Tafseer e Namoona

Topic

											

									   ابراہیمؑ بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناتے ہیں

										
																									
								

Ayat No : 51-58

: الانبياء

وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ ۵۱إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنْتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ ۵۲قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ ۵۳قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ۵۴قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنْتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ ۵۵قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ ۵۶وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُمْ بَعْدَ أَنْ تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ ۵۷فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ ۵۸

Translation

اور ہم نے ابراہیم علیھ السّلامکو اس سے پہلے ہی عقل سلیم عطا کردی تھی اور ہم ان کی حالت سے باخبر تھے. جب انہوں نے اپنے مربی باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم حلقہ باندھے ہوئے ہو. ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو بھی ان ہی کی عبادت کرتے ہوئے دیکھا ہے. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ یقینا تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی ہوئی گمراہی میں ہو. ان لوگوں نے کہا کہ آپ کوئی حق بات لے کر آئے ہیں یا خالی کھیل تماشہ ہی کرنے والے ہیں. ابراہیم علیھ السّلامنے کہا کہ تمہارا واقعی رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا رب ہے اور اسی نے ان سب کو پیدا کیا ہے اور میں اسی بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں. اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کے بارے میں تمہارے چلے جانے کے بعد کوئی تدبیر ضرور کروں گا. پھر ابراہیم علیھ السّلامنے ان کے بڑے کے علاوہ سب کو حُور چوِر کردیا کہ شاید یہ لوگ پلٹ کر اس کے پاس آئیں.

Tafseer

									  تفسیر
       ابراہیمؑ بتوں کی نابودی کا منصوبہ بناتے ہیں:
 ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں سولہ پیغمبروں کے حالات اور واقعات بیان ہوئے ہیں اور اس سورہ کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ یہ انبیاء کے بارے میں ہے ۔ 

گزشتہ آیات میں موسٰیؑ و ہارونؑ کی رسالت کی طرف کچھ اشارہ ہوا ہے۔ زیر بحث آیات میں حضرت ابراہیمم کی زندگی اور بت پرستوں کے ساتھ ان کی معرکہ آرائی کا ایک اہم حصہ بیان ہو 

رہا ہے پہلے فرمایا گیا ہے۔ ہم نےرشد و ہدایت کا وسیلہ پہلے سے ابراہیمؑ کو دے دیا تھا اور ہم اس کی اہلیت سے آگاہ تھے : ( ولقد اتينا ابراهيورشده من قبل وكتابه عالمين)۔
 "رشد" اصل میں مقصد تک راہ پانے کے معنی میں ہے اور یہاں ممکن ہے حقیقت توحید کی طرف اشارہ ہو کہ ابراھیمؑ بچپن ہی میں اس سے آگاہ ہو گئے تھے اور یہ بھی 

ممکن ہے کہ اس انتظار کے وسیع معنی کے لحاظ سے ، ہر قسم کی خیرو صلاح کی طرف اشارہ ہو۔
 "كنابه عالمین" کا جملہ ان سب نعمات کو حاصل کرنے کے لیے ابراہیم کی صلاحیتوں کی طرف اشارہ ہے کیونکہ درحقیقت خدا کوئی نعمت کسی کو بلا وجہ نہیں دیتا ۔ 

یہ صلاحیتیں اور لیاقتیں ہی ہیں کہ جن کی بنا پر نعمات الٰہی حاصل ہوتی ہیں ۔ اگرچہ مقام نبوت میں ایک مقام نعمت و عطاء ہے۔
 اس کے بعد حضرت ابراہیم کے ایک اہم کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : ابراہیم کا یہ رشدہ و ہدایت اس وقت ظاہر ہوا کہ جب اس نے اپنے باپ سے ( یہ 

ان کے چچاآزر کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ عرب بعض اوقات اپنے چچا کو بھی "اب"کہتے ہیں اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں کہ جن کے تم گرویده بو اور رات دن ان کا 

طواف کرتے ہو اور ان سے دستبردار نہیں ہوتے  (اذ قال لأبيه وقومه، ماهذه التماثيل التي انتولها عاكفون)۔
 حضرت ابراہیم نے یہ الفاظ کہہ کر ان بتوں کی کہ جو ان کی نظروں میں انتہائی عظمت رکھتے تھے ، شدت سے تحقیروتذلیل کی ، پہلے "ماهذه" (یہ کیا ہیں!) کہا۔ 

؎1 دوسرے : " تماثیل کی تعبیر استعمال کی کیونکہ "تماثیل"  "تمثال" کی جمع ہے اور یہ تصویر یا بے روح مجسمہ کے معنی میں ہے (بت پرستی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ شروع شروع 

میں یہ تصاویر اور مجسمے انبیا اور علماء کی یادگار کے طور تھے ۔ لیکن آہستہ آہستہ ایسے مقدس سمجھے جاتے لگے کہ معبود بن گئے)۔ 
  "انتم لها عاكفون" میں " عكوف" احترام کے ساتھ ملی ہوئی خدمت کے معنی میں ہے کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انھوں نے بتوں کے ساتھ ایسی دل بستگی پیدا 

کرلی تھی اوران کے آستانے پر اس طرح سرجھکاتے تھے اور ان کے گرد چکر لگاتے تھے کہ گویا ہمیشہ کے لیے ان کے ملازم اور خدمت گار ہیں ۔
 ابراہیم کی یہ گفتگو درحقیقت بت پرستی کے ابطال کے لیے ایک واضح اور روشن استدلال ہے کیونکہ بتوں میں ہم جو کچھ دیکھتے ہیں وہ یہی مجسمہ و تمثال ہی ہے۔ 

باقی تخیل ہے اور تو ہے اور خیال ۔ کونسا عقلمند انسان خود کو اس بات کی اجازت دے گا کہ وہ ایک چھوٹے سے پتھراور لکڑی کے لیے اس قدر ظلمت ، احترام اور قدرت کا قائل ہو جائے ، 

آ خر وہ انسان کہ جو خود اشرف مخلوقات ہے اپنی ہی بنائی ہوئی  چیز کے سامنے اس طرح سے خضوع و خشوع کیوں کرےاور اپنی مشکلات کا حل اس سے کیوں طلب کرے؟
 لیکن بت پرست درحقیقت اس منہ بولتی اور راضی منطق کا کوئی جواب نہیں رکھتے تھے ۔ سوائے اس کے کہ اس کی ذمہ داری اپنے بڑوں کے نہ سر توپ دیں ۔ لہذا 

انہوں نے کہا : ہم نے اپنے آباؤ اجداد اور بڑوں کو دیکھا ہے کہ وہ ان کی پرستش کرتے ہیں اور ہم اپنے بڑوں کی سنت کو پورا کر رہے ہیں: ( قالوا وجدنا اباءنالھاعابدین)۔
 چونکہ صرف بڑوں کی سنت اور روش کسی مشکل کو حل نہیں کرتی اور ہمارے پاس اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ بزرگان گزشتہ آئندہ آنے والی نسلوں سے 

زیادہ عالم اور زیادہ عاقل تھے ۔ بلکہ اکثر معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے کیونکہ زمانہ گزرنے کے ساتھ علم و دانش بڑھتی رہتی ہے۔ لہذا حضرت ابراہیم نے فورًا انہیں جواب دیا : تم بھی 

اور تمہارے آباؤ اجداد بھی یقینًا واضح گمراہی میں تھے : (قال لقد کنتم انتم واباؤ كم فی ضلال مبین)۔
 یہ تعبیر کہ جس میں بہت سی تاکیدیں موجود ہیں اور بڑی قاطعیت رکھتی ہیں ، اس بات کا سبب بنی کہ بت پرست کچھ  ہوش میں آئیں اور تحقیق کی جانب مڑیں۔ ابراھیم 

کی طرف رخ کرکے کہنے لگے : کیا سچ مچ تو کوئی حق بات لے کرآیا ہے یا مذاق کر رہا ہے (قالوا أجئتنا بالحق ام انت من اللاعبين)۔
 کیونکہ وہ لوگ جنہیں بتوں کی پرستش کی عادت پڑچکی تھی اور اسے ایک قطعی واقعیت سمجھتے تھے ، یہ بادر نہیں کرتے تھے کہ کوئی شخص سنجیدگی اور پختگی 

کے ساتھ بت پرستی کی مخالفت کرے گا ۔ لہذا انہوں نے حضرت ابراہیم سے تعجب اسکے ساتھ ہی سوال کیا ۔
 لیکن ابراھیم نے صراحت کے ساتھ انہیں جواب دیا : میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ سنجیده ، محکم اور عین واقعیت ہے کہ تمھارا 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      "ما" اس قسم کے موقعوں پر عمومًا غیر عاقل کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور اسم اشاره قریب بھی ایسے موقعوں پر ـــــــ ایک قسم کی تحقیر کو ظاہرکرتا ہے ،ورنہ دور کا اشاده 

مناسب تھا۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
پروردگار آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے : ( قال بل ربكم رب السماوات والارض) ۔
 وہی خدا کی جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور خود بھی اس عقیدہ کے گواہوں میں سے ہوں: (الذى فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين)۔
 حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اس دو ٹوک گفتگو سے یہ واضح کیا : کہ وہ ذات ہی پرستش کے لائق ہے کہ جو ان سب کی زمین کی اور تمام موجودات کی خالق ہے لیکن پتھر 

اور لکڑی  کے  ٹکڑے کہ جو خود ایک ناچیز مخلوق ہیں ، پرستش کے لائن نہیں ہیں ۔ خاص طور پر" وانا على ذالكم من الشاهدين" کے جملے نے یہ ثابت کیا کہ صرف میں ہی نہیں ہوں کہ 

جو اس حقیقت پر گواہ ہوں بلکہ سب فہمیده ، آگاہ اور صاحبان علم ــــ کہ جنہوں نے اندھی تقلید کے رشتوں کو توڑ دیا ہے ــــــ۔ اس حقیقت پر گواہ ہیں ۔
 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ یہ بات سو فی صد صحیح اور محکم ہے اور وہ اس عقیده پر ہرمقام تک قائم ہیں اور اس کے نتائج و 

لوازم  کو جو کچھ بھی ہوں انہیں ــــــ جان و دل سے قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ، مزید کہتے ہیں : مجھے خدا کی قسم  ، جس وقت تم یہاں پر موجود نہیں ہوگئے اور یہاں سے کہیں باہر 

باہر جاؤگے . تو میں تمہارے بتوں کو نابود کرنے کا منصوبہ بناؤں گا (وتالله لاكيدن اصنامكم بعد ان تولوا مدبرین)۔
 "اكيدن " "كيد " کے مادہ سے لیا گیا ہے کہ جو پوشیدہ منصبوں اور مخفیانہ چاره جوائی کے معنی میں ہے ۔ ان کی مرادیہ تھی کہ انہیں صراحت کے ساتھ سمجھا دیں ، 

آخر کار میں اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں نابود اور درہم برہم کر دوں گا۔
 لیکن شایدان کی نظر میں بتوں کی عظمت اور رعب اس قدر تھا کہ انہوں نے اس کو کوئی سنجیدہ بات نہ سمجھا اور کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔ شاید انہوں نے یہ سوچا 

کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی قوم و ملت کے مقدمات کے ساتھ ایسا کھیل کھیلے جب کہ ان کی حکومت بھی سو فی صد ان کی حامی ہے، وہ کسی برتے اور اس طاقت کے بل 

بوتے پر ایسا کرے گا ؟
 اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تو بعض نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ جملہ اپنے دل میں کہا تھا یابعض مخصوص افراد سے کہا تھا ، کسی لحاظ 

سے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ خاص طور پر جب کہ یہ بات کامل طور سے ظاہر آیت کے خلاف ہے۔
 اس کے علاوہ بعد کی چند آیات میں یہ بیان ہوا ہے کہ بت پرستوں کو ابراہیمؐ کی بات یاد آگئی اور انھوں نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ ایک جوان بتوں کے خلاف ایک 

سازش کی بات کرتاہے۔
 بہرحال حضرت ابراہیم نے ایک دن جب کہ بت خانه خالی پڑا تھا اور بت پرستوں میں سے کوئی وہاں موجود نہیں تھا ، اپنے منصوبے کو عملی شکل دے دی۔
 اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق بت پرست ہر سال ایک مخصوص دن بتوں کی عید مناتے تھے۔ طرح طرح کے کھانے بت خانے میں 

چڑھا کر ، سب کے سب اکٹھے شہر سے باہر چلے جایا کرتے تھے اور شام ڈھلے واپس بت خانہ میں آتے تھے تاکہ ــــــ وہ کھانے کھائیں کہ جو ان کے عقیدے کے مطابت متبرک ہوگئے 

تھے۔
 حضرت ابراہیم سے بھی انہوں نے تقاضاکیا کہ ان کے ساتھ چلیں لیکن انہوں نے بیماری کا عذر کیا اور ان کے ساتھ نہ گئے.
 بہرحال وہ ـــــ بغیر اس کے کہ اس کام کے خطرات سے ڈرتے یا جو طوفان اس کام کے بعد کھڑا ہوگا ، اس کا کوئی خوف دل میں لاتے ـــــ مردانہ وار میدان میں کود 

پڑے اور بڑی شجاعت سے ان تراشے ہوئے خداؤں سے جنگ کرنے کے لیے چل پڑے کہ جن کے اتنے متعصب اور نادان عقیدت مند تھے۔ جیساکہ قرآن کہتا ہے :سوائے ان کے بڑے بت 

کے سب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا: (فجعلھم جذاذًا الاكبيرًا لهم)۔
 مقصد ان کا یہ تھا کہ "شاید بت پرست لوٹ کر اس کے پاس آئیں اور وہ بھی ساری باتیں ان سے کہے (لعلهم اليه يرجعون)۔ ؎1