ابراہیم کی دندان شکن دلیل
قَالُوا مَنْ فَعَلَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ ۵۹قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ ۶۰قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَىٰ أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُونَ ۶۱قَالُوا أَأَنْتَ فَعَلْتَ هَٰذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ ۶۲قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَٰذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ ۶۳فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنْفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنْتُمُ الظَّالِمُونَ ۶۴ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَٰؤُلَاءِ يَنْطِقُونَ ۶۵قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ ۶۶أُفٍّ لَكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۶۷
ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ برتاؤ کس نے کیا ہے وہ یقینا ظالمین میں سے ہے. لوگوں نے بتایا کہ ایک جو ان ہے جوان کا ذکر کیا کرتا ہے اور اسے ابراہیم کہا جاتا ہے. ان لوگوں نے کہا کہ اسے لوگوں کے سامنے لے آؤ شاید لوگ گواہی دے سکیں. پھر ان لوگوں نے ابراہیم علیھ السّلام سے کہا کہ کیا تم نے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ہے. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہے تم ان سے دریافت کرکے دیکھو اگر یہ بول سکیں. اس پر ان لوگوں نے اپنے دلوں کی طرف رجوع کیا اور آپس میں کہنے لگے کہ یقینا تم ہی لوگ ظالم ہو. اس کے بعد ان کے سر شرم سے جھکا دئیے گئے اور کہنے لگے ابراہیم تمہیں تو معلوم ہے کہ یہ بولنے والے نہیں ہیں. ابراہیم نے کہا کہ پھر تم خدا کو چھوڑ کر ایسے خداؤں کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں اور نہ نقصان. حیف ہے تمہارے اوپر اور تمہارے ان خداؤں پر جنہیں تم نے خدائے برحق کو چھوڑ کر اختیار کیا ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے ہو.
تفسیر
ابراہیم کی دندان شکن دلیل :
آخروہ عید کا دن ختم ہوگیا اور بت پرست خوشی مناتے ہوئے شہر کی طرف پلٹے اور سب بت خانے کی طرف گئے تاکہ بتوں سے اظہار عقیدت بھی کریں اور وہ کھانا
بھی کھائیں کہ جو ان کے گمان کے مطابق بتوں کے پاس رکھے رہنے سے بابرکت ہوگیا تھا۔
جونہی وہ بت خانے اندر پہنچے تو ایک ایسا منظر دیکھا کہ ان کے ہوش اڑگئے ۔آبادبت خانہ کے بجاۓ بتوں کا ایک ڈھیر تھا ان کے ہاتھ پاوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ
ایک دوسرے پر گرے ہوئے تھے۔ وہ تو چیخنے چلانے لگے ؟ یہ بلا اور مصیبت ہمارے خداؤں کے سر پر کون لایاہے " : ( قالوا من فعل هذا بالھتنا)۔ ؎1
"یقینًا جو کوئی بھی تھا ، ظالموں میں سے تھا " : ( إنه لمن الظالمين)۔
اس نے ہمارے خداؤں پر بھی ظلم کیا ہے ، ہماری قوم اور معاشرے پر بھی اور خود اپنے اوپر بھی کیونکہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔
لیکن وہ لوگ جو بتوں کے بارے میں ابراھیم کی دھمکیوں سے آگاہ تھے اور ان جعلی خداؤں کے بارے میں ان کی اھانت آمیز باتوں کو جانتے تھے، کہنے لگے : ہم نے
سناہے ایک جوان بتوں کے بارے میں باتیں کرتا تھا اور انہیں برا بھلا کہتا تھا ، اس کا نام ابراہیمؑ ہے : (قالوا سمعنا فتي يذكرهم يقال له ابراهیم )۔ ؎2
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بعض مفسرین لفظ "من" کو یہاں موصولہ کہتے ہیں لیکن بعد والی آیت کی بات طرف توجہ کرنے سے کہ جو سوال کا جواب ہے ، اس طرح نظرآتا ہے کہ "من" یہاں استفہامہ
ہے
؎2 جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے۔ بت پرستی اس بات کے لیے بھی تیار نہیں تھے کہ وہ یہ کہیں کہ وہ جوان بتوں کو برا بھلا کہتاتھا، بس اتناکہا کہ وہ بتوں کے بارے
باتیں کرتا تھا۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ ٹھیک ہے کہ بعض روایات کے مطابق حضرت ابراھیم اس وقت مکمل طور پر جوان تھے اور احتمال یہ ہے کہ ان کی عمر 16 سال سے زیادہ نہیں تھی اور یہ بھی
درست ہے کہ جوانمردی کی تمام خصوصیات ، شجاعت، شہامت، صراحت اور قاطعیت ان کے وجود میں جمع تھیں لیکن اس طرح سے بات کرنے سته بت پرستوں کی مراد یقینًاتحقیر کے
علادہ کچھ نہیں تھی ۔ بجائے اس کے کہ یہ کہتے کہ ابراہیمؑ نے یہ کام کیاہے کہتے ہیں کہ ایک جوان ہے کہ جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ وہ اس طرح کہتا تھا .. . . یعنی ایک ایسا شخص کہ
جو بالکل گمنام اور ان کی نظر میں بےحیثیت ہے۔
اصولًا معمول یہ ہے کہ جب کسی جگہ کوئی جرم ہوجائے تو اس شخص کو تلاش کرنے کے لیے کہ جس سے وہ جرم سر زد ہوا ان سے دشمنی رکھنے والوں کو تلاش
کیا جاتا ہے اور اس ماحول میں ابراھیمؑ کے سوا مسلمًا کوئی شخص بتوں کے سات دست وگربیان نہیں ہوسکتا تھا۔ لہذا تمام افکار انہی کی طرف متوجہ ہوگئے اور بعض نے کہا " اب جب کہ
معاملہ اس طرح ہے تو جاؤ اور اس کو لوگوں کے سامنےپیش کرو تاکہ وہ لوگ کہ وہ پہچانتے ہیں اور خبر رکھتے ہیں گواہی دیں: ( قالوفأتوا به على اعين الناس لعلھم يشهدون)۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابرا ھیمؑ کی سزا کے منظر کا مشاہدہ ہے نہ کہ ان کے مجرم ہونے کی شہادت۔ لیکن بعد کی آیات
پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیادہ ترباز پرس کا پہلو رکھتی ہیں ، اس احتمال کی نفی ہوجاتی ہے ۔ علاوہ ازیں لفظ "لعل" (شاید) کی تعبیربھی دوسرے معنی کے ساتھ مناسب نہیں رکھتی ہیں
، کیونکہ اگر لوگ سزا کا منظردیکھنے کے لیے آئیں تو یقینًا اسے دیکھیں گے اور اس کا مشاہدہ کریں گے ۔ ایسے موقع پر شادی کی گنجائش نہیں ہے۔
منادی کرنے والوں نے شہر میں ہرطرف یہ منادی کی کہ جو شخص بھی ابراہیم کی بتوں سے دشمنی اور ان کی بدگوئی کے بارے میں آگاہ ہے ، حاضر ہوجائے ۔ جلد ہی
جو آگاہ تھے وہ لوگ بھی اور تمام دوسرے لوگ بھی جمع ہوگئے تاکہ دیکھیں کہ اس ملزم کا انجام کیا ہوتا ہے۔
ایک عجیب و غریب شور و غلغلہ لوگوں میں پڑا ہوا تھا ، چونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ایک ایسا جرم جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا ،ایک آشوب طلب جوان نے شہر میں
برپا کر دیا تھا۔ اس کام نے اس علاقے کے لوگوں کی مذہبی بنیاد کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
آخر کار عدالت لگی اور بازپرس ہوئی - زعمائے قوم وہاں جمع ہوتے۔ بعض کہتے ہیں کہ خود نمرود اس عمل کی نگرانی کر رہا تھا۔
پہلا سوال جو انہوں نے ابراہیم سے کیا وہ یہ تھا : " انہوں نے کہا: اے ابراہیم کیا تونے ہی ہمارے خداؤں کا ساتھ یہ کام کیا ہے" : ( قالوا ءانت فعلت هذا بالهيتنا يا
ابراهيم)۔
وہ اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ یہ کہیں کہ تونے ہمارے خداؤں کو توڑا ہے اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ہیں ، بلکہ صرف یہ کہا کہ کیا تونے ہمارے
خداؤں کے ساتھ یہ کام کیا ہے؟
ابراہیمؑ نے ایسا جواب دیا کہ وہ خود گِھر گئے اور ایسے گِھرے کہ نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔" ابراہیم نے کہا : یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے ، ان سے پوچھو اگر
یہ بات کرتے ہوں ، ( قال بل فعله كبيرهم هذا فاسئلوهم ان كانواينطقون)۔
جرائم کی تفتیش کے اصول یہ ہیں ، کہ جس کے پاس آثار جرم یا آلہ جرم ملے وہ ملزم ہے (مشہور روایت کے مطابق حضرت ابراہیمؑ نے وہ کلہاڑا بڑے بت کی گردن
میں ڈال دیا تھا)۔
اصلًا ، تم میرے پیچھے کیوں پڑگئے ہو ؟ تم اپنے بڑے خدا کو ملزم قرار کیوں نہیں دیتے ؟ کیا یہ احتمال نہیں ہے کہ وہ چھوٹے خداؤں پر غضبناک ہوگیا ہو یا اس نے
انہیں اپنا آینده کارقیب فرض کرتے ہوئے ان سب کا حساب ایک ہی ساتھ پاک کردیا ہو؟
چونکہ اس تعبیر کا ظاہر مفسرین کی نظر میں واقعیت سے مطابقت نہیں رکھتا تھا ، اور چونکہ ابراہیمؑ پیغمبر ہیں اور معصوم ہیں اور وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتے ، لہذا
انہوں نے اس جملے کی تفسیر میں مختلف مطالب بیان کیے ہیں ، جو مطلب ہمیں سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ:
ابراہیم نے قطعی طور پر اس عمل کو بڑے بت کی طرف منسوب کیا ، لیکن تمام دوران اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اس بات سے کوئی پختہ اور مستقل قصد
نہیں رکھتے تھے، بلکہ وہ اس سے یہ چاہتے تھے کہ بت پرستوں کے مسلمہ عقائد کو ، جو کہ خرافاتی اور بے بنیاد تھے ، ان کے منہ پر دے ماریں اور ان کا مذاق اڑائیں اور انہیں
سمجھائیں کہ یہ بے جان پتھر اور لکڑیوں اس قدر حقیر ہیں کہ ایک جملہ تک بھی منہ سے نہیں نکال سکتیں ، کہ اپنی عبادت کرنے والوں کے مدد طلب کرلیں، چہ جائیکہ وہ یہ چاہیں کہان
کی مشکلات حل کر دیں۔
اس تعبیر کی تطیر ہمارے روزمرہ کے محاورات میں بہت زیادہ ہے کہ مد مقابل کی بات کو باطل کرنے کے لیے ، اس کے مسلمات کو ، امرا خبریا استفہام کی صورت
میں اس کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ وہ مغلوب ہوجائے اور یہ بات کسی طرح بھی جھوٹ نہیں ہوتی، "جھوٹ وہ ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ کوئی قرینہ نہ ہو"۔
اس روایت میں کہ جو کتاب کافی میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، یہ بیان ہوا ہے کہ :
اتما قال بل فعله كبيرهم ارادة الاصلاح ، ودلالة علوانھم
لايفعلون ، ثم قال والله ما فعلوه وماكذب :
"ابراھیم نے یہ بات اس لیے کہی کہ وہ ان کے افکار کی اصلاح کرنا چاہتے تھے اور
انہیں یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ ایسے کام بتوں سے نہیں ہوسکتے"۔
اس کے بعد امامؑ نے مزید فرمایا :
خدا کی قسم بتوں نے یہ کام نہیں کیا تھا اور ابراہیمؑ نے بھی جھوٹ نہیں بولا ۔
مفسرین کی ایک جماعت نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ابراہیمؑ نے اس مطلب کو ایک جملہ شرطیہ کی صورت میں ادا کیا تھا اورانہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ بت بات کریں
تو یہ کام انہوں نے کیا ہے ، اس تفسیر کے مضمون کی ایک حدیث میں وارد ہوئی ہے۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ جملہ شرطیہ ( ان كانوا ينطقون) سوال کرنے کے لیے (فاسئلوهم)ایک قيد ہے ،(بل فعله كبيرهم) کے جملہ کے لیے
نہیں ہے (غور کیجئے گا)
پر ایک اور نکتہ کہ اس کی بات یہاں توجہ کرنا چاہیئے یہ ہے کہ عبارت یہ ہے کہ ان بتوں سے کہ جن کے ہاتھ پاؤں ٹوٹے ہوئے ہیں ۔
یہ سوال ہونا چاہیئے کہ یہ مصیبت ان کے سر پر کس نے ڈالی ہے نہ کہ بڑےبت سے (سوال) کیونکہ "ھم" کی ضمیر اور اسی طرح " ان كانوا ينطقون" سب جمع کی
صورت میں ہیں اور یہ پہلی تفسیر کے ساتھ موا فق ہے۔ ؎1
ابراہیم کی باتوں نے بت پرستوں کو ہلاکر رکھ دیا، ان کے سوئے ہوئے وجدان کو بیدار کیا اور اس طوفان کی مانند کہ جو آگ کی چنگاریوں کے اوپر پڑی ہوئی بہت سی
راکھ کو ہٹا دیتا ہے اوراس کی چمک کو آشکار کر دیتا ہے ، ان کی فطرت توحیدی کو تعصب ، جہالت اورغرور کے پردوں کے پیچھے سے آشکار وظاہرکر دیا۔
زودگزرلمحے میں وہ موت کی سی ایک گہری نیند سے بیدار ہوگئے جیسا کہ قرآن کہتا ہے، وہ اپنے وجدان اور فطرت پلٹے اور خود اپنے آپ سے کہنے لگے کہ حق
بات یہ ہے کہ ظالم تو خود ہی ہو ( فرجعوالى أنفسهم فقالوا انكم انتم الظالمون)٭۔؎2
تم نے تو خود اپنے اوپر بھی ظلم وستم کیا ہے اور اس معاشرے کے اوپر بھی کہ جس کے ساتھ تمھارا تعلق ہے اورنعمتوں کے بخشنے والے پروردگار کی ساحت مقدس
میں بھی .
یہ بات قابل توجہ ہے کہ گزشتہ آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے ابراہیم پر ظالم ہونے کا اتہام لگایا تھا لیکن اب انہیں یہاں معلوم ہوگیا کہ اصلی اورحقیقی ظالم تو
وہ خود ہیں۔
اور واقعًاابراہیمؑ کا اصل مقصد بتوں کے توڑنے سے یہی تھا۔ مقصد تو بت پرستی کی فکر اور بت پرستی کی روح کو توڑنا تھا۔ ورنہ بتوں سے توڑنے کا تو کوئی فائدہ
نہیں ہے ۔ ہٹ دھرم بت پرست ان سے زیادہ اور ان سے بھی بڑے اور بنالیتے اور ان کی جگہ پر رکھ دیتے . جیساکہ نادان، جاہل اور تعصب اقوام کی تاریخ میں اس مسئلے کے بے شمار
نمونے موجود ہیں۔
ابراہیم اس حد تک کامیاب ہوئے کہ انہوں نے اپنی تبلیغ کے ایک بہت ہی حساس اور ظریف مرحلہ کو ایک نفسیاتی طوفان پیدا کرکے طے کرلیا اور وہ تھا سوئے ہوئے
وجدانوں کو بیدار کرنا۔
لیکن افسوس ! کہ جہالت و تعصب اور اندھی تقلید کا زنگ اس سے کہیں زیادہ تھا کہ وہ توحید کے اس میرو کی صیقل بخش پکار سےکلی طور پر دور ہوجاتا۔
افسوس کہ یہ روحانی اور مقدس بیداری زیادہ دیرتک نہ رہ سکی اور ان کے آلودہ اور تاریکی ضمیرمیں، جہالت اور شیطانی قوتوں کی و طرف سے اس نور توسی کے
خلاف قیام عمل میں آگیا اور ہر چیز اپنی پہلی جگہ پر پلٹ آئی ۔ قرآن کتنی اطین تعبیر پیش کررہا ہے، اس کے بعد وہ اپنے سر کے بل لٹے ہو گئے (ثم نكسوا على رؤوسهم)۔
اور اس غرض سے کہ اپنے گونگے اور بے زبان خداؤں کی طرف سے کوئي عذر پیش کریں۔ انہوں نے کہا : تو تو جانتا ہے کہ یہ باتیں نہیں کرتے : ( لقد علمت ما
هؤلاء ينطقون )۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1
علاوه ازیں ظاہر یہ ہے کہ " كبيرهم " کا ضمیر باقی ضمیروں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
؎2 بعض مفسرين نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ (فرجعوا الى انفسھم )سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے اور ایک دوسرے کو ان سلامت و سرزنش کرنے
لگے ہیں لیکن جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتاهے۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ تو ہمیشہ چپ رہتے ہیں اور خاموشی کے رعب کو نہیں توڑتے۔
اور اس تراشے ہوئے عذر کے ساتھ انہوں نے یہ چاہا کہ بتوں کی کمزوری ، بدحالی اورذلت کو چھپائیں۔
یہ وہ مقام تھا کہ جہاں ابراہیم جیسے ہیرو کے سامنے منطقی استدلال کے لیے میدان کھل گیا تاکہ ان پر تابڑ توڑ حملے کریں اوران کے ذہنوں کو ایسی سرزنش اور
ملامت کریں کہ جو منطقی اور بیدارکرنے والی ہو۔" ( ابراہیم نے) پکار کرکہا : کیا تم خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے ہوئے ہو جو نہ تمہیں کچھ فائدہ اپناتے ہیں اور نہ
ضرر : ( قال افتعبدون من دون الله مالايقعكم شيئا ولا یضرکم)۔
یہ خیالی خدا کہ جو نہ بات کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، نہ شعورااداک رکھتے ہیں، خود اپنا دفاع کرسکتے ہیں، نہ بندوں کو اپنی حمایت کے لیے بلاسکتے ہیں، اصلًا ان
سے کونسا کام ہوسکتا ہے اور یہ کس درد کی دوا ہیں ؟
ایک معبود کی پرستش یا تو اس بنا پر ہے کہ وہ عبودیت سے لائق ہے ۔ تو یہ بات بتوں کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتی یا کسی فائدہ کی امید کی وجہ سے ہوتی
ہے اور یا ان سے کسی نقصان کے خوف سے ، لیکن بتوں کے توڑنے کے میرے اقدام نے بتادیاکہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔ تو کیا اس حال میں تمهارا یہ کام احمقانہ نہیں ہے ؟
پھر یہ معلم توحید بات کو اس سے بھی بالاترلے گیا اور سرزنش کے تازیانے ان کی بے درد روح پر لگائے اور کہا: تف ہے تم پر بھی اور تمہارے ان خداؤں پر بھی
کہ جنہیں تم نے خدا کو چھوڑ کر اپنا رکھا ہے، (اف نكم ولما تعبدون من دون الله)۔
کیا تم کچھ سوچتے نہیں ہیں اور تمھارے سر میں عقل نہیں ہے ، (افلا تعقلون)۔
لیکن انہیں برا بھلا کہنے اور سرزنش کرنے میں نرمی اور ملائمت کو بھی نہیں چھوڑا کہ کہیں اور زیادہ ہٹ دھرمی نہ کرنے لگیں ۔ ؎1
درحقیقت ابراہیم نے بہت ہی جچے تلے انداز میں اپنا منصوبہ آگے بڑھایا ۔ پہلی مرتبہ انہیں توحید کی طرف دعوت دیتے ہوئے انہیں پکار کرکہا : یہ بے روح مجسمے
کیا ہیں؟ کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ یہ تمہارے بڑوں کی سنت ہے تو تم بھی گمراہ ہو اور وہ بھی گمراہ تھے۔
دوسرے مرحلے میں ایک عملی اقدام کیا تاکہ یہ بات واضح کردیں کہ یہ بت اس قسم کی کوئی قدرت نہیں رکھتے کہ جو شخص ان کی طرف ٹیڑھی نگاہ سے دیکھے تو
اس کو نابود کردیں۔ خصوصیت کے ساتھ پہلے سے خبردار کرکے بتوں کی طرف گئے اور انہیں بالکل درہم برہم کردیا تاکہ یہ بات واضح کریں کہ وہ خیالات و تصورات جو انہوں نے
باندھے ہوئے ہیں سب کے سب فضول اور بیہودہ ہیں۔
تیسرے مرحلے میں اس تاریخی عدالت میں انہیں بری طرح پھنسا کے رکھ دیا۔ کبھی ان کی فطرت کو ابھارا ، کبھی ان کی عقل کو جھنجھوڑا ، کبھی پند و نصیت کی اور
کبھی سرزنیش و ملامت۔
خلاصہ یہ کہ اس عظیم خدائی معلم نے ہر راستہ اختیار کیا اور جو کچھ اس کے بس میں تھا اسے بروئے کار لایا لیکن تاثیر کےلیے ظرف میں قابلیت کا ہونا بھی مسلمہ
شرط ہے۔ افسوس ہے اس قوم میں موجود نہیں تھی۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 ہم "اف" کے معنی کے بارے میں ج 13 سورہ بنی اسرائیل کی آیہ 23 کے ذیل میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
لیکن بلاشبہ ابراہیم کی باتیں اور کام ، توحید کے بارے میں کم ازکم استفہامی علامات کی صورت میں ان کے ذہنوں میں باقی میں رہ گئے اور یہ کی وسیع بیداری اور
آگاہی کے لیے ایک مقدمہ اور تمہید بن گئی.
تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کچھ افراد اگرچہ وہ تعداد میں بہت کم تھے ، لیکن قدر و قیمت کے لحاظ سے بہت تھے ــــــ ان پر ایمان لے آتے
تھے ۔ ؎1 اور نسبتًا کچھ آمادگی کا سامان دوسروں کے لیے بھی پیدا ہوگیا تھا ۔