Tafseer e Namoona

Topic

											

									  1- "كل في فلك يسبحون" کا مفہوم

										
																									
								

Ayat No : 30-33

: الانبياء

أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ۖ وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۖ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ۳۰وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ۳۱وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ ۳۲وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ۳۳

Translation

کیا ان کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ زمین و آسمان آپس میں جڑے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو الگ کیا ہے اور ہر جاندار کو پانی سے قرار دیا ہے پھر کیا یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے. اور ہم نے زمین میں پہاڑ قرار دیئے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو لے کر کسی طرف جھک نہ جائے اور پھر اس میں وسیع تر راستے قرار دیئے ہیں کہ اس طرح یہ منزل مقصود تک پہنچ سکیں. اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح بنایا ہے اور یہ لوگ اس کی نشانیوں سے برابر اعراض کررہے ہیں. وہ وہی خدا ہے جس نے رات دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو پید اکیا ہے اور سب اپنے اپنے فلک میں تیر رہے ہیں.

Tafseer

									  چند اہم نکات 
 1- "كل في فلك يسبحون" کا مفہوم : 
 اس کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے مختلف بیانات دینے ہیں لیکن وہ بات کہ جو علم افلاک کے ماہرین کی مسلمہ تحقیقات سے اہم آہنگ ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں سورج 

کی برکت سے مراد یا تو حرکت دوری ہےکہ جو وہ خود اپنے گرد کرتا ہے بادہ حرکت ہے کہ جودہ نظام شمسی کے ہمراہ رکھتا ہے 
 اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ لفظ " كل" ممکن ہے چاند اور سورج کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح ستاروں کی ان بھی اشارہ ہوا کیونکہ کلمہ "لیل" (شب) سے یہی 

ظاہر ہوتا ہے۔
 بعض بزرگ مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ شب " اور " روز اور چاند اور سورج ( چاروں) کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رات تو زمین کا مخروطی سایہ ہی ہے ۔ نیز اس کا 

اپنا مدار بھی ہے ۔ اگر کوئی شخص کره زمین سے باہر دور سے اس کی طرف دیکھے تو وہ اس تاریک مخروطی سائے کو زمین کے گرد دائما اور ہمیشہ حرکت میں دیکھے گا اور اسی طرح سورج کی 

وہ روشنی کہ جو زمین پر ہوتی ہے اور سے دن کا ظہور ہوتا ہے ، اس ستون کی مانند ہے اور جو اس کرہ کے گرد  ہمیشہ نقل مکانی کرتا رہتا ہے ، لہذا رات اور دن بھی اپنے لیے ایک گردش اور ایک 

مکان رکھتے ہیں۔ ؎1
 یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سورج کی حرکت سے مراد ہمارے احساس میں اس کی حرکت ہے کیونکہ زمین پر کھڑے ہوکر دیکھنے والے کے لیے سورج اور چاند دونوں گردش 

میں ہیں۔