آسمان و زمین کی خلقت کھیل نہیں ہے
وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ ۱۶لَوْ أَرَدْنَا أَنْ نَتَّخِذَ لَهْوًا لَاتَّخَذْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا إِنْ كُنَّا فَاعِلِينَ ۱۷بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ ۱۸
اور ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشے کے لئے نہیں بنایا ہے. ہم کھیل ہی بنانا چاہتے تو اپنی طرف ہی سے بنالیتے اگر ہمیں ایسا کرنا ہوتا. بلکہ ہم تو حق کو باطل کے سر پر دے مارتے ہیں اور اس کے دماغ کو کچل دیتے ہیں اور وہ تباہ و برباد ہوجاتا ہے اور تمہارے لئے ویل ہے کہ تم ایسی بے ربط باتیں بیان کررہے ہو.
تفسیر
آسمان و زمین کی خلقت کھیل نہیں ہے :
کہ گزشتہ آیات میں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ ظالم بے ایمان اپنی خلقت کے بارے میں سوائے عیش و عشرت کے کسی مقصد کے قائل نہیں تھے اور حقیقتًا اس جہان کوبے
مقصد خیال کرتے تھے ۔ قرآن مجید زیر بحث آیات میں اس طرز فکر کو باطل قرار دینے اور پوری کائنات خصوصًا انسانوں کی خلقت کے لیے گراں قدر مقصد ہونے کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے : ہم
نے آسمان و زمین جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے فضول اور بے ہودہ پیدا نہیں کیا ہے : ( وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما لاعبین)۔
یہ پھیلی ہوئی زمین یہ وسیع آسمان اور ان میں موجود یہ قسم قسم کی موجودات ،اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کوئی اہم مقصد پیش نظر تھا۔
ہاں! مقصد تھا اور وہ یہ تھا کہ ایک طرف تو وہ اس عظیم پیدا کرنے والے کے وجود کا ثبوت بنیں اور دوسری طرف سے "معاد کے لیے دلیل بنیں رونہ یہ سب شور و غل چند دن کے
لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔
کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان کسی بیابانی کے وسط میں تمام وسائل سے آراستہ و پیراستہ ایک محل بنائے ، صرف اس غرض سےکہ تمام عمر میں جو ایک گھنٹے کے لیے وہاں سے
گزرے گا، تو اس میں آرام کرے گا۔
مختصر یہ ہے کہ اگر ہم اس باعظمت جہان کو بے ایمان لوگوں کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ فضول اور بے مقصد ہے ، صرف مبداء و معاد پر ایمان ہی ہے کہ جواسے با مقصد بناتا ہے۔
بعد کی آیت کہتی ہے کہ اب جبکہ یہ بات مسلم ہوگئی کہ عالم بے مقصد نہیں ہے ، یہ بھی مسلم ہے کہ اس خلقت کا مقصد خدا کا خلقت کے کام میں سرگرم اور مشغول رہنا نہیں ہے
کیونکہ اسی سرگرمی اور مشغولیت غیرمعقول ہے " بفرض محال اگر ہم چاہتت کہ اپنے لیے کوئی سرگرمی ڈھونڈیں ، تو ایسی چیز کا انتخاب کرتے کہ جو ہمارے لیے مناسب ہوتی" (لو اردنا ان نتخذ
لهوا لاتخذناه من لدنا ان كنا فاعلين)۔
حقیقت میں لفظ "لعب" بے مقصد کام کے معنی میں ہے اور" لهو" تا معقول مقاصد اور سرگرمیوں کی طرف اشارہ ہے۔
زیر بحث آیت دوحقائق کو بیان کرتی ہے۔ اول تو لفظ "لو" کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو لغت عرب میں امتناع کے لیے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امر محال ہے کہ
پروردگار کا مقصد اپنے آپ کو مشغول رکھنا ہو۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے : فرض کریں کہ اگر مقصد مشغول رہنا ہو ، تو یہ سرگرمی اس کی ذات کے شایان شان ہونا چاہیئے عالم مجردات اور اسی قسم کی چیزوں میں سے ، نہ کہ
اس عالم سے کہ جو مادہ میں محدود ہے . ؎1
اس کے بعد قطی اور دو ٹوک الفاظ میں ان احمقوں کے اوہام کو باطل کرنے کے لیے کہ ہجودنیا کو بے مقصد صرف مشغول اور سرگرم رہنے کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، قرآن اس طرح
کہتا ہے : جہان ایک ایسا مجموعہ ہے کہ درحقیقت و واقعیت ہے ، یہ ایسا نہیں ہے کہ جس کی بنیاد باطل پہ ہو بلکہ ہم بحق کو باطل کے سر پر دے پٹکیں گے تاکہ اس سے نابود اور ہلاک کر دے اور
باطل محو و نابود ہوجائے: (بل نقذف بالحق على الباطل فيد منه فاذا هو زاهق)۔
اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ، لیکن تم پر وائے ہو ، اس توصیف پر، کہ جو تم عالم کے لیے بے مقصد ہونے کے بارے میں کرت ہو (ولكم الويل مماتصفون)۔
یعنی ہم ہمیشہ بے ہودگی کی طرف مائل لوگوں کے خیالات دادحام کے مقابلے میں عقلی دلائل. واضح استدلالات اور اپنے آشکار معجزات پیش کرتے ہیں تاکہ غور و فکر کرنے والوں
اور صاحبان عقل کی نظروں میں، یہ خیالات اوہام درہم برہم ہوجائیں۔
خدا کی معرفت سے دلائل روشن ہیں ۔ معادکےبرپا ہونے کے دلائل آشکار ہیں ۔ انبیا کی حقانیت سے برابین واضح ہیں۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 کچھ مفسرین نے زیر نظر آیات کو عیسائیوں کے عقائد کی نفی کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، یعنی لہو کو بیوی اور بیٹے کے معنی میں لیا ہے اورانہوں نے کہا ہے کہ آیت ان کے جواب میں
کہہ رہی ہے کہ اگر ہم چاہتے کہ بیٹا اور بیوی کا انتخاب کرتے، تو نوع انسانی میں سے انتخاب نہ کرتے
لیکن پر تفسیرکئی جہت سے مناسب نظر نہیں آتی ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ زیر بحث آیات کا ربط گزشتہ آیات سے منقطع ہوجائے گا اور دوسرا یہ کہ "لہو" خصوصًا جب " لعب"
کے بعد قرار پائے تو سرگرمی اور مشغولیت کے معنی میں ہوتا ہے ، نہ کہ بیوی بیٹے کے معنی میں۔
۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
اور درحقیقت ان لوگوں کے لیے کہ جو ہٹ دھرم اور بہانہ باز نہیں میں حق باطل سے کامل طور پر الگ اور نمایاں ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ "نقذفه " "قذف" کے مادہ سے پھینکنے کے معنی میں ہے ، خصوصًا دور سے پھینکنا اورچونکہ دور سے پھینکنا ،تیزی، سرعت اور زیادہ قوت رکھتاہے ، یہ
تعبیرحق کی باطل پر کامیابی کی قدرت کو بیان کرتی ہے۔ لفظ "علٰى" بھی اسی معنی کی تائید کرتا ہے کیونکہ عام طور پر محافظ "علو" اور بلندی کے مقام پر استعمال ہوتا ہے۔
"یدمنه" کا جملہ، راغب کے قول کے مطابق کو کھوپڑی کو توڑنے کے معنی میں ہے ، جو کہ انسانی بدن کا حساس ترین مقام شمار ہوتا ہے۔ یہ لشکر حق کے غالب ہونے کی عمدہ
تعبیر ہے۔ آنکھوں سے دکھائی دینے والا قطعی اور ظاہر بظاہر غلبہ۔
"اذا" کی تعبیر یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ایسی جگہ بھی کہ جہاں یہ توقع ہی نہ ہوکہ حق کامیاب ہوگا ، وہاں ہم ایسا انجام دیتے ہیں۔
"زاهق" کی تعبیر اس چیز کے معنی میں ہے کہ جو کلی طور پر مضمحل ہوجائے نیز اس مقصد کے لیے یہ بھی ایک تاکید ہے۔
اور یہ بات کہ "نقذف" اور " يدمغ" کے الفاظ فعل مضارع کی شکل میں کیوں آئے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ اس عمل کے استمرار ، تسلسل اور ہمیشگی کی دلیل ہے۔