Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- جلد باز کو جلد بازی سے ممانعت

										
																									
								

Ayat No : 36-40

: الانبياء

وَإِذَا رَآكَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا الَّذِي يَذْكُرُ آلِهَتَكُمْ وَهُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ هُمْ كَافِرُونَ ۳۶خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ ۳۷وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۳۸لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُوا حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَنْ وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ۳۹بَلْ تَأْتِيهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ ۴۰

Translation

اور جب بھی یہ کفّار آپ کو دیکھتے ہیں تو اس بات کا مذاق اُڑاتے ہیں کہ یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے اور یہ لوگ خود تو رحمان کے ذکر سے انکار ہی کرنے والے ہیں. انسان کے خمیر میں عِجلت شامل ہوگئی ہے اور عنقریب ہم تمہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تو پھر تم لوگ جلدی نہیں کرو گے. اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ّ ہو تو اس وعدہ قیامت کا وقت آخر کب آئے گا. کاش یہ کافر یہ جانتے کہ وہ ایسا وقت ہوگا جب یہ جہنمّ کی آگ کو نہ اپنے سامنے سے ہٹاسکیں گے اور نہ پشت سے اور نہ ان کی کوئی مدد کی جاسکے گی. بلکہ یہ قیامت ان تک اچانک آجائے گی اور انہیں مبہوت کردے گی پھر یہ نہ اسے رد کرسکیں گے اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی.

Tafseer

									  چند اہم نکات :
 1- جلد باز کو جلد بازی سے ممانعت : 
 زیر بحث آیات پر توجہ کرتے ہوئے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر و انسان فطری طور پر جلد باز ہے تو پھر اسے جلد بازی سے منع کرتے ہوئے کیوں کہا گیا ہے : " فلاتستعجلون" 

(تم جلدی نہ کرو)۔ کیا یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں ۔
 ہم جواب میں کہیں گے کہ انسان کے ارادہ کے اختیار اور آزادی اور اس کی اخلاقی صفات ، خصوصیات اور جذبات وروحیات کے قابل تغیر ہونے کی طرف توجہ دیں تو واضح ہوگا 

کہ اس میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ تربیت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اس حالت کو بدلا جاسکتا ہے۔