1- بت پرستی کی مختلف شکلیں
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ ۵۱إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ۵۲قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ ۵۳قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۵۴قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ ۵۵قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ ۵۶وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ ۵۷فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ۵۸
اور ہم نے ابراہیم علیھ السّلامکو اس سے پہلے ہی عقل سلیم عطا کردی تھی اور ہم ان کی حالت سے باخبر تھے. جب انہوں نے اپنے مربی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو. ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ان ہی کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی ہوئی گمراہی میں ہو. ان لوگوں نے کہا کہ آپ کوئی حق بات لے کر آئے ہیں یا خالی کھیل تماشہ ہی کرنے والے ہیں. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ تمہارا واقعی رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا رب ہے اور اسی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اسی بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں. اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کے بارے میں تمہارے چلے جانے کے بعد کوئی تدبیر ضرور کروں گا. پھر ابراہیم علیھ السّلامنے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو حُور چوِر کردیا کہ شاید یہ لوگ پلٹ کر اس کے پاس آئیں.
چند اہم نکات
1- بت پرستی کی مختلف شکلیں :
یہ ٹھیک ہے کہ ہم بت پرستی کے لفظ سے زیادہ تر پتھر اور لکڑی کے بتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن ایک لحاظ سے بت اور بت پرستی وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ
جو غیر خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ ـــــــ خواہ وہ کسی بھی شکل و صورت میں ہو ـــــ پر محیط ہے اور مشہور و معروف حدیث کے مطابق کہ :
كلما شغللک عن الله فهوصنمك
جوچیز بھی انسان کو اپنی طرف مشغول اور خدا سے دور کرے ، وہ اس کا بت ہے۔
اس حدیث میں اصبغ بن نباتہ سے کہ جو علی علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے ہیں ، یہ بیان ہوا ہے کہ:
أن عليا مربقوم يلعبون الشطرنج فقال : ما هذه التماثيل
التي انتم لھا عاكفون ؟ لقد عصيتم الله و رسوله
امیرالمومنین علیہ السلام کچھ لوگوں کے قریب سے گزرے ۔ وہ شطرنج کھیل رہے تھے ۔
آپ نے فرمایا : یہ مجسمے (اور بت) کہ جن کے ساتھ مشغول ہو کیا ہیں ؟ تم خدا کے بھی نافرمان ہو اور اس کے رسول کے بھی ۔ ؎2
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ "اليه" کا مرجع خود حضرت ابراہیمؐ ہیں اور بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد بڑا بت ہے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتاہے اوریہ جو
کچھ مذکورہ بالا آیت میں بیان ہوا ہے کہ میں ان کا بڑا تھا ، ممکن ہے کہ یہ ظاہری بڑے ہونے کی طرف ا شارہ ہو یا بے ہودہ بت پرستوں کی نگاہ میں اس کے زیادہ احترام کی طرف یا
دونوں کی طرف اشارہ ہو۔
؎2 مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔