Tafseer e Namoona

Topic

											

									  2- بل تأتيهم بغتة فتبهتهم کا مفہوم

										
																									
								

Ayat No : 36-40

: الانبياء

وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ ۳۶خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ۳۷وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۳۸لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ۳۹بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ۴۰

Translation

اور جب بھی یہ کفّار آپ کو دیکھتے ہیں تو اس بات کا مذاق اُڑاتے ہیں کہ یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے اور یہ لوگ خود تو رحمان کے ذکر سے انکار ہی کرنے والے ہیں. انسان کے خمیر میں عِجلت شامل ہوگئی ہے اور عنقریب ہم تمہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تو پھر تم لوگ جلدی نہیں کرو گے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ّ ہو تو اس وعدہ قیامت کا وقت آخر کب آئے گا. کاش یہ کافر یہ جانتے کہ وہ ایسا وقت ہوگا جب یہ جہنمّ کی آگ کو نہ اپنے سامنے سے ہٹاسکیں گے اور نہ پشت سے اور نہ ان کی کوئی مدد کی جاسکے گی. بلکہ یہ قیامت ان تک اچانک آجائے گی اور انہیں مبہوت کردے گی پھر یہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی.

Tafseer

									 2- " بل تأتيهم بغتة فتبهتهم" کا مفہوم : 
 اس کا معنی ہے عذاب الہی اچانک ان کی طرف آۓ گا ، "اور انہیں مبہوت کر دے گا"۔ 
 یہ جملہ ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ قیامت کے عذاب کی ہر چیز دنیا کے عذاب سے مختلف ہے۔ مثلًا جہنم کی آگ کے بارے میں یہ بیان کیا گیاہے :
  نارالله الموقدة التي تطلع على الافئدة 
  خدا کی روشن کی ہوئی آگ تو (ایسی ہے کہ جو) انسان کے دل میں جاکے لگے گی۔  ( ہمزه:  6 ــــــ 7) 
 یا یہ کہ جہنم کے ایندھن کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ :
  وقودها الناس والحجارة
  جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔   (بقرۃ ـــــــ 24)
 اس قسم کی تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ اچانک اور غفلت کی حالت میں آنے والی اور مبہوت کر دینے والی ہے۔