ایک نکتہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ۱مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ۲لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ ۳قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۴بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ ۵
لوگوں کے لئے حساب کا وقت آپہنچا ہے اور وہ ابھی غفلت ہی میں پڑے ہوئے ہیں اور کنارہ کشی کئے جارہے ہیں. ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاد دہانی نہیں آتی مگر یہ کہ کان لگا کر سوُ لیتے ہیں اور پھر کھیل تماشے میں لگ جاتے ہیں. ان کے دل بالکل غافل ہوگئے ہیں اور یہ ظالم اس طرح آپس میں راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے ہیں کہ یہ بھی تو تمہارے ہی طرح کے ایک انسان ہیں کیا تم دیدہ و دانستہ ان کے جادو کے چکر میں آرہے ہو. تو پیغمبر نے جواب دیا کہ میرا پروردگار آسمان و زمین کی تمام باتوں کو جانتا ہے وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے. بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو سب خواب ه پریشاں کا مجموعہ ہے بلکہ یہ خود پیغمبر کی طرف سے افترائ ہے بلکہ یہ شاعر ہیں اور شاعری کررہے ہیں ورنہ ایسی نشانی لے کر آتے جیسی نشانی لے کر پہلے پیغمبر علیھ السّلامبھیجے گئے تھے.
ایک نکتہ :
کیا قرآن حادث ہے؟
بعض مفسرین نے ان آیات کے ذیل میں لفظ "محدث" کی مناسبت سے کہ جو دوسری زیر بحث آیت میں ہے " کلام اللہ" کے حادث یا قدیم ہونے کے بارے میں بہت بحث
کی ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے کہ
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 "اضغاث" جمع "ضغث" ( بروزن "حرص " خشک لکڑیوں یا گھاس وغیرہ کے گٹھے کے معنی میں ہے .
؎2 "احلام" جمع ہے "حلم" کی (بروزن " نہم") خواب اور دریا کے معنی میں اور چونکہ لکڑی وغیرہ کے گٹھوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بکھری ہوئی چیزوں کو ایک دوسرے کے
اوپر رکھتے ہیں اس لیے اس تعبیر کا خواب پریشان پر بھی اطلاق ہوا ہے۔
۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
جو خلفاء بنی عباس کے زمانہ میں سالہا سال تک بحث و تنقید کا موضوع بنا رہا اور جس نے ایک طویل مدت تک بہت سے علما کو الجھائے رکھا۔
لیکن ہم موجودہ زمانہ میں اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ بحث زیادہ تر سیاسی پہلو رکھتی تھی۔ حکمران چاہتے تھے کہ علمائے اسلام اور آپس میں الجھائے رکھیں
اور اصول اور بنیادی مسائل کی جو وضع حکومت اور لوگوں کے طرز زندگی اور اسلام کے اصلی حقائق سے تعلق رکھتے ہیں ، سے توجہ ہٹائے رکھیں۔
موجودہ زمانے میں ہمارے لیے یہ بات پورے طور پر واضح ہے کہ اگر " کلام اللہ" سے مراد اس کا معنی و مفہوم ہے ، تو قطعی طور پر قدیم ہے یعنی ہمیشہ وہ علم
خدا تھا اور خدا کاعلم ہمیشہ سے اس پر محیط ہے۔
اور اگر اس سے مراد یہ الفاظ اور یہ کلمات اور یہ وحی ہے کہ جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی تو وہ بلاشک وشبہ "حادث" ہے۔
کون عاقل یہ کہتا ہے کہ الفاظ و کلمات ازلی ہیں ، یا پیغمبر پر وحی کا نزول دور بعث کے آغاز سے نہیں ہوا ؟ لہذا آپ ملاحظہ کریں گے کہ ہم بحث کو جس طرف
سے بھی لیں مسئلہ روز روشن کی طرح واضح ہے۔
دوسرے الفاظ میں قرآن الفاظ بھی رکھتا ہے اور معانی بھی۔ اس کہ الفاظ القطعًا ویقينًا "حاوث" ہیں اور اس کے معانی قطعًا و یقینًا " قدیم" ہیں ۔ لہذا کھینچا تانی اور بحث
ومباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔
اور پھر یہ بحث اسلامی معاشرے کی کونسی علمی ۔ معاشرتی ۔ سیاسی اور اخلاقی مشکل کو حل کرتی ہے۔ حیرت ہے کہ بعض گزشتہ علماء نے مکار اور سازشی حکام
اور بادشاہوں کی فریب کاریوں سے دھوکا کیوں کھایا۔
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آئمہ اہل بیت نے اس مسئلے پرگفتگو کرتے ہوئے واضح اور عملی طور پر انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ اس قسم کی بحثوں سے پرہیز کریں۔
؎1
۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 نورالثقلين ، جلد 3 - ص 412 ۔ بحوالہ احتجاج طبرسی۔