سورہ انبیاء / آیه 1 - 5
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ ۱مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ إِلَّا اسْتَمَعُوهُ وَهُمْ يَلْعَبُونَ ۲لَاهِيَةً قُلُوبُهُمْ ۗ وَأَسَرُّوا النَّجْوَى الَّذِينَ ظَلَمُوا هَلْ هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ۖ أَفَتَأْتُونَ السِّحْرَ وَأَنْتُمْ تُبْصِرُونَ ۳قَالَ رَبِّي يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۴بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ ۵
لوگوں کے لئے حساب کا وقت آپہنچا ہے اور وہ ابھی غفلت ہی میں پڑے ہوئے ہیں اور کنارہ کشی کئے جارہے ہیں. ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نئی یاد دہانی نہیں آتی مگر یہ کہ کان لگا کر سوُ لیتے ہیں اور پھر کھیل تماشے میں لگ جاتے ہیں. ان کے دل بالکل غافل ہوگئے ہیں اور یہ ظالم اس طرح آپس میں راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے ہیں کہ یہ بھی تو تمہارے ہی طرح کے ایک انسان ہیں کیا تم دیدہ و دانستہ ان کے جادو کے چکر میں آرہے ہو. تو پیغمبر نے جواب دیا کہ میرا پروردگار آسمان و زمین کی تمام باتوں کو جانتا ہے وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے. بلکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو سب خواب ه پریشاں کا مجموعہ ہے بلکہ یہ خود پیغمبر کی طرف سے افترائ ہے بلکہ یہ شاعر ہیں اور شاعری کررہے ہیں ورنہ ایسی نشانی لے کر آتے جیسی نشانی لے کر پہلے پیغمبر علیھ السّلامبھیجے گئے تھے.
(1) اِقْتَـرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُـهُـمْ وَهُـمْ فِىْ غَفْلَـةٍ مُّعْرِضُوْنَ
(2) مَا يَاْتِـيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَهُـمْ يَلْعَبُوْنَ
(3) لَاهِيَةً قُلُوْبُـهُـمْ ۗ وَاَسَرُّوا النَّجْوَى الَّـذِيْنَ ظَلَمُوْا هَلْ هٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ ۖ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَاَنْتُـمْ تُبْصِرُوْنَ
(4) قَالَ رَبِّىْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِى السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ ۖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْـمُ
(5) بَلْ قَالُـوٓا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ بَلِ افْتَـرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌۚ فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَآ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ
ترجمہ
مهربان بخشنے والے خدا کے نام سے
(1) ان لوگوں کا حساب کتاب ان کے نزدیک آ چکا ہے لیکن وہ غفلت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
(2) جو کوئی بھی اسی نئی نصیحت ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس آتی ہے وہ اسے کھیل سمجھتے ہیں اور مذاق اڑانےکے انداز میں اسے سنتے ہیں۔
(3) (حالت یہ ہے کہ) ان کے دل کھیل اور بے خبری میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ ظالم چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے ہیں ۔(اور کہتے ہیں) کیا اس کے سوا کچھ
اور بات ہے کہ یہ تم ہی جیسا ایک بشرہے ؛ کیا دیکھتے بھالتے جادو کے پاس جاتے ہو؟
(4) (لیکن پیغمبر نے) کہا : میرے پروردگار آسمان اور زمین کی ہر بات جانتا ہے اور وہ (بڑا) سننے والا اور جاننے والا ہے۔
(5) انہوں نے کہا (جو کچھ محمد لایا ہے یہ وحی نہیں ہے بلکہ) یہ پریشان خواب و خیال میں بلکہ اس نے دل سے جھوٹ گھڑ دیا ہے۔ بلکہ وہ ایک شاعر ہے۔( اگر وہ
سچاہے )تو ہمارے لیے ایسایی ایک معجزہ لے آۓ جیسے معجزے پہلے انبیاء کو دے کر بھیجا گیا تھا۔