2- آسمان محکم چھت ہے
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ۳۰وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ۳۱وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ ۳۲وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ۳۳
کیا ان کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ زمین و آسمان آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو الگ کیا ہے اور ہر جاندار کو پانی سے قرار دیا ہے پھر کیا یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے. اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو لے کر کسی طرف جھک نہ جائے اور پھر اس میں وسیع تر راستے قرار دیئے ہیں کہ اس طرح یہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں. اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنایا ہے اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے برابر اعراض کررہے ہیں. وہ وہی خدا ہے جس نے رات دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو پید اکیا ہے اور سب اپنے اپنے فلک میں تیر رہے ہیں.
2- آسمان محکم چھت ہے :
ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ "سماء" (آسمان) قرآن میں مختلف معانی کے لیے آیا ہے کبھی تو وہ زمین کی فضا یعنی ہوا کے اس ضخیم قشر کے معنی میں آیا ہے کہ جس نے کرہ
ارض کو چار طرف سے گھیرا ہوا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا اس آیت میں ہے۔ اس مقام پر فزکس کے ماہرین کی زبان سے اس عظیم چھت کی مضبوطی اور استحکام کے بارے میں مزید وضاحت بیان
کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
" فرانک آلن" جو فزکس کا استاد ہے، اس طرح لکھتا ہے :
و فضائی قشر (جو) کہ جو سطح زمین پر زندگی کی نگہبانی کرنے والی گیسوں سے مل کر
بنا ہواہے ، اس قدر ضخیم ہے کہ ہر ایک زرہ کی طرح ، زمین کو ، ایسے بیس ملین آسمانی پتھروں
کے شر سے کہ جو موت کا پیغام ہوتے ہیں اور جو 50 کلومیٹرفی سیکنڈ کی رفتار سے اس کے
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 یہ اقتباس المیزان سے لیا گیاہے۔
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ساتھ آکر ٹکراتے ہیں ، امان میں رکھ سکتا ہے
زمین کا فضائی قشر (جو) أن دوسرے کاموں کے علاوہ سطح زمین پر درجہ حرارت کو بھی زندگی کے لیے درکار حدود تک محفوظ رکھتاہے۔
اس کے علاوہ پانی اور پانی کے بخارات کے بہت ہی ضروری ذخیرے کو سمندروں سے خشکی کی طرف منتقل کرتا ہے کہ اگر ایسا ہواتا تمام براعظم شوردار ، خشک ، ناقابل زیست
زمین میں تبدیل ہوجاتے۔ اس طرح یوں کہنا چاہیئے کہ سمندر اور جو زمین، زمین کے لیے کنویں سے پانی کھینچنے والی چرخی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ان شہابوں میں سے بعض کا وزن کہ جو زمین کی طرف آتے ہیں ایک گرام کے ہزارویں حصے کی مقدار کے برابر ہوتا ہے لیکن حد سے زیادہ سرعت اور تیزی کی وجہ سے اس کی
قوت و طاقت ، ايٹمی ذرات کی طاقت سے برابر ہوتی ہے کہ جن سے تباہ کن بم تیار ہوتے ہیں اور ان شہابوں کا حجم بعض اوقات ریت کے ایک ذرہ سے زیادہ نہیں ہوتا۔
ان شہابوں میں سے کئی ملین شهاب ہر روز زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی جل جاتے ہیں یا بخارات میں تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن بعض اوقات بعض شهابوں کا حجم اس اوروزن اس قدر
زیادہ ہوتا ہے کہ وہ گیسوں کے قشر سے گزر کی سطح زمین کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔
منجمله ان شہابوں کے جو مذکورہ گیسوں سے نکل کر زمین تک پہنچے ایک بہت بڑا مشهور شهاب" سیبری" ہے کہ جو 1958 میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس کا قطر اتنا بڑا تھا کہ اس
نے تقر یا 40کلومیٹر زمین کو گھیرلیا تھا اور اس کے گرنے سے بہت سے نقصانات ہوۓ تھے۔
ایک اور شہاب وہ ہے کہ جو امریکہ میں "اریزونا" کے مقام پر گرا تھا کہ جس کا قطر ایک کیلومیٹر اور اس کی موٹائی بیس میٹرتھی۔ اس کے گرنے سے زمین میں گہرا شگاف پڑگیا تھا
اور اس کے پھٹنے سے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے شہاب پیدا ہوگئے تھے کہ جو دور دور جاگرے تھے۔
"کرسی مویسن لکھتا ہے : اگر وہ ہوا کہ جو زمین کو ہرطرف سے گھیرے ہوئے ہے ،
اس کی نسبت کہ جتنی اب ہے کچھ بھی کم اور پتلی ہوتی تو اجرام سماوی اور شہاب ثاقب کہ
جو روزانہ کئی ملین کی تعداد میں اس سے آٹکراتے ہیں اور اسی فضا کے اندر باہر ہی باہر منتشر
اورنابود ہو جاتے ہیں، ہمیشہ سطح زمین پر پہنچ جاتے اور اس کے گوشہ و کنار سے آٹکراتےرہتے ہیں
یہ اجرام فلکی چھ سے چالیس میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتے ہیں اور جس چیز سے بھی جا ٹکراتے ہیں
اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اس میں آگ بھڑکا دیتے ہیں۔
اگر ان اجرام سماوی کی حرکت اور تیزی اس سے کمتر ہوتی، جتنی کہ اب ہے ، مثلًا
وہ ایک گولی کی سرعت اور تیزی کے برابر ہوتی ، تو وہ سب کے سب سے زمین پر آگرتے
اور ان کی تباہی کا نتیجہ واضح ہے ، منجملہ ان کے اگر خود انسان ان اجرام سمادی کے چھوٹے
سے چھوٹے ٹکڑے کی زد میں آجاتا ، تو اس کی حرارت کی شدت کے باعث - کہ جو گولی
کی سرعت حرکت کی نسبت نوے گنا زیادہ ہے ، ٹکڑے ٹکڑےاور ریزہ ریزه ہوجاتا۔
زمین کو ہر طرف سے گھیرے ہوتے ہوا کی موٹائی اس قدر ہے کہ وہ سورج کی شعاعوں کو
صرف اتنی ہی مقدار میں کہ جتنی نباتات کی نشووناکے لیے ضروری ہے ، زمین کی طرف آنے
دیتی ہے اور تمام ضرر رساں جراثیم کو اسی فضا کے اندر نیست و نابود کردیتی ہے اور مفید
وٹامن پیدا کرتی ہے۔ ؎1
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 کتاب "راز آفرنیش انسان ص 34 تا 35 -