2- بت پرستوں کی گفتگو اور ابراھیم کا جواب
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ ۵۱إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ۵۲قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ ۵۳قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۵۴قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ ۵۵قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ ۵۶وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ ۵۷فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ۵۸
اور ہم نے ابراہیم علیھ السّلامکو اس سے پہلے ہی عقل سلیم عطا کردی تھی اور ہم ان کی حالت سے باخبر تھے. جب انہوں نے اپنے مربی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو. ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ان ہی کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی ہوئی گمراہی میں ہو. ان لوگوں نے کہا کہ آپ کوئی حق بات لے کر آئے ہیں یا خالی کھیل تماشہ ہی کرنے والے ہیں. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ تمہارا واقعی رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا رب ہے اور اسی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اسی بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں. اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کے بارے میں تمہارے چلے جانے کے بعد کوئی تدبیر ضرور کروں گا. پھر ابراہیم علیھ السّلامنے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو حُور چوِر کردیا کہ شاید یہ لوگ پلٹ کر اس کے پاس آئیں.
2- بت پرستوں کی گفتگو اور ابراھیم کا جواب :
یہ بات قابل توجہ ہے کہ بت پرستوں نے حضرت ابراھیم کے جواب میں افراد کی کثرت کا بھی ذکر کیا اور طول زمانہ کا بھی وہ کہنے لگے : ہم نے اپنے آباؤ و اجداد
کو اسی دین پر پایا ہے۔
انہوں نے بھی دونوں محنتوں کا جواب دیا : تعلیمی اور تمہارے آباو اجداد کی ، ہمیشہ واضح گمراہی میں رہتے ہیں۔
یعنی عاقل انسان کہ جو استقلال فکری رکھتا ہو ہرگز ان اوهام کا پابند نہیں ہوتا ۔ نہ ہی کسی رسم اور سنت کے طرفداروں کی کثرت کو اس کی درستی کی دلیلی سمجھتا
ہے اور نہ ہی اس کے ہمیشہ ہوتے رہنے کو اس کی حقانیت کی دلیل جانتا ہے :