Tafseer e Namoona

Topic

											

									  موت سب کے لیے ہے

										
																									
								

Ayat No : 34-35

: الانبياء

وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۖ أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ۳۴كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً ۖ وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ ۳۵

Translation

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لئے ہمیشگی نہیں قرار دی ہے تو کیا اگر آپ مرجائیں گے تو یہ لوگ ہمیشہ رہنے والے ہیں. ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے اور تم سب پلٹا کر ہماری ہی بارگاہ میں لائے جاؤ گے.

Tafseer

									  تفسیر
             موت سب کے لیے ہے
 گزشتہ آیات کے ایک حصہ میں بیان ہوا ہے کہ مشرکین پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کی تردید کے لیے ان کے انسان ہونے کو بہانہ بناتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا پیغمبرکو حتمی طور پر 

فرشتہ ہونا اور ہرقسم کے بشری عوارض سے خالی ہونا چاہیئے۔ 
 زیر بحث آیات ان کے کچھ اور اعتراضات کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے جو شاعرانہ سر و صدا بلند کر رکھی ہے ، ہمیشہ نہیں رہے گی اور 

اس کے مرنے سے سب کچھ ختم ہوجائے گا ۔ جیسا کہ سوره طور کی آیہ 30 میں بیان ہوا ہے:

 "خیر" تو تندرستی اور تونگری ہے اور "شر" بیماری اورفقروفاقہ ہے (یعنی یہ وہ تعبیر ہے کہ جسے میں نے قرآن جیسے انتخاب کیا ہے)۔ 
 یہاں ایک اہم سوال باقی رہ جاتا ہے کہ خدا بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے اور اصولی طور پر خدا کے بارے میں آزمائش کیا مفہوم رکھتی ہے؟
 اس سوال کا جراب ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ 155 کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں آزمائش ، تربیت کرنے کے معنی میں ہے۔ (اس 

موضوع کی مکمل تفصیل کا وہاں پر مطالعہ کریں)۔