1- سبب سازی و سبب سوزی
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ ۶۸قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۶۹وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ ۷۰
ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو. تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیھ السّلامکے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا. اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا.
چند اہم نکات
1- سبب سازی و سبب سوزی :
بعض اوقات انسان عالم اسباب میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ وه یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ آثار و خواص خود انہیں موجودات کے ذاتی ہیں اور اس عظیم مبداء سے کہ جس نے
ان موجودات کو یہ مختلف آثار و صفات بخشے ہیں ، غافل ہوجاتا ہے۔ اس مقام پر خدا بندوں کو بیدار کرنے کے لیے" سبب سازی" اور " سبب سوزی" کو بیان کر رہا ہے۔
وہ موجودات کہ جن سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا، وہ عظیم آثار کا سرچشمہ بن جاتے ہیں ۔ مکڑی کو حکم دیتا ہے کہ وہ چند کمزور در تارغار ثور کے دھانے پر تن دے اورانی چند
تاروں کی وجہ سے پیغمبراسلامؐ کے تعاقب میں نکلنے والے آپ کو نہ پاسکے جبکہ اگر وہ آپؐ کو پالیتے تو قتل کردیتے ۔ اللہ تعالی نے اس چھوٹی سی چیز سے تاریخ عالم کا رخ موڑ کے رکھ دیا اور
اس کے برعکس بعض اوقات ان اسباب کو کہ جو عالم مادہ میں ضرب المثل ہیں (آگ جلانے میں اور چھری کاٹنے میں) انہیں بیکار کر دیتا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان کے پاس بھی ذاتی طورپر کچھ
نہیں کیونکہ اگر رب جلیل ان کو منع کر دے اور روک دے تو وہ اپنا کام نہیں کرسکتے، چاہے ابراہیم خلیل حکم بھی دے۔
ان حقائق کی طرف توجہ ـــــ کہ جن کے لیے بے شمار نمونے ہم نے اپنی زندگی میں دیکھے ہیں ـــــ ورح توحید اور توکل کو مومن کی بندگی میں اس قدر زندہ اور بیدار کر دیتے ہیں
کہ اس کے ہوتے ہوئے وہ کسی اور کے بارے میں سوچتا ہی نہیں اور اس کے غیر سے مدد طلب نہیں کرتا "مشکلات کی آگ" کو خاموش کرنے کی صرف اسی سے دعا کرتا ہے اور دشمنوں کے مکر
کی نابودی بھی اس کی بارگاه سے طلب کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی کی طرف نہیں دیکھتا ، اور اس کے غیر سے کسی چیز کی تمنا نہیں کرتا۔