Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اہل ذکر کون ہیں ؟

										
																									
								

Ayat No : 6-10

: الانبياء

مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ ۶وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۷وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ۸ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ ۹لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۱۰

Translation

ان سے پہلے ہم نے جن بستیوں کو سرکشی کی بنا پر تباہ کر ڈالا وہ تو ایمان لائے نہیں یہ کیا ایمان لائیں گے. اور ہم نے آپ سے پہلے بھی جن رسولوں علیھ السّلامکو بھیجا ہے وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے-تو تم لوگ اگر نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرلو. اور ہم نے ان لوگوں کے لئے بھی کوئی ایسا جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتا ہو اور وہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے. پھر ہم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا. بیشک ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کی ہے جس میں خود تمہارا بھی ذکر ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے ہو.

Tafseer

									  اہل ذکر کون ہیں ؟
 اس میں شک نہیں کہ "اهل ذ كر" لغوي مفہوم کے لحاظ سے تمام آگاہ اور باخبر افراد کے لیے بولا جاتا ہے اور زیرنظر آیت " جاہل کے عالم کی طرف رہجوع کرنے "کے ایک کلی 

عقلی قانون کو بیان کررہی ہے۔ اگرچہ موقع کے لحاظ سے آیت کا مصداق علماء اہل لكتاب ہی تھے ، لیکن سے بات قانون کی کلیات میں مانع نہیں ہے۔
 اسی بنا پر علما اور فقہائے اسلام نے اس آیت سے "مجتہدین اسلام کی تقلید کرنے کے جواز کے" مسئلہ میں استدلال کیا ہے۔
 اور اگرہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان روایات میں ، کہ جو اہل بیتؑ کی طرف سے ہم تک پہنچی ہیں ، اہل ذکرکی علی علیه السلام کا تمام آئماطبیت سے تفسیرکی گئی ہے تو منحصر ہونے کے 

معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اس قانون کلی کے واضح ترین مصادیق کا بیان ہے۔
 اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے سورہ نحل کی آیہ 43 تفسیر کامطالعہ فرمائیں ۔ 
 بعد والی آیت انبیاء کے بشر ہونے کے سلسلے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے ، ہم نے پیغمبروں کو ایسے جسم نہیں دیئے تھے کہ جو کھانانہ کھاتے ہوں اور وہ ہرگز عمر 

جاوداں بھی نہیں رکھتے تھے۔ ( وماجعلناهم جدًا لا يأكلون الطعام وما و كانوا خالدين)۔ 
 "لا يأكلون الطعام" کا جملہ اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ جو قرآن میں دوسرے مقام پر اسی اعتراض کے سلسلے میں 
  وقالوا مالهذا الرسول يأكل الطعام ويمشي في الاسواق۔
  انہوں نے کہا یہ پیغمبر کھانا کیوں کھاتا ہے اور بازاروں میں کیوں چلتا پھرتا ہے . (فرقان / 70)۔
 "ماكانوا خالدين" کا جملہ بھی اسی معنی کی ایک تکمیل ہے ۔ کیونکہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ بشر کی بجائے اگرچہ فرشتہ بھیجاجاتا تواچھا تھا۔ ایسا فرشته جو عمر جادوان رکھتا ہوتا 

اور اسے موت نہ آتی کی ۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے ۔ گزشتہ انبیاء میں سے کوئی بھی عمر جاودانی نہیں رکھتا تھا پیغمبر اسلام کے بارے میں بات کی جاۓ۔
 بہرحال جیسا کہ ہم نے بارہا بیان کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسانوں کے رہبر کو انہیں کی نوع میں سے ہونا چاہیئے ،نہ ہی اغراض ، احساسات ، جذبات ، احتیاجات اور علائق کے 

ساتھ تاکہ وہ ان کے درد اور تکالیف محسوس کرے ۔ اور علاج کا بہترین طریقه اپنی تعلیمات کے نور سے پیش کرے تاکہ وہ تمام انسانوں کے لیے نمونہ اور ایسا اسوہ بنے اور سب پر حجت تمام 

کرے۔
 اس کے بعد سخت اور ہٹ دھرم منکرین کو تنبیہ اور خبرار کرنے کے عنوان سے قرآن اس طرح کہتا ہے :ہم نے اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا تاکہ ہم انہیں دشمنوں کے چنگل سے 

رہائی بخشیں گے اور ان کے دور کے اصولوں کو خاک میں ملا دیں گے۔ ہاں آخر کارٍ ہم نے اپنے اس وعدہ کو پورا کیا اور ان کی صداقت کو آشکار کیا انہیں اور ان تمام لوگوں کو کہ جنہیں ہم چاہتے 

تھے نجات دی اور زیادی کرنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا ، (ثم صدقنا هم الوعد فانجينا هم ومن نشاء واهلكنا المسرفين)۔
 ہاں ! جس طرح افراد بشرمیں سے وہبران بشر کومنتخب کرنا ہماری سنت تھی یہ بھی ہماری سنت تھی کہ ہم مخالفین کی سازشوں کے مقابلے میں ان کی حمایت کریں اور اگر پے در 

پے پند و نصائح ان پر اثرانداز نہ ہوں تو صفحہ زمین کو ان کے وجودکی گندگی سے پاک کر دیں۔ 
 یہ بات صاف ظاہر ہے کہ " ومن نشه" ( اور جسے ہم چاہیں) سے مراد ایسا چاہنا ہے کہ جوایمان اور عمل صالح کے معیار پر پورا اترے اور یہ بھی واضح ہے کہ " مرفین" سے ہاں 

ایسے لوگ مراد ہیں کہ جنہوں نے اپنے بارے میں اور معاشرے کے بارے میں کہ جس میں وہ زندگی بسر کرتے تھے ، اسراف کیا ہے۔ آیات خداوندی کا انکار کرکے اور پیغمبروں کو جھٹلاکر
  اس لیے قرآن میں ایک دوسری جگہ پر بیان ہواہے کہ:
  كذالك حقا علينا ننجي المؤمنين
  اسی طرح سے ہم پر حق اور ضروری تھا کہ ہم مومنین کو نجات دریں. (یونس ۔ 103)
  آخری زیر بحث آیت میں ایک مختصر اور پرمعنی جبلے میں مشرکین کے اکثراعتراضات کا نئے سرے سے جواب دیتے ہوئے فرمایاگیاہے : ہم نے تم پر ایسی کتاب نازل کی ہے کہ 

جس میں تماری بیداری کا وسیلہ موجود ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے (ولقد انزلنا الیكم كتابًا فيه ذكر كم افلا تعقلون)۔
 جو شخص اس کتاب کی آیات کا مطالع کرے جو معاشرے کے لیے تذکر اور دل کی بیداری اور فکر و نظر کے تحرک اور پاکیزگی کا موجب ہیں، تو وہ اچھی طرح سے جان لے گا کہ 

یہ ایک واضح اور جادوانی معجزہ ہے ۔ اس آشکار معجزے کے ہوتے ہوئے کہ جس میں مختلف جہات سے اعجاز کے آثار نمایاں ہیں، (انتہائی زیادہ قوت جاذبہ کی جہت سے مضامین کی جہت سے 

احکام و قوانین کی جہات سے اور عقائد و معارف وغیرہ کی جہت سے) کیا پھر بھی کسی دوسرے معجزے کی انتظار میں ہو ؟ اس سے بہتر اورکونسا معجزه پیغمبراسلامؐ کی دعوت کی حقانیت کو 

ثابت کر سکتا ہے؟
   ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 اس سے قطع نظر، اس کتاب کی آیات پکار پکار کہہ رہی ہیں کہ یہ جادو نہیں ہے ، حقیقت و واقعیت ہے اور اس کی تعلیمات جاذب و پر معنی ہیں کیا پھر بھی یہی کہتے ہو کہ یہ جادو 

 ہے؟ 
 کیا ان آیات کی طرف " اضغاث احلام" کی نسبت دی جا سکتی ہے ؟ بے معنی اور پریشان خواب کہاں اور یہ موزوں اور ایک دوسرے سے مربوط باتیں کہاں ؟
 کیا اسے جھوٹ اور افترا شمار کیا جاسکتا ہے، جب کہ سچائی کے آثار اس کے ہر مقام سے نمایاں ہیں۔ 
 اور کیا اسے لانے شاعر ہوسکتا ہے جبکہ شعر تخیل کے محور کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس کتاب کی تمام آیات حقیقتوں پرمنبی ہیں۔
 مختصر یہ کہ اس کتاب میں غور و فکر کرنے اور اس کا مطالعہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ نسبتیں کہ وہ ایک دوسرے کی ضد اور تقیض ہیں ایسے پیوند ہیں کہ جو ہم 

رنگ نہیں ہیں اور ایسی باتیں ہیں کہ جو احمقانہ ہیں۔
 یہ بات کہ زیر بحث آیت میں " ذ كركم" کس معنی میں ہے اس بارے میں مفسرین کے بیانات مختلف ہیں۔
 بعض نے تو کہا کہ اس سے مراد ہے کہ قرآن کی بات تمہارے لیے نصیحت اور افکارو اذہان کی بیداری کا سبب ہیں۔ 
 جیسا کہ ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے:
  فذكر بالقران من یخاف وعید 
  اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو کہ جو خدائی عذاب اور سزا سے ڈرتے ہیں نصیحت کرو
  اوریاد دہانی کراؤ۔   ( ق - 45) 
 بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے نام اور شہرت کو دنیا میں بلند کرے گا یعنی ہماری عزت و شرف کا باعث ہے۔ تم مومنین و مسلمین کی یا تم قوم 

عرب کی کیونکہ قرآن تمہاری زبان میں نازل ہوا ہے۔ اور اگر یہ تم سے لے لیا جائے تو تمارا دنیا میں نام و نشان تک باقی نہ رہے۔
 بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ اس قرآن میں وہ تمام چیزیں موجود ہیں کہ جو تمھارے دین و دنیا کے لیے ضروری ہیں اور یا مرکارم اخلاق کے سلسلہ میں جن 

کے تم محتاج ہو ، ان سب کے لیے یاددہانی کرائی گئی ہے۔
 اگرچہ یہ تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں اور ممکن ہے کہ یہ سب کی سب " ذ كركم" کی تفسیر میں جمع ہوں ، تاہم پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
 اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ قرآن بیداری کا سبب کس طرح ہے جبکہ بہت سے مشرکین نے اسے سنا لیکن وہ بیدار نہیں ہوئے ، تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ قرآن کا بیدار 

کرنے والا ہونا ، جبری اور اضطراری پہلو نہیں رکھتا بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ انسان خود چاہتا ہو اور وہ اپنے دل کے دریچے اس کے سامنے کھول دے۔