تمام پیغمبر نوع بشر میں سے تھے
مَا آمَنَتْ قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا ۖ أَفَهُمْ يُؤْمِنُونَ ۶وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۖ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۷وَمَا جَعَلْنَاهُمْ جَسَدًا لَا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَالِدِينَ ۸ثُمَّ صَدَقْنَاهُمُ الْوَعْدَ فَأَنْجَيْنَاهُمْ وَمَنْ نَشَاءُ وَأَهْلَكْنَا الْمُسْرِفِينَ ۹لَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ۱۰
ان سے پہلے ہم نے جن بستیوں کو سرکشی کی بنا پر تباہ کر ڈالا وہ تو ایمان لائے نہیں یہ کیا ایمان لائیں گے. اور ہم نے آپ سے پہلے بھی جن رسولوں علیھ السّلامکو بھیجا ہے وہ سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے-تو تم لوگ اگر نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرلو. اور ہم نے ان لوگوں کے لئے بھی کوئی ایسا جسم نہیں بنایا تھا جو کھانا نہ کھاتا ہو اور وہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں تھے. پھر ہم نے ان کے وعدہ کو سچ کر دکھایا اور انہیں اور ان کے ساتھ جن کو چاہا بچالیا اور زیادتی کرنے والوں کو تباہ و برباد کردیا. بیشک ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کی ہے جس میں خود تمہارا بھی ذکر ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے ہو.
تفسیر
تمام پیغمبر نوع بشر میں سے تھے :
گزشتہ آیات میں دشمنان اسلام کی طرف سے ایسے چھ اعتراضات کا ذکر تھا کہ جوایک دوسرے کی ضد اور نقیض ہیں ۔زیربحث آیات انہیں کا جواب دے رہی ہیں۔ ان
میں کبھی کلی صورت میں اور کبھی کسی خاص مسئلے کے اعتبار سے جواب دیا گیا ۔
پہلی زیر بحث آیت ان کے من پسند مجزات طلب کرنے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اورکہتی ہے ، تمام شہر اور آبادیاں کہ جنہیں ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے ،
انہوں نے کبھی اسی قسم کے معمولات کا تقاضا کیا تھا لیکن جب ان کے مطالبات پورے کر دیئے گئے تو وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو کیا یہ ایمان لے آئیں گے ( ما أمنت قبل من قرية اهلكناها
افھم یؤمنون)۔
اس ضمن میں انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اقتراحی مجرات کے سلسلے میں تمہارے تقاضے کو پورا کر دیا جائے اور پھر بھی تم ایمان نہ لاؤ ، توتمهاری تباہی و
نابودی حتمی و لایقیقنی ہوجائے گی۔
۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 من پسندی سے معجزات کو اصطلاح میں "اقتراحی معجزات" کہتے ہیں۔ اور معجزات کا تقاضا درحقیقت بہانہ سازی کے طور پر تھا۔
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
آیت کی تفسیر میں یہ احتمال میں موجود ہے کہ قرآن اس آیت میں ان کے تمام ایسے اعتراضات کی طرف کر ایک دوسرے کی ضد اورنقیض ہیں ، اشارہ کرتے ہوئے یہ
کہتا ہے کہ : سچے پیغمبروں کی دعوت کے سلسلے میں اس طرح کی ٹکر کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہٹ دھرم) اور ضد افراد ہمیشہ ہی اسی قسم کے بہانوں کو وسیلہ بنایا کرتے تھے اور
آخر کار ان کا انجام بھی سوائے کرکے اور اس کے بعد ان کی ہلاکت اور درد ناک عذاب الہی کے اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔
بعد والی آیت ان کے سب سے پہلے اعتراض کا خصوصیت سے جواب دےرہی ہے، یہ اعتراض پیغمبر کے بشر ہونے کے سلسلے میں تھا۔ آیت کہتی ہے تو ہی نہیں
کہ جو پیغمبرؐ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہے بلکہ تمام کے تمام پیغمبر جو تجھ سے پہلے آئے ہیں وہ سب کے سب مرد ہی توتھے کہ جو کی طرف ہم وحی کیا کرتے تھے (وما ارسلنا
قبلك الارجالأنوی الیهم)۔
یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ جسے سب لوگ جانتے ہیں اور اس سے آگاہ ہیں "اور اگرتم نہیں جانتے ، تو جو آگاه ہیں ان سے پوچھ لو " ( فاسئلوا أهل الذكران كنتم
لا تعلمون)۔