Tafseer e Namoona

Topic

											

									  انبیا کی کچھ داستان

										
																									
								

Ayat No : 48-50

: الانبياء

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ وَهَارُونَ الْفُرْقَانَ وَضِيَاءً وَذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ ۴۸الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ ۴۹وَهَٰذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ أَنْزَلْنَاهُ ۚ أَفَأَنْتُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ۵۰

Translation

اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام اور ہارون علیھ السّلام کو حق و باطل میں فرق کرنے والی وہ کتاب عطا کی ہے جو ہدایت کی روشنی اور ان صاحبانِ تقویٰ کے لئے یاد الٰہی کا ذریعہ ہے. جو ازغیب اپنے پروردگار سے ڈرنے والے ہیں اور قیامت کے خوف سے لرزاں ہیں. اور یہ قرآن ایک مبارک ذکر ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے تو کیا تم لوگ اس کا بھی انکار کرنے والے ہو.

Tafseer

									  تفسیر
           انبیا کی کچھ داستان :
 ان آیات میں اور ان کے بعد انبیاء کی زندگی کے کچھ حالات بیان ہوئے ہیں کہ جن میں بہت سے تربیتی نکات ہیں . ان حالات سے پیغمبراسلامؐ کی نبوت کے بارے میں گزشتہ بحثوں 

اور مخالفین کے ساتھ ان کے مقابلے اور مشکلات ، زیادہ واضح ہوجاتے ہیں کیونکہ ان میں بہت سے مشترک پہلو موجود ہیں۔
 پہلی آیت میں فرایا گیا ہے، ہم نے موسی و ہارون کو " فرقان" یعنی حق کو باطل سے جدا کرنے کا ذریعہ ، نوراور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت عطاکی :( ولقد اتینا موسٰی وهارون 

الفرقان وضياء و ذكرًا للمتقتين "
 "فرقان" دراصل ایسی چیز کے معنی میں ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کر دے اور ان دونوں کی پہچان کا ذریعہ ہو۔ یہ کہ اس سے مراد کیا ہے تو علما نے اس کے لیے متعدد 

تفسیر بیان کی ہیں۔
 بعض نے تو اس سے مراد تورات لی ہے۔
  بعض نے اسے بنی اسرائل کے لیے دریا کا شق ہوجانے سمجھا ہے کہ جو حق کی عظمت اور موسٰی کی حقانیت کی واضح نشانی تھی۔ 
 جبکہ بعض نے ان تمام دلائل اور سارے معجزات کہ جو موسٰیو ہارون کو دیئے گئے تھے ، کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ 
 لیکن یہ تمام تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ فرقان " تورات" کی طرف بھی اشارہ ہو ، اور موسٰی کے تمام معجزات و دلائل کی طرف بھی اشارہ ہو۔ 
 نیز تمام آیات میں "فرقان" کا کبھی تو خود "قرآن" پر اطلاق ہوا ہے ۔ مثلًا:
  تبارك الذي نزل الفرقان على عبده ليكون للعالمين نذیرًا 
  بزرگ اور برکتوں والا ہے وہ خدا کہ جس نے اپنے بندہ پر فرقان کو نازل کیا تاکہ وہ سارے
  جہان والوں کو ڈرانے والاہو۔   (فرقان - 1) 
 کبھی آن معجزانہ کامیابیوں پر ، اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے کہ جو پیغمبراکرمؐ کو حاصل ہوئیں۔ جیسا کہ جنگ بدر کے بارے میں " يوم الفرقان" فرمایا ہے۔ ( انفال ـــــ 41)۔  باقی رہا 

لفظ "ضیاء"  تو وہ نور اور روشنی کے معنی میں ہے کہ جو کسی ذات کے اندر سے پیدا ہو اور مسلمہ طور پر قرآن ، تورات اورانبیاء کے معجزات اسی طرح کے ہیں۔ ؎1
 "ذکر" ہر وہ چیز ہے کہ جو انسان کو غفلت اور بے خبری سے دور رکھے اور یہ بھی آسمانی کتابوں اور خدائی معجزات کے واضح آثار میں سے ہے۔
 ان تینوں تعبیروں کو یکے بعد دیگرے بیان کرنا ، گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان مقصد تک پہنچنے کے لیے پہلے "فرقان" کا محتاج ہے. یعنی دوراہے یا چوراہے پر کھڑا ہوا 

اصل راستے کو معلوم کرلےتو پھر راستہ چلتے چلتے کبھی رکاوٹ بھی پیش آجاتی ہے۔ ایسی رکاوٹوں میں سب سے اہم غفلت ہے۔لہذا کسی ایسے وسیلے اور ذریعے کا محتاج ہے کہ جو اسے مسلسل 

خبردار کرتا رہے یاد دلاتا ہے اور ذکر کرتا رہے۔
 یہ بات قابل توجہ ہے کہ "فرقان" معرفہ کی صورت میں آیا ہے اور " ضيا" اور "ذکر" نکرہ کی صورت میں ہے اوراس کا اثر متقین اور پرہیزگاروں کے ساتھ مخصوص قرار دیا گیا ہے 

تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کر معجزات اور پیام آسمانی تو سب کے لیے راستے واضح کرتے لیکن سب لوگ ایسے نہیں ہوتے کہ جو مصمم امادہ کرلیں اور ضیاء و 

ذکرسے استفادہ کریں، بلکہ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   ضیا کے معنی اور نور سے اس کے فرق کے بارے میں سورہ یونس آیہ 5 کے ذیل میں ہم نے جلد 8 میں مزید وضاحت کی ہے۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
وہ صرف وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں، اور تقوٰی شمار ہوتے ہیں ۔
 بعد والی آیت پرہیزگاروں کا اس طرح تعارف کراتی : وہ وہی لوگ ہیں کہ جو اپنے پروردگار سے غیب میں اور پنہاں طور پر ڈرتے ہیں: (الذين يخشون ربهم بالغيب) - 
 اور قیامت کے دن کا خون رکھتے ہیں:(وهم من الساعة مشفقون)۔ 
 لفظ " غیب کی یہاں پر دوتفسیریں کی گئی ہیں ۔ پہلی تفسیر تو یہ ہے کہ یہ پروردگار کی ذات پاک کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی باوجود اس کے کہ خدا نظروں سے پوشیدہ اور پنہاں ہے، 

وہ عقل کی دلیل کی بنا پر اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور اس کی پاک ذات کے سامنے مسئولیت اور ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں۔
 دوسری تفسیر یہ ہے کہ پرہیزگار لوگ صرف معاشرے کے سامنے ہی خدا کا خوف نہیں رکھتے ، بلکہ اپنی خلوت گاہوں میں بھی اسے حاضر و ناظر سمجھتے ہیں۔
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا سے خوف کے لیے لفظ "خشیت" استعمال ہوا ہے ۔ اور قیامت کے بارے میں "اشفاق" کی تعبیر آئی ہے، یہ دونوں الفاظ اگرچہ خوف کے معنی میں ہیں 

لیکن کتاب مفردات میں راغب کے قول کے مطابق "خشیت" اس حال میں بولا جاتا ہے کہ جب خوف احترام و تعظیم کے ساتھ ہو۔ اس خوف کہ مانند کہ جو ایک بیٹا اپنے والد بزرگوار سے رکھتا ہے، اس 

بنا پر پرہیز گاروں کا خدا سے خوف  معرفت کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے ۔
 لیکن "اشفاق" کا لفظ اس تعلق اور توجہ کے معنی میں ہے کہ جو خوف سے ملا ہوا ہو. مثلًا یہ تعبیر کبھی اولاد اور دوستوں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے کہ انسان جان سے تعلق 

اور دوستی رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود کہ وہ آفات وتکلیف میں گرفتار ہوسکتے ہیں لہذا ان کے بارے میں ڈرتا رہتا ہے۔
 حقیقت میں پرہیز گار لوگ قیامت کے دن سے بہت لگاؤ اور تعلق رکھتے ہیں کیونکہ وہ جزاء اور خدا کی رحمت کا مرکز ہے لیکن اس کے بادجود معاملہ حساب و کتاب کا بھی خوف 

رکھتے ہیں ۔
 البتہ بعض اوقات یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔
 آخری زیر بحث آیت میں قرآن کا گزشتہ کتابوں سے ایک موازنہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے، یہ ایک مبارک ذکر ہے کہ جسے ہم نے تم پر نازل کیا ہے: ( وهذا ذكر مبارك انزلناه) 
 کیا تم اس کا انکار کرتے ہو: (افانتم له منكرون)۔
 انکار کیوں کرتے ہو ؟ یہ تو ذکرہے اور تمہارے لیے بیداری و آگاہی اور یاد آوری کا باعث ہے۔ یہ تو مرکز برکت ہے، اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے اور یہ تمام کامیابیوں اور 

خوش بختیوں کا سرچمشہ ہے۔
 کیا ایسی کتاب سے بھی انکار کی گنجائش ہے ؟ اس کی حقانیت کی دلیلیں خود اسی کے اندر پوشیدہ ہیں۔ اس کی نورانیت آشکار ہے۔
 اور اس کے راستے پر چلنے والے سعادت مند اور کامیاب ہیں۔
 اس بات کو جاننے کے لیے کہ یہ قرآن کی حد تک آگاہی کا سبب اور برکت کا موجب ہے ، یہی بات کافی ہے کہ ہم قرآن کے نزول سے جزیرہ عرب میں رہنے والوں کی حالت کو 

دیکھیں کہ وہ وحشت و جہالت ، فقر و فاقہ ، بدبختی اور پراگندگی میں زندگی بسر کرتے تھے ــــــــ اور ان کی نزول قرآن کے بعد کی کیفیت ہوگئی ۔ بعد میں وہ دوسروں کے لیے اسوہ اور نمونہ بن 

گئے اسی طرح دوسری اقوام کی ان کے درمیان قرآن کے ورود سے پہلے اور بعد کی وضع و کیفیت کو د