Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک نکتہ

										
																									
								

Ayat No : 16-18

: الانبياء

وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ۱۶لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لَاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۷بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ۱۸

Translation

اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشے کے لئے نہیں بنایا ہے. ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنی طرف ہی سے بنالیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہوتا. بلکہ ہم تو حق کو باطل کے سر پر دے مارتے ہیں اور اس کے دماغ کو کچل دیتے ہیں اور وہ تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور تمہارے لئے ویل ہے کہ تم ایسی بے ربط باتیں بیان کررہے ہو.

Tafseer

									  ایک نکتہ :
                مقصد خلقت : 
 مادیئین خلقت کے بارے میں کسی هدف و مقصد کے قائل نہیں ہیں ـــ کیونکہ وہ بے عقل و شعوراور بے هدف ومقصد ، طبیعت کو مبداء خلقت سمجھتے ہیں - لہذا وه پوری ہستی کے 

بے فائدہ اور فضول ہونے سے داعی ہیں ان کے برعکس فلاسفر الٰہی اور ادیان آسمانی کے پیروکار سب کے سب آفرنیش و خلقت کے لیے ایک اعلٰى مقصد کا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ عالم اور قادر 

حکیم مبداء سے یہ امر محال ہے کہ وہ کوئی کام بخیر هدف و مقصد کے انجام دے .
 اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ هدف و مقصد کیا ہے ؟
 بعض اوقات ہم خدا کے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے اس تو ہم میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ شاید خدا میں کوئی کمی تھی کہ عالم ہستی کی خلقت سے ، کہ جس میں سے ایک انسان بھی 

ہے ، اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔
 کیا وہ ہماری عبادت و پرستش کا محتاج ہے ؟ کیا وہ یہ چاہتا پہچانا جائے ، اس لیے اس نے مخلوق کو پیدا کیا ہے ، تاکہ وہ پہچانا جائے اوراس کی شناخت ہو ؟
 لیکن جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ ایک عظیم اشتباہ ہے کہ جو "خدا" کے  "خلق" پر قیاس کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ جبکہ صفات خدا کی شناخت اور معرفت کی بحث میں سب سے 

بڑی رکاوٹ یہی غلط قسم کا قیاس ہے ۔ لہذا اس بحث میں پہلی بنیاد یہ ہے کہ ہم یہ جائیں کہ وہ کسی چیز میں ہم سے مشابہت نہیں رکھتا۔
 ہم ہر نظر سے ایک محدود وجود ہیں اور اسی وجہ سے ہماری تمام کوششیں اپنی خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ پڑھے لکھے ہو 

جائیں اور ہماری علم کی کمی دور ہوجائے۔ کاروبار کے لیے جاتے ہیں تاکہ فقرو فاقہ اور ناداری کا
مقابلہ کرسکیں۔ فوج اور قوت مہیا کرتے ہیں تاکہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قدرت و طاقت کی کمی کی تلافی کریں۔ یہاں تک کہ معنوی مسائل اور تہذیب نفس اور مقامات روحانی کی سیر 

بھی ، خامیوں اور نقائص کو دور کرنے کی بھی کوششیں ہیں۔
 لیکن کیا وہ ہستی جو ہر لحاظ سے غیرمحدود ہے جس کا علم و قدرت اور قومیں بے انتہا نہیں، اور کسی لحاظ سے بھی جسم میں کوئی کمی نہیں ہے کیا یہ بات اس کے یہ کہنا معقول 

ہے کہ وہ کوئی کام اپنی کمی کو دور کرنے کے لیے کرے؟
 اس تجزیے سے یہ نتیجہ نکلا کہ ایک طرف تو آفرنیش وخلقت بے هدف و مقصد نہیں ہے اور دوسری طرف سے یہ ھدف و مقصد آفرید گار و خالق سے متعلق نہیں ہے۔
 تواب آسانی کے ساتھ یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ حتمًا اور بلاشک و شبہ یہ هدف و مقصد ایسی چیز ہے کہ جو خود ہمارے ہی ساتھ تعلق رکھتی ہے۔
 إس تمہید پرتوجہ کرتے ہوئے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ غرض خلقت ہمارے ہی تکامل و ارنقا اور بلندی کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے دوسرے لفظوں میں عالم ہستی ایک ایسی 

یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے علم کی تکمیل کے لیے بنائی گئی ہے۔
 تربیت کے لحاظ سے ایک ایسی یونیورسٹی ہے کہ جو ہمارے نفوس کی تہذیب کے لیے ہے ۔ 
 معنوی در آمدات کو کسب کرنے کے لیے یہ ایک تجارت خانہ ہے۔ 
 انسان کی طرح طرح کی ضروریات کی پیدائش کے لیے ایک زرخیز زمین ہے۔
 ہاں!
  الدنيا مزرعة الأخرة .. .. .. .. .. .. الدنيادار صدق لمن صدقها و 
  دارغني لمن تزود منها ودارموعظة لمن اتعظ منها 
  دنیا آخرت کی کھیتی ہے، دنیا سچائی کا گھر ہے جو اس سے سچ بولے، تو نگری کا گھر ہے 
  جو اس سے زاد راہ اور توشہ آخرت حاصل کرے اور وعظ ونصیحت کا گھر ہے جو اس سے 
  نصیحت حاصل کرے۔ ؎1
 یہ قافلہ عالم عدم سے چلا ہے اور مسلسل لامتناہی منزل کی طرف بڑھا چلا جارہا ہے۔
 قرآن مجید مختصر اور بہت معنی خیز اشارات کے ذریعہ مختلف آیات میں ، ایمان تو خلقت و آفرینشن میں هدف ومقصد کے اصل وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسری طرف اس 

ھدف و مقصد کو مشخص بھی کررہا ہے۔ 
 پہلے حصے میں کہتاہے :
  أيحسب الانسان ان يترك سدًى
  کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہمل پیدا کیا گیا ہے ، اور فضول چھوڑ دیا جائے گا۔ (قیامت - 32)
  افحسيتم انمالخلقنكم عبثًا وانكم الینالا ترجعون 
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    نہج البلاغہ کلمات قصار نمبر 131۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  کیاتم نے یہ خیال کرلیا ہے کہ ہم نے نہیں عبث اور فضول پیدا کیا ہے ، اورتم ہماری طرف 
  لوٹ کرنہ آؤ گے۔  (مومنوں  /  115)۔
  وماخلقنا السماوالارض وما بينهما باطلا ذالك ظن الذين كفروا 
  ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ باطل اور فضول پیدا نہیں کیا ہے
  یہ تو کافروں کا گمان ہے. (ص   /  27 )۔
 اور دوسرے حصہ میں کبھی تو آیات قرآن میں آفرنیش کا ھدف و مقصد خدا کی عبودیت اور بندگی کو قرار دیا ہے:
  وماخلقت الجن والانس الاليعبدون
  میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔       (ذاریات - 56)
 یہ بات واضح ہے کہ عبادت انسان کی مختلف جہات سے تربیت کا ایک مکتب ہے ۔ عبادت کا وسیع معنی ہے ، فرمان خدا کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ۔ اس لحاظ سے عبادت انسان 

کی روح کو گوناں گوں مراحل میں تکامل و ارتقاء بخشتی ہے۔ اس کی تفصیل ہم عبادات سے مربوط مختلف آیات کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں۔ 
 اور بھی کہتا ہے: خلقت کاهدف ومقصد آگاہی و بیداری اور تمہارے سے ایمان و اعتقاد کی تقویت ہے:
  الله الذي خلق سبع سماوات ومن الارض مثلهن يتنزل الأمر بينهن 
  لتعلموا ان الله على كل شي قدير 
  خدا وہی توہے کہ جس نے سات آسمان اور انہی کے مانند زمنیں پیدا کی ہیں، اس کا حکم ان
  میں جاری و ساری ہے ۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا تاکہ تم جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ (اطلاق -12)۔
 اور کبھی کہتا ہے کہ خلقت کا مقصد تمہارےحسن عمل کی آزمائش ہے : 
  الذي خلق الموت والحيوة ليبلوكم ايكم احسن عملًا 
  خدا وہی تو ہے کہ جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں حسن عمل کے میدان میں
  آزمائے اور تمهاری تربیت کرے۔   (ملک /  3 ) 
 مندرجہ بالا تینوں آیات میں سے ہر ایک انسانی وجود کی کسی ایک جہت ( آگاہی وایمان ، اخلاق اور عمل) کی طرف اشارہ کرتی ہے
 اورہرا ایک خلقت کے تکاملی و ارتقائی مقصد کو بیان کرتی ہے کہ جس کی بازگشت خود انسان طرف ہے۔
 اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ لفظ  "تکامل" آیات قرآن میں ان مباحث میں بیان نہیں ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ایک وارداتی فکر ہو۔  

لیکن اس اعتراض کا جواب واضح ہے کیونکہ ہم خاص الفاظ کی قید میں پابند نہیں ہیں اور مندرجہ بالا آیات میں تکامل کے مصادیق اچھی طرح روشن ہیں ۔ کیا علم و آگاہی اس کا واضح مصداق نہیں ہے 

اور اسی طرح عبودیت ، اور حسن عمل میں پیش رفت۔
 سوره محمد کی آیہ 17 میں بیان ہوا ہے :
  والذين اهتد وازادهم هدًی۔
  وہ لوگ کہ جو راہ ہدایت پر آگئے ، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کردیتا ہے۔ 
 کیا اضافہ کی تعبیر تکامل و ارتقاء کے علاوہ کوئی اور چیز ہے ؟
 یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر هدف و مقصد تکامل و ارتقاء ہی تھا تو پھر خدا نے انسان کو ابتداء میں ہی کیوں تمام جہات میں کامل پیدا نہ کر دیا تاکہ تکامل کے مراحل کو طے 

کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی؟
 اس اعتراض کی بنیاد اس نکتے سے غفلت ہے کہ تکامل کی اصلی شاخ " تکامل اختیاری" ہے۔ دوسرے لفظوں میں تکامل یہ ہے کہ انسان راتہ اپنے پاؤں اور اپنے اراده و اختیار سے 

طے کرے ۔ اگر اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی آگے لے جایا جائے تو یہ نہ باعث فخر ہے اور نہ ہی تکامل و ارتقاء مثلا اگر انسان ایک روپیہ اپنی خواہش اور اراده و اختیار کے ساتھ خرچ کرے تو اس 

نے اسی نسبت سے اخلاقی کمال کی راہ طے کی ہے۔ جبکہ اگر اس کی دولت میں سے لاکھوں روپے جبرًا چھین کر خرچ کر دیئے جائیں تو اس نے ایک قدم بھی اس راہ تکامل میں آگے نہیں بڑھایا ہے۔ 

لہذا قرآن مجید مختلف آیات میں یہ حقیقت کھول کربیان کی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگ جبری طور پر ایمان لے آئے ، لیکن اس ایمان کا ان کے لیے کوئی فائدی نہ ہوتا :
  ولو شاء ربك لامن من في الأرض كلهم جمیعًا ( یونس - 99)۔