Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ظالم عذاب کے چنگل میں کیسے گرفتار ہوئے؟

										
																									
								

Ayat No : 11-15

: الانبياء

وَكَمْ قَصَمْنَا مِنْ قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنْشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ ۱۱فَلَمَّا أَحَسُّوا بَأْسَنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَرْكُضُونَ ۱۲لَا تَرْكُضُوا وَارْجِعُوا إِلَىٰ مَا أُتْرِفْتُمْ فِيهِ وَمَسَاكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْأَلُونَ ۱۳قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ۱۴فَمَا زَالَتْ تِلْكَ دَعْوَاهُمْ حَتَّىٰ جَعَلْنَاهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ ۱۵

Translation

اور ہم نے کتنی ہی ظالم بستیوں کو تباہ کردیا اور ان کے بعد ان کی جگہ پر دوسری قوموں کو ایجاد کردیا. پھر جب ان لوگوں نے عذاب کی آہٹ محسوس کی تو اسے دیکھ کر بھاگنا شروع کردیا. ہم نے کہا کہ اب بھاگو نہیں اور اپنے گھروں کی طرف اور اپنے سامان عیش و عشرت کی طرف پلٹ کر جاؤ کہ تم سے اس کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے گی. ان لوگوں نے کہا کہ ہائے افسوس ہم واقعا ظالم تھے. اور یہ کہہ کر فریاد کرتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنا کر ان کے سارے جوش کو ٹھنڈا کردیا.

Tafseer

									  تفسیر
             ظالم عذاب کے چنگل میں کیسے گرفتار ہوئے؟
 زیربحث آیات میں ان باتوں کے بعد کہ جو ہٹ دھرم مشرکین اور کفار کے بارے میں گزریں ، قرآن گزشتہ قوموں کے انجام کے ساتھ ان سے انجام کا موازنہ کرکے واضح کرتا ہے:
 پہلے کہتا ہے : کتنی ظالم اور ستمگر آبادیاں ایسی تھیں کہ جنہیں ہم نے تہ و بالا کردیا (وكم قصنا من قرية كانت ظالمة)۔
 " اور ان کے بعد ایک دوسری قوم کو میدان آزمائش میں لے آئے" (وانشأ نا بعدها قوما أخرين)۔
 اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "قصم" شدت کے ساتھ توڑنے کے معنی میں ہے ، یہاں اس کہ بعض اوقات کرانے کے معنی میں آتا اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے 

کہ ان قوموں کے ظالم ہونے کا ذکر ہے ، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خدا ظالم و ستمگرقوموں کے بارے میں شدید ترین انتقام اور سزا وعذاب کا قائل ہے ۔
 ضمنی طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کروتو تم جان لوگے کہ پیغمبر اسلامؐ کی تہدیدیں بے بنیاد اور مذاق نہیں ہیں بلکہ وہ ایک 

تلخ حقیقت ہیں کی جس کے بارے میں تمہیں خوب غور و فکر کرنا چاہیے۔
 اب ان کے حالات کی تفصیل بیان کی گئی ہے جب کہ عذاب ان کی آ بادیوں کو آلیتا تھا ۔ خدائی عذاب سے مقابلہ میں ان کی بیچارگی واضح کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے ۔ جس وقت انہوں 

نے محسوس کیا کہ خدا کا عذاب انہیں دامن گیر ہوکے رہے گا تو انہوں نے فرار کی راہ اختیار کی: (فلما احسوا بأسنا اذا هم منها یركفون)۔
 ٹھیک ایک شکست خوردہ لشکر کی مانند جو دشمن کی برہنہ شمشیروں  کو اپنی پشت پر دیکھ کر اِدھر اُدھر بھاگ کھڑا ہو۔
 لیکن سرزنش کے عنوان سے انہیں کہا جائے گا : بھاگو نہیں ! اور اپنی ناز و نعمت سے پر زندگی اور زر و جواہرسے بھرے ہوئے مکانوں ، محلوں، بنگلوں کی طرف پلٹ آؤ شاید 

سائل آئیں اور تم سے سوال کریں: (لاتركفوا وارجعوا إلى ما أترفتم فيه ومسالئكم لعلكم تسئلون)۔
 یہ عبارت، ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہمیشہ ان کی پر ناز و نمعت زندگی میں سائل اور خیرات مانگنے والے ان کے 
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1    "ركض " کا معنی تیزی سے دوڑنابھی ہے اور سواری کر دوڑانا بھی ہے اور کبھی زمین پر پاؤں مارنے کے معنی میں بھی آتا ہے
 اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب 
 اے ایوب ! تم اپنا پاؤں زمین پر ماور (تو ایک چشمہ پھوٹ نکلے گا) کہ جو نہانے کے لیے بھی ہے اور پینے کیلیے بھی ۔ ( ص - 42)
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
گھروں کے دروازوں پر امید لے کر آتے تھے اور محروم ہوکر پلٹ جاتے تھے ۔ انہیں کہا گیا ہے کہ "پلٹ جاؤ اور انہیں نفرت انگیز مناظر کو پھر دہراؤ"۔
 حقیقت میں ایک قسم کا احترام کا استہزاء اور سرزنش ہے۔ 
 بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ " لعلكم تسئلون" ان کی جاہ و جلال کے دربار کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خود ایک گوشہ میں بیٹھے رہتے اور مسلسل فرمان جاری 

کرتے اور خدمت گار پے در پے ان کے پاس آتے ، اور پوچھتے  کہ حضور کیا حکم ہے۔
 باقہ رہا یہ کہ اس بات کا کہنے والا کون ہے ؟ تو یہ آیت میں صراحت کے ساتھ بیان میں کی گئی۔ 
 ممکن ہے کہ یہ ندا خدا کے فرشتوں یا انبیاء یا ان کے قاصدوں کی ہو یا خود انہی کے ضمیر اور وجدان کی آواز ہو۔
 حقیقت میں یہ خدا کی ندا ہی تھی کہ جو انہیں سنائی دے رہی تھی کہ : بھاگو نہیں؛ پلٹ آو! کہ جو ان تینوں میں سے کسی ایک ذریعہ سے ان تک پہنچ رہی تھی۔
 یہ بات خاص طور بھی قابل توجہ ہے کہ تمام مادی نعمتوں میں سے بیہاں خصوصیت کے ساتھ "مسکن" کی طرف اشارہ کیا گیا بے شاید یہ اس بنا پر ہو کہ انسان کے آرام و سکون کا 

پہلا وسیلہ ایک مناسب جائے سکونت کا ہونا ہے۔ اور یا یہ بات ہے کہ انسان عام طور پر اپنی زندگی کی بیشتر آمدنی اپنے مکان پرصرف کرتا ہے اور اسی کا زیادہ تر لگاو بھی اسی سے ہوتا ہے۔
 بہر حال وہ اس وقت بیدار ہوں گے اور جس چیز کو وہ پہلے مذاق سمجھتے تھے اسے سنجیدہ ترین صورت میں اپنے سامنے دیکھیں گے اور وہ چیخ اٹھیں گے اور کہیں گے وائے ہو 

ہم پر کہ ہم ظالم وستمگر تھے ( قالوا یا ويلنا اناكنا ظالمین)۔
 لیکن یہ اضطراری بیداری کہ جو عذاب حقیقی مناظر سامنے ہرشخص میں پیدا ہو جاتی ہے بے قدر و قیمت ہے اوراس سے ان کا انجام بدل نہیں سکتا لہذا قران آخری زیربحث آیت میں 

اضافہ کرتا ہے : اور وہ اس طرح اس بات کا کہ" وائے ہو ہم پر کہ ہم ظالم تھے"  تکرار کر رہے تھے کہ ہم نے ان کی جڑ کو کاٹ کر رکھ دیا اورانہیں خاموش کردیا (قما زالت تلك دعوٰهم حتى جعلناهم 

حصيدًا خامدین)۔
 کٹی ہوئی کھیتیوں ( حصيد) کی طرح زمین پر گریں گے اور ان کا آباد اور جوش و خروش سے پر شهر، ویران قبرستان اور خاموشی میں بدل جائے گا۔(خامدين)۔ ؎1  
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     "خامد" اصل میں "خمود" کے مادہ سے ( "جنود" کے وزن پر) آگ بجھ جانے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جائے گا کہ جس کا جوش و خروش ختم ہو جاۓ .