قیامت میں عدل کے ترازو
وَلَئِنْ مَسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ۴۶وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا ۖ وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ ۴۷
حالانکہ انہیں عذاب الٰہی کی ہوا بھی چھوجائے تو کہہ اُٹھیں گے کہ افسوس ہم واقعی ظالم تھے. اور ہم قیامت کے دن انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور کسی نفس پر ادنیٰ ظلم نہیں کیا جائے گا اور کسی کا عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہے تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم سب کا حساب کرنے کے لئے کافی ہیں.
تفسیر
قیامت میں عدل کے ترازو :
گزشتہ آیات میں سے ایمان لوگوں کے غرور اور بے خبری کی حالت بیان کی گئی تھی ۔ زیر نظر آیات میں فرمایا گیا ہے: یہ مغرور اور بے خبر لوگ نعمت اور سکون کی حالت میں تو
ہرگز خدا کے بندے نہیں بنتے (لیکن) اگر تیرے پروردگار کے عذاب کا ایک ذرہ بھی ان کے دامن کو آلگے ۔ تو اس طرح سے وحشت زدہ ہوجائیں اور چیخنے لگیں کہ ہائے افسوس ہم تو سب کے سب
ظالم تھے: :( ولئن متهم ففحة من عذاب ربك ليقولن يا ويلنا انأ كنا ظالمين)۔
مفسرین اور ارباب لغت کے قول کے مطابق لفظ" تضحة " حقیر یاکم مقدار چیز یا ملائم ہوا کے معنی میں ہے ، اگرچہ یہ لفظ زیادہ تر رحمت و نعمت کی ہواؤں کے لیے استعمال ہوتا ہے
لیکن عذاب کے لیے بھی استعمال ہواہے ۔
تفسیرکشاف کے مطابق "لئن متتهم نفحة .. .. .. " میں تین تعبیریں ایسی ہیں کہ جو سب ناچیزی اورکمی کی طرف اشاره
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 تفسیررازی ، تفسیرفی ظلال ، مفردات راغب آیہ زیر بحث اور مادہ "نفحة" کے ذیل میں ۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
کرتی ہیں "مس" کی تعبیر اور "نفحة" کی تعبیر مادة لغت کے اعتبار سے نیز وزن اور صیغہ کے لحاظ سے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ہی کہنا چاہتا ہے کہ یہ دل کے اندھے سالہا سال تک پیغمبر کی باتیں اور وحی کی منطق سنتے رہتے ہیں مگر ان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا مگر جس وقت عذاب
کا تازیانہ ــــــ چاہے وہ کتنا ہی خفیف اور مختصر ہو ـــــ ان کی پشت پر لگے گا تو پھر ان کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے اور کہنے لگلیں گے کہ "اناكناظالمين" تو کیا عذاب کا تازیانا کھا کر ہی انہیں
بیدار ہونا چاہیئے ؟
اس کا کیا فائدہ ؟ کیونکہ یہ اضطراری بیداری بھی ان کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگی ، اس لیے کہ اگر طوفان عذاب رک جائے اور و سکون حاصل کرلیں تو وہ پھر اسی راستے پر چلنے
لگیں گے اور وہی طرز عمل اپنالیں گے۔
زیر بحث دوسری آیت قیامت میں دقیق حساب کتاب اور عادلانہ جزا و سزا کی طرف اشارہ کر رہی ہے ، تاکہ بے ایمان اور ستمگر یہ جان لیں کہ اگر بالفرض دنیا کا عذاب انہیں
دامنگیر ہوا تو آخرت کی سزا تو حتمی ہے اور باریک بینی کے ساتھ ان کے تمام اعمال کا حساب کتاب کیا جائے گا۔
لہذا ارشاد ہوتا ہے : ہم قیامت کے دن عمل کے ترازو نصب کریں گے :( ونضع الموازين القسط ليوم القيامة)۔
"قسط" کبھی تو عدم تبعیض اور ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے اور کبھی مطلق طور پر عدالت کے معنی میں اور یہاں دوسرا معنی مناسب ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ "قسط کا لفظ یہاں پر "موازین" کی صفت کے طور پر آیا ہے ۔ یہ ناپ تول کے ترازو ایسے دقیق اور و منظم ہیں کہ گویا عین عدالت ہیں۔ ؎1
اور اسی بنا پر ساتھ ہی مزید ارشاد ہوتا ہے : کسی بھی شخص پر وہاں معمولی سا بھی ظلم و ستم نہیں ہوگا: (فلاتظلم نفس شیئًا)۔
نہ نیکی کرنے والوں کی جزاء میں کوئی کمی ہوگی اور نہ ہی بدکاروں کی سزا میں کوئی زیادتی کی جائے گی۔
لیکن ظلم وستم کی اس نفی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ حساب کتاب میں باریک بینی نہیں ہوگی بلکہ "اگر رائی کے برابر بھی کسی کا کوئی نیک یا بد کام ہو گا ، تو ہم اسے حاضر کر دیں
گے"۔ (اوراسے تول کر دکھائیں گے) : (وان كان مثقال حبة من خردل آتيناها)۔
" اور (عدل کے لیے) اتنی بات ہی کافی ہے کہ بندوں کے اعمال کا حساب کرنے والے ہم خود ہوں گے" :(وکفی بناحاسبين).
"خردل" کالے رنگ کے بہت چھوٹے چھوٹے دانوں والی ایک گھاس ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے پن اور حقیر اور معمولی چیزہونے میں ضرب المثل ہے۔
إس تعبیرکی ایک نظیر قرآن میں ایک اور جگہ "مثقال ذرة " " ایک ذرہ کا وزن" (ایک بہت ہی چھوٹی سی چیونٹی یا مٹی اور
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اگرچہ "موازين" جمع ہے اور "قسط" مفرد لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قسط مصدرہے اور مصدر کی جمع نہیں ہوتی لہذا کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔
؎2 ہمارے ہاں اسے "رائی" کہتے ہیں ۔ (مترجم)۔
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
غبار کا ایک چھوٹا ساذرہ) کے عنوان سے آئی ہے، ( تزال - 7)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید میں چھ موقعوں پر " مثقال ذرة “ کی تعبیر اور دو موقعوں پر "مثقال حبة من خردل" کی تعبیر آئی ہے۔
درحقیقت زیر نظر آیت میں قیامت کے دن کے دقیق حساب و کتاب کے مسئلے پر چھ مختلف تعبیروں کے ساتھ تاکید ہوئی ہے۔
1- لفظ "موازين" وہ بھی جمع کی صورت میں ۔
2- پھر "قسط" کے وصف کا ذکر
3- اس کے بعد ظلم کی نفی پر تاکید "فلا تظلم نفس"
4- اور اس کے بعد کلمہ "شیئًا" (کوئی بھی چیز) کا استعمال
5- اور اس کے بعد رائی کے دانے کی مثال
6- اور آخر میں "كفى بناحاسبين" (یہی کافی ہے کہ حساب لینے والے ہم ہوں گے کا جملہ)۔
یہ سب تاکیدیں اس بات کی دلیل ہیں کہ قیامت کے دن حساب کتاب حد سے زیادہ دقیق اور ہر قسم کے ظلم و ستم سے پاک ہوگا۔
اس بارے میں کہ ناپ تول کے ترازو سے مراد کیا ہے؟ بعض نے تو یہ خیال کیا ہے کہ وہاں اس دنیا کے ترازوں کی طرح کے ترازو نصب ہوں گے اور اسی بنا پر فرض کرلیا ہے
کہ انسان کے اعمال وہاں پر بوجھ اور وزن رکھتے ہوں گے تاکہ وہ ان ترازوؤں میں تولے جانے کے قابل ہوں۔
لیکن حق بات یہ ہے کہ یہاں پر "میزان" ناپ تول اور وزن کرنے کے وسیلہ اور ذرایعہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز کے وزن کرنے کا وسیلہ اورذریعہ خود اس
کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ تھرمامیٹر (گرمی کی مقدار معلوم کرنے کا آلہ) بیرومیٹر (ہوا کی رفتار معلوم کرنے کا آلہ) اور اسی طرح دوسرے موازین - ہرایک اسی چیز کے مطابق ہوتا ہے ، جسے اس
وسیلے اور ذریعے سے اپنا مطلوب ہوتا ہے۔
احادیث اسلامی میں آیا ہے کہ قیامت کے دن وزن کرنے کے ترازو انبیاء آئمہ اور نیک پاک لوگ ہوں گے کہ جن کے نامہ اعمال میں کوئی تاریک نقطہ ہے ہی نہیں۔ ؎1
ہم (زیارت میں) پڑھتے ہیں :
السلام على ميزان الاعمال
اعمال کے ترازو پر سلام ہے.
(اس موضوع کی مزید تفصیل چھٹی جلد کے ص 89 - پر دیکھئے)
یہ بھی ممکن ہے کہ "موازین" کا ذکر جمع کی صورت میں (کہ جو میزان کی جمع ہے) اسی بات کی طرف اشارہ ہو کیونکہ مردان حق
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 بحارالانوار ، ج ، 7 ، ص 252 (اشاعت جدید) -
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
میں سے ہر ایک انسان کے اعمال کے لیے کسی کی ناپ تول کی میزان ہیں ۔ علاوہ اس کے کہ وہ سب سے سب ممتاز حیثیت رکھتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے ہر ایک کا ایک خاص امتیاز بھی ہے کہ
جو اس خاص حصے کی ناپ تول کے لیے ترازو یا نمونہ ہے۔
دوسرے لفظوں میں جو شخص جتنی مقدار میں ان سے شباہت رکھتا ہوگا اور صفات و اعمال کے لحاظ سے ان بزرگوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوگا ، اسی قدر اس کا وزن بوجھل ہوگا۔ جس
قدر وہ ان بزرگوں سے دور اور ان سے مختلف ہوگا ، اتنا ہی ہلکا وزن رکھنے والا ہوگا۔