آگ گلزار ہوگئی
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ ۶۸قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ ۶۹وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَخْسَرِينَ ۷۰
ان لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں جلادو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو. تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم علیھ السّلامکے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا. اور ان لوگوں نے ایک مکر کا ارادہ کیا تھا تو ہم نے بھی انہیں خسارہ والا اور ناکام قرار دے دیا.
تفسیر
آگ گلزار ہوگئی
اگرچہ ابراہیمؑ کے عملی و منطقی استدلالات کے ذریے سب کے سب بت پرست مغلوب ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے دل میں اس نشست کا اعتراف بھی کردیا تھا۔
لیکن تعصب اور شدید ہٹ دھری محنت کو قبول کرنے میں رکاوٹ بنی . لہذا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ انہوں ابرا سمیر کے بارے میں بہت ہی سخت اور خطرناک قسم کا
ارادہ کرلیا اور وہ ابراہیم کو بدترین صورت میں قتل کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے پروگرام بنایا کہ انہیں جلا کر راکھ کر دیا جائے.
عام طور پر لیاقت اور عظمت کے درمیان معکوسي رابطہ ہوتا ہے جس قدر انسان میں طاقت اور قدرت زیادہ ہوتی جاتی ہے، اتنی ہی اس کی منطق کمزور ہوتی جاتی ہے
، سوائے مردان حق کے کہ وہ جتنا زیادہ قوی اور طاقتور ہوتے ہیں اتنا ہی زیادہ متواضع اور منطقی
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎ 1 کامل انن اثیہ ، جلد اول ص 100۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہوجاتے ہیں۔
جو لوگ طاقت کی زبان سے بات کرتے ہیں۔ جب وہ منطق کے ذریعے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکیں تو فورًا اپنی طاقت و قدرت کا سہارا لے لیتے ہیں ۔ ابراہیم کے بارے میں ٹھیک یہی
طرز عمل اختیار کیا گیا ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
ان لوگوں نے (چیخ کر) کہا : اسے جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو ، اگرتم سے کوئی کام ہوسکتا ہے :( قالواحرقوه وانصروا الهتكم ان كنتم فاعلين)۔
طاقتور صاحبان اقتدار بے خبر عوام کو مشتعل کرنے کے لیے عام طور پر ان کی نفسیاتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ وہ نفسیات کو پہچانتے ہیں اور اپنے کام کرنا خوب
جانتے ہیں۔
جیسا کہ انہوں نے اس قصہ میں کیا اور ایسے نعرے لگاۓ کہ جس سے، اصطلاح کے مطابق ـــــــ ان کی غیرت کو للکارا : یہ تمهارے خدا ہیں ، تمھارے مقدسات خطرے میں پڑگئے
ہیں ، تمھارے بزرگوں کی سنت کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا ہے ، تمھاری غیرت و حمیت کہاں چلی گئی ؟ تم اس قدر ضعیف اور زبوں حال کیوں ہوگئے ہو؟ اپنے خداؤں کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ ابراہیم
کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو ، اگر کچھ کام تم سے ہوسکتا ہے اور بدن میں توانائی اور جان ہے۔
دیکھو! سب لوگ اپنے مقدمات کا دفاع کرتے ہیں، تمہارا تو سب کچھ خطرے میں پڑ گیا ہے۔
خلاصہ یہ کہ انہوں نے اس قسم کی بہت سی فضول اور مہمل باتیں کیں اور لوگوں کے ابراہیم کے خلاف بھڑکایا اس طرح سے کہ لکڑیوں کے چند گٹھوں کی بجاۓ کہ وہ کئی افراد
کے جلانے کے لیے کافی ہوتے ہیں لکڑیوں کے ہزار گٹھے ایک دوسرے پر رکھ کرلکڑیوں کا ایک پہاڑ بنا دیا اور اس کے بعد آگ کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تاکہ اس عمل کے ذریعے سے اپنا انتقام بھی
اچھی طرح سے لے سکیں اور بتوں کا وہ خیالی رعب و داب اور عظمت بھی بن جس کو ابراہیم کے طرز عمل سے سخت نقصان پہنچاتھا ، کسی حد تک بحال ہوسکے۔ تاریخ دانوں نے اس مقام پر بہت
سے مطالب تحریر کیے ہیں کہ جن میں سے کوئی بھی بعید نظر نہیں آتا۔
منجملہ ان کے کہتے ہیں کہ لوگ چالیس دن تک لکڑیوں میں جمع کرنے میں لگے رہے اور ہر طرف سے بہت سی خشک لکڑیاں لالاکر جمع کرتے رہے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی
تھی کہ وہ عورتیں تک بھی کہ جن کا کام گھر میں بیٹھ کر چرخا کاتنا تھا ، وہ اس کی آمدنی سے لکڑیوں گٹھا لے کر اس میں ڈلواتی ہیں اور وہ لوگ کہ جو قریب المرگ ہوتے تھے ، اپنے مال میں سے
کچھ رقم سے لکڑیاں خریدنے کی وصیت کرتے تھے اور حاجت مند اپنی حاجتوں کے پورے ہونے کے لیے یہ منت مانتے تھے کہ اگر ان کی حاجت پوری ہوگئی ، تو اتنی مقدار لکڑیوں کا اضافہ کریں
گے۔
یہی وجہ تھی کہ جب ان لکڑیوں میں مختلف اطراف سے آگ لگا دی گئی تو اس کے شعلے اتنے بلند ہوگئے تھے کہ پرندے اس علاقے سے نہیں گزرسکتے تھے۔
یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کی آگ کے توقریب بھی نہیں جایا جاسکتا ۔ چہ جائیکہ ابراھیمؑ کو لے جاکر اس میں پھینکیں مجبورًا منجنیق سے کام لیا گیا۔ حضرت ابراھیم کو اس کے اندر
بیٹھاکر بڑی تیزی کے ساتھ آگ کے اس دریا میں پھینک دیا گیا۔ ؎1
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 مجمع البیان ، تفسیر المیزان ، تفسیر فخررازی اور نفسیرقرطبی زیر بحث آیت کے ذیل میں اور کامل این اثیر جلد 1 ص 98-
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ان روایات میں کہ جو شیعہ اور سنی کی طرف سے نقل ہوئی ہیں ، یہ بیان ہوا ہے کہ :
جس وقت حضرت ابراہیم کو منجنیق کے اوپر بٹھایاگیا اور انہیں آگ میں پھینکا جانے لگا تو آسمان زمین اور فرشتوں نے فریاد بلند کی اور بارگاہ خداوندی میں درخواست کی کہ توحید
کے اس ہیرو اور حریت پسندوں کے لیڈر کو بچالے۔
یہ بھی منقول ہے کہ اس وقت جبرئیل حضرت ابراھیم کے پاس آئے اور ان سے کہا :
الك حاجة
کیا تمہاری کوئی حاجت ہے کہ میں تمہاری مدد کروں؟
ابراہیم علیہ السلام نے مختصر سا جواب دیا:
اما انيك فلا
تجھ سے حاجت ؟ نہیں ! نہیں ! (میں تو اسی ذات سے حاجت رکھتا ہوں کہ
جو سب سے بے نیاز اور سب پر مہربان ہے)۔
تو اس موقع پر جبرئیل نے کہا :
فاسئل ربك
تو پھر اپنی حاجت خدا سے طلب کرو۔
انہوں نے جواب میں کہا :
حسبی من سؤالي علمه بحالي
میرے سوال کرنے کی بجائے یہی کافی ہے کہ وہ میری حالت سے آگاہ ہے۔ ؎1
ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابراھیمؑ نے اسے اس طرح راز و نیاز میں بات کی:
یا احد يااحد ياصمد ياصمد يامن لم یلد ولم يولد
ولم يكن له كفوًا احد توكلت على الله۔ ؎2
اے اکیلے ! اے اکیلے ! اے بے نیاز! اے بے نیاز! اے وہ کہ جس نے
کسی کو نہیں جنا اور نہ جو جناگیا اور کوئی جس کا ہم پلہ نہیں ! میں اللہ پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں
یہ دعا مختلف عبارات کے ساتھ دوسری کتابوں میں بھی آئی ہے۔
بہر حال لوگوں کے شوروغل اور ہاؤ اور جوش و خروش کے اس عالم میں حضرت ابراہیمؑ آگ کے شعلوں کے اندر پھینک دیئے گئے لوگوں نے خوشی سے اس طرح نعرے لگائے گویا
بتوں کو توڑنے والا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نابود اور خاکستر ہوگیا۔
لیکن وہ خدا کہ جس کے فرمان کے سامنے تمام چیزیں سرخم کیے ہوئے ہیں . جلانے کی صلاحیت اسی نے آگ میں رکھی ۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 المیزان، ج 14 ص 236 بحوالہ روضۃ الکافی
؎2 تفسیر فخررازی زیر بحث آیہ کے ذیل میں
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ہے اور ماؤں کے دل میں محبت بھی اس نے ڈالی ہے۔ اس نے ارادہ کرلیا کہ یہ خالص بنده مومن آگ کے اس دریا میں صحیح و سالم رہے تاکہ اس کے افتخار اور اعزاز کی سندوں میں ایک اور سند کا
اضافہ ہوجاۓ۔
جیسا کہ قرآن اس مقام کہتا ہے ، ہم نے آگ سے کہا : اے آگ ابراہیم پر سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہوجا: (وقلنا يا ناركونی بردًا وسلامًا على ابراهیم)۔
اس میں شک نہیں کہ ہیاں خدا کا فرمان فرمان تکوینی تھا۔ وہی فرمان کر جو وہ جہان ہستی میں آفتاب و مہتاب ، زمین و آسمان ، پانی اورآگ ، بیانات اور پرندوں کودیتا ہے۔
مشہور یہ ہے کہ آگ اس قدر ٹھنڈی ہوگئی کہ ابراھیم کے دانت ٹھنڈک کی شدت سے بجنے لگے اور پھر بعض مفسرین کے قول کے مطابق تو اگر "سلامًا" کی تعبیر ساتھ نہ ہوتی توآگ
اس قدر سرد ہوجاتی کہ ابراھیمؑ کی جان سردی سے خطرے میں پڑجاتی -
ایک مشہور روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ نمرود کی آگ خوبصورت گلستان میں تبدیل ہوگئی ۔ ؎1
یہاں تک کہ بعض نے تو کہا ہے کہ جس دن ابراہیم آگ میں رہے ، ان کی زندگی کے دنوں میں سب سے بہترین راحت و آرام کا دن تھا۔ ؎2
بہرحال اس بارےمیں کہ آگ نے حضرت ابراھیمؑ کو کیوں نہ جلایا ، مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن اجمالی بات ہے یہ کہ بینش توحیدی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی سبب
سے بھی خدا کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ ایک دن وہ ابراہیمؑ کے ہاتھ میں موجود چھری سے کہتا ہے : نہ کاٹ اور دوسرے دن آگ سے کہتا ہے : نہ جلا اور ایک دن پانی کو جو سبب حیات
نے حکم دیتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کو غرق کر دے۔
آخری زیر بحث آیت میں نتیجہ پیش کرتے ہوئے مختصر اور جچے تلے الفاظ میں فرمایا گیا ہے : انہوں نے یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ ابراھیم کو ایک خطرناک سوچے سمجھے منصوبے
کے تحت نابود کر دیں لیکن ہم نے انہیں کو سب سے زیادہ گھاٹے میں رہنے والی قرار دے دیا: (وارادوا به کیدًا فجعلنا هم الاخرين)۔
یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ابراھیمؑ کے آگ میں صحیح و سالم رہ جانے سے صورت حال بالکل بدل گئی۔ خوشی اورمسرت کا شوروغل ختم ہوگیا۔ تعجب سے منہ کھلے کے
کھلے رہ گئے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے کان میں رونما ہونے والی اس عجیب چیز کے بارے میں باتیں کر رہتے تھے۔ ابراہیمؑ اور اس کے خدا کی عظمت کا ورد زبانوں پر جاری ہوگیا۔ نمرود کا اقتدار
خطرے میں پڑگیا لیکن پھر بھی تعصب اور ہٹ دھرمی بات کو قبول کرنے میں پوری طرح حائل ہوگئی۔ اگرچہ کچھ بیدار دل اس واقعے سے بہرہ ور بھی ہوئے اور ابراہیمؑ کے خدا کے بارے میں ان کے
ایمان میں زیادتی اور اضافہ ہوا مگر یہ لوگ اقلیت میں تھے۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیر مجمع البیان زیربحث آیہ کے ذیل میں۔
؎2 تفسیر فخررازی زیر بحث آیت کے ذیل میں۔