر اور تبدیلی آجاتی ہے لیکن مومن کو اگر قتل بھی کردیا جائے اور پھر دوبارہ زندہ کیا جائے اور
پھر اسے قتل کردیا جائے، پھر بھی اس کے دل میں تبدیلی میں آتی۔ ؎1